’ ہماری شادی ہوئی تو میں 19 اور میرا شوہر 21 سال کا تھا ، پھر ہم نے ۔۔۔ ‘ ان پاکستانی میاں بیوی کی کہانی جان کرہر شہری ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائے گا

’ ہماری شادی ہوئی تو میں 19 اور میرا شوہر 21 سال کا تھا ، پھر ہم نے ۔۔۔ ‘ ان ...
’ ہماری شادی ہوئی تو میں 19 اور میرا شوہر 21 سال کا تھا ، پھر ہم نے ۔۔۔ ‘ ان پاکستانی میاں بیوی کی کہانی جان کرہر شہری ان کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجائے گا

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ماضی میں لوگ جلدی شادی کو ترجیح دیتے تھے مگر آج کل تو آدھی عمر گزر جاتی ہے اور شادی نہیں ہو پاتی۔ آپ کسی ایسے نوجوان سے پوچھیں کہ بھائی شادی کیوں نہیں کر رہے تو غالب امکان ہے جواب یہی ملے گا کہ پہلے سیٹل ہو جائیں پھر شادی بھی کر لیں گے۔ ارے بھائی یہ سیٹل ہونا کیا ہوتا ہے؟

سچ تو یہ ہے کہ سیٹل ہونے کی کوشش میں نوجوان شادی کی عمر ہی گزار بیٹھتے ہیں، اور کچھ اُن کی مجبوری بھی ہوتی ہے کیونکہ لڑکی والے بھی سیٹل لڑکا مانگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم دانشمندی سے کام لیں اور سادگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیں تو کبھی ایسے مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ ایک اچھی مثال کے طور پر اس پاکستانی لڑکی کی کہانی سُن لیجئے جس کے گھر والوں نے لڑکے سے سیٹل ہونے کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ دونوں طالب تھے کہ اُن کی شادی کر دی گئی۔ تو کیا اس جوڑے کو کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان کی ازدواجی زندگی ایسی کامیاب اور پر مسرت ہے کہ یہ خود کو خوش قسمت ترین میاں بیوی سمجھتے ہی۔

ویب سائٹ parhloپر اس لڑکی نے اپنی شادی کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ جب میری شادی ہوئی تو میری عمر 19سال اور میرے شوہر کی عمر 21سال تھی۔ وہ آسٹریلیا میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور میں پاکستان میں ہی تھی۔ ہم دونوں میں سے کوئی بھی کمانے کے قابل نہیں تھا کیونکہ ہم دونوں ہی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

ہماری شادی بہت سادگی ہوئی۔ میرے لباس اور جیولری پر کل تقریباً 15ہزار روپے خرچ ہوئے جبکہ میرے شوہر نے تیاری پر کل 10 ہزار خرچ کئے۔ نکاح کی تقریب میں قریبی عزیزوں اور دوستوں نے شرکت کی۔ نہ ہماری جانب سے کوئی مطالبات کیے گئے اور نہ ہی اُن کی جانب سے۔

دراصل ہم شادی کو بہت سادہ اور آسان رکھنا چاہتے تھے اور ہم نے ایسا ہی کیا۔ میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کے پاس آسٹریلیا چلی گئی ۔ پھر ہم دونوں نے مل کر اپنی زندگی بنانے کا آغاز کیا اور ضرورت کی ہر شے اپنی محنت سے خریدی۔ ٹی وی ، فریج ، واشنگ مشین ، ہیئر ڈرائیر سے لیکر واش روم میں استعمال کیلئے لوٹا تک ہم نے اپنی کمائی سے خریدا۔

اگر معاشرے کے عام معیارات کے مطابق دیکھا جائے تو شادی کے چار سال بعد اور ایک بچے کے والدین بننے کے باوجود ہم ابھی تک سیٹل نہیں ہوئے، لیکن اگر آپ یہ دیکھیں کہ ہمارے سر پر چھت ہے ، اچھا کھانے کو ملتا ہے ، آمدورفت کیلئے ہمارے پاس گاڑی ہے، ہم اچھا لباس پہنتے ہیں اور جب جی چاہتا ہے سیرو تفریح کیلئے چلے جاتے ہیں، تو بھلا اس سے بڑھ کر سیٹل ہونا کیا ہوسکتاہے؟ میرا خاوند ایک سیلف میڈ آدمی ہے، میں اس پر جتنا فخر کروں کم ہے، اور اپنی پرمسرت ازدواجی زندگی پر جتنا شکر کروں کم ہے۔‘‘

مزید :

قومی -ڈیلی بائیٹس -