جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے آدمی ایسا کام کر بیٹھا کہ کڈنی ہی کام کرنا چھوڑ گئی، یہ کیسے ممکن ہے؟ جان کر ہی انسان کانپ اُٹھے

جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے آدمی ایسا کام کر بیٹھا کہ کڈنی ہی کام کرنا چھوڑ گئی، ...
جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے آدمی ایسا کام کر بیٹھا کہ کڈنی ہی کام کرنا چھوڑ گئی، یہ کیسے ممکن ہے؟ جان کر ہی انسان کانپ اُٹھے

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی معاشروں میں جنسی بے راہ روی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے جہاں جنسی لذت کے لیے جسمانی و نفسیاتی تشدد کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اب اس طریقے سے جنسی لذت حاصل کرنے والے ایک جرمن شخص کے متعلق ایسی خبر سامنے آ گئی ہے کہ سن کر ہی آدمی کانپ اٹھے۔ میل آن لائن کے مطابق اس شخص نے تشدد کے ذریعے جنسی تسکین پہنچانے والی ایک خاتون کی خدمات حاصل کیں جس نے اسے لکڑی کے ایک بنچ پر اوندھے منہ باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کے گردے ہی فیل ہو گئے۔

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والے اس عبرتناک واقعے میں بتایا گیا ہے کہ خاتون نے اس شخص کو برہنہ حالت میں لکڑی کی بنچ پر باندھ کر ایک ہزار بار چھڑی سے مارا جس سے اس کو جسمانی زخم بھی آئے۔ ایسی صورت میں اس طرح کے بنچ استعمال کیے جانے ہیں جن کے اوپر صوفہ لگا ہو لیکن اس خاتون نے صرف لکڑی کا بنچ استعمال کیا۔ لکڑی کے ننگے بنچ اور تشدد کی زیادتی کی وجہ سے اس کے گردوں پر شدید دباؤ پڑا ، جس سے وہ ناکارہ ہو گئے۔تین دن تک اس شخص کو پیشاب نہیں آیا اور وہ ہسپتال میں رہا جہاں اس کا ڈائیلسز کیا گیا۔ اس کا علاج کرنے والے ڈاکٹر فیبیان ایکتردیک کا کہنا تھا کہ’’ اگر پھر اس کے گردوں نے کام چھوڑ دیا اور اسے پیشاب میں رکاوٹ ہوئی تو اس کا دوبارہ ڈائیلسز کرنا پڑے گا۔‘‘

مزید :

ڈیلی بائیٹس -