ساحل سمندر کے قریب مچھیروں کو بحری جہاز کھڑا مل گیا، اندر جا کر دیکھا تو حیران پریشان رہ گئے کیونکہ اس میں ۔۔۔

ساحل سمندر کے قریب مچھیروں کو بحری جہاز کھڑا مل گیا، اندر جا کر دیکھا تو ...
ساحل سمندر کے قریب مچھیروں کو بحری جہاز کھڑا مل گیا، اندر جا کر دیکھا تو حیران پریشان رہ گئے کیونکہ اس میں ۔۔۔

  

ینگون(نیوز ڈیسک)ساحل سمندر پر کئی طرح کی چیزیں نمودار ہوتی رہتی ہیں، مثلاً پلاسٹک کا کچرہ، مری ہوئی مچھلیاں، اور کبھی کبھار کوئی ٹوٹی پھوٹی کشتی، مگر یہ کیا۔۔۔میانمر کے ساحل پر تو چپکے سے ایک لاوارث بحری جہاز آن پہنچا ہے! اس لاوارث بحری جہاز کو ساحل کے قریب مچھیروں نے دیکھا تو سرکاری حکام کو خبر کی جس کے بعد اس معاملے کی تحقیق شروع ہوئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بحری جہاز پر اس کا نام ’’ سیم راتولانگی پی بی 1600‘‘ لکھا ہوا ہے اور رواں ہفتے کے آغاز میں یہ میانمر کے تجارتی دارالحکومت کے ساحل کے قریب پہنچا ہے۔ ینگون پولیس کا کہنا ہے کہ بحری جہاز میں نہ ہی کوئی عملہ ہے اور نہ ہی اس میں کوئی سامان لدا ہوا ہے۔ پولیس ، ریسکیو ٹیمیں اور میانمر کی نیوی کے اہلکار جمعرات کے روز بحری جہاز میں داخل ہوئے اور اس کی تلاشی کا عمل شروع کیا۔

میانمر ٹائمز کے مطابق ’’انڈیپنڈنٹ فیڈریشن آف میانمر سی فیررز‘‘ کے جنرل سیکریٹری اونگ کاؤ لین کا کہنا تھا کہ بحری جہاز سے ایک انڈونیشیائی جھنڈا ملا ہے جبکہ یہ ابھی بھی قابل استعمال حالت میں ہے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس بحری جہاز کو ماضی قریب میں ہی کسی وقت سمندر میں لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے، تاہم انہوں نے اس واقعہ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی وجہ سمجھ نہیں آرہی کہ کوئی کیوں اتنے بڑے اور قیمتی بحری جہاز کو یوں لاوارث چھوڑے گا۔

میانمر نیوی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحری جہاز 2001ء میں تیار کیا گیا اور اس کے لمبائی 580 فٹ سے زائد ہے۔ اس سے پہلے 2009ء میں اس بحری جہاز کی لوکیشن تائیوان کے قریب ریکارڈ کی گئی تھی لیکن اس کے بعد اس کا کہیں کوئی ریکارڈنہیں ملتا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -