گرے لسٹ، پاکستان کو 15 ماہ کی مہلت مل گئی، 27 خامیوں کی نشاندہی

گرے لسٹ، پاکستان کو 15 ماہ کی مہلت مل گئی، 27 خامیوں کی نشاندہی
گرے لسٹ، پاکستان کو 15 ماہ کی مہلت مل گئی، 27 خامیوں کی نشاندہی

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر خزانہ اسد عمر نے سینیٹ اجلاس میں بتایا ایف اے ٹی ایف نے 27 نشاندیاں کیں اور 15 ماہ کی مہلت دی ہے،اسد عمر نے کہا کہ جو 27 نشاندہی کی گئیں ہیں ان میں سے ہنڈی کا کاربار، منی لانڈرنگ اور کالعدم تنظیموں کیخلاف اقدامات اورٹیرر فنانسنگ پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے، یہ نشاندہی پاکستان کے مفاد میں ہیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق قائم مقام چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان کا ایف اے ٹی ایف کے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کادورہ کرکے خاموشی سے چلی گئی ، ٹیم نے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے کیا عندیہ دیا ہے؟

اسکے جواب میں اسد عمر نے کہاایف اے ٹی ایف سنجیدہ معاملہ ہے پاکستان ماضی میں بھی 2 بار ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جاچکا ہے، ایف اے ٹی ایف ٹیم کا اگست میں پاکستان کا دورہ گرے لسٹ کے حوالے سے نہیں معمول کی کارکردگی جانچنے کیلئے تھا،وفد کا دورہ ہر 5 سال بعد ہوتا ہے، پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے معاملے کا ہر3 ماہ بعد جائزہ لیا جاتا ہے ،اسد عمر نے کہا ایف اے ٹی ایف نے 27 نشاندہیاں کی ہیں جن میں سے ہنڈی کا کاربار،منی لانڈرنگ اور کالعدم تنظیموں کیخلاف اقدمات اورٹیرر فنانسنگ پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے، نشاندہی پاکستان کے مفاد میں ہیں، کوئی وجہ نہیں ہم ستمبر 2019 تک ایف اے ٹی ایف کی چیزیں پوری نہیں کرلیتے، ایف اے ٹی ایف کے اگلے اجلاس سے پہلے ٹھوس فیصلے کرنے ہونگے، اس مقصد کیلئے وزیرخزانہ کی سربراہی میں نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کا پہلا باضابطہ اجلاس8 ستمبر کو بلایا گیا ۔

مزید :

قومی -