وہ ایک جگہ جہاں پر آپ کو موبائل فون کبھی غلطی سے بھی نہیں رکھنا چاہیے

وہ ایک جگہ جہاں پر آپ کو موبائل فون کبھی غلطی سے بھی نہیں رکھنا چاہیے
وہ ایک جگہ جہاں پر آپ کو موبائل فون کبھی غلطی سے بھی نہیں رکھنا چاہیے

  

بوسٹن(نیوز ڈیسک)موبائل فون ہماری زندگی کا ایسا لازمی حصہ بن گیا ہے کہ ہم اسے خود سے الگ کر ہی نہیں پاتے۔ سچ پوچھیں تو یوں لگتا ہے گویا یہ ہمارے جسم کا ہی ایک عضو بن گیا ہے جسے خود سے علیحدہ کرنے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ اسے ہر وقت پاس رکھنا تو ایک مسئلہ ہے لیکن اسے پتلون کی جیب میں رکھنا اُس سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا موبائل فون وائر لیس نیٹ ورک سے مسلسل برقناطیسی لہروں کے ذریعے رابطے میں رہتا ہے جس کے باعث جسم میں داخل ہونے والی برقناطیسی توانائی محفوظ لیول سے دو سے سات گناہ زیادہ ہو جاتی ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس ضمن میں متعدد تحقیقات کی جا چکی ہیں، جن میں سے بعض میں موبائل فون کی لہروں اور مختلف اقسام کی رسولیوں کے درمیان تعلق کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ خدشات بھی ظاہر کئے گئے ہیں کہ ان لہروں کی وجہ سے انسانی ڈی این اے کی ساخت میں تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دل کی بیماری اور بانچھ پن جیسے مسائل بھی موبائل فون کی لہروں کی وجہ سے پیدا ہوسکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ آپ اپنے موبائل فون کو شرٹ کی جیب میں رکھیں ، یا پتلون کی اگلی یا پچھلی جیب میں، ہر صورت میں آپ کے جسم میں یہ مضر صحت لہریں داخل ہوتی رہتی ہیں۔ پچھلی جیب میں موبائل فون رکھنے والوں کو کمر کی درد کے مسائل کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ پتلون کی اگلی جیب میں موبائل فون رکھنے والوں کو بانجھ پن کا خطرہ زیادہ لاحق ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مسائل سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دوران سفر موبائل فون کو جیب میں رکھنے کی بجائے کسی بیگ وغیرہ میں رکھیں، اور دفتر میں ہوں تو اسے خود سے کچھ فاصلے پر کسی الماری وغیرہ میں رکھ دیں،اور خصوصاً جب سونے لگیں تو اسے تکیے کے ساتھ رکھنے کی بجائے اپنے بیڈ سے مناسب فاصلے پر رکھیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -