سینیٹ کے انتخاب کا نیا طریقِ کار؟

سینیٹ کے انتخاب کا نیا طریقِ کار؟

  

وفاقی کابینہ نے آئینی ترمیم کے ایک مسودے کی منظوری دی ہے،جس کے تحت سینیٹ ارکان کے انتخاب کا موجودہ خفیہ بیلٹ کا طریقہ ختم کر دیا جائے گا اور اوپن ووٹ کے ذریعے انتخاب ہو گا۔ نئے طریقِ کار کو نافذ کرنے سے پہلے آئین کے آرٹیکل 226اور (2)59میں ترمیم کی جائے گی۔ اس وقت ووٹر (صوبائی اسمبلیوں کے ارکان) خفیہ سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کے ذریعے امیدواروں کا انتخاب کرتے ہیں،اگر آئینی ترمیم قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہو گئی تو خفیہ بیلٹ کا طریقہ ختم ہو جائے گا اور اوپن ووٹ کے ذریعے امیدواروں کو منتخب کیا جائے گا،جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معلوم ہو سکے کہ کس ووٹر نے کس امیدوار کو ووٹ دیا۔ آئینی ترمیم کی منظوری کی صورت میں اگلے برس مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات نئے طریقِ کار کے مطابق ہوں گے۔

1973ء کے آئین کے تحت جب پہلی مرتبہ سینیٹ کا ادارہ وجود میں آیا تھا اس وقت سے خفیہ ووٹ کے ذریعے ہی سینیٹ کے امیدواروں کا انتخاب ہو رہا ہے۔ جو طریقہ مروج ہے اس میں پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کون سی پارٹی سینیٹ کی کتنی نشستیں جیت سکے گی، کیونکہ پارٹیوں کی پوزیشن واضح ہوتی ہے۔ آزاد ارکان البتہ پارٹی پالیسیوں کے پابند نہیں ہوتے۔ جس امیدوار کا تعلق کسی پارٹی سے نہیں ہوتا وہ ایسے ہی ووٹروں کی حمایت پر تکیہ کرکے بعض اوقات اپ سیٹ کر دیتا ہے۔ شروع شروع میں تو شکایات زیادہ نہیں ہوتی تھیں،لیکن 2018ء کے سینیٹ انتخابات میں کھل کر یہ بات سامنے آ گئی کہ ووٹوں کی خرید و فروخت ہوئی ہے۔ چاروں صوبوں کے جو نتائج آئے ان سے مترشح ہوتا تھا کہ بعض ووٹ پارٹی امیدواروں کو نہیں پڑے۔ خیبرپختونخوا میں تو تحریک انصاف کے بعض ارکان صوبائی اسمبلی پر خود پارٹی سربراہ نے یہ الزام لگایا تھا کہ ارکان نے ووٹ فروخت کئے ہیں اور پارٹی کے امیدواروں کو نظر انداز کرکے دوسرے امیدواروں کو ووٹ دیا ہے، اس پر بہت سے ارکان صوبائی اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ ان ارکان نے عدالتوں میں مقدمات بھی دائر کئے۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں بھی جو نتائج سامنے آئے ان سے بھی نظر آتا تھا کہ پس پردہ کوئی ایسا کھیل کھیلا گیا جس کے نتیجے میں نتائج توقع کے برخلاف آئے ہیں۔ پنجاب میں بھی تحریک انصاف کا ایسا امیدوار سینیٹر منتخب ہو گیا جو اپنی جماعت کے ارکان کی حمایت سے جیتنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، ایسی ہی شکایات کے بعد یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ ووٹوں کی خرید و فروخت روکنے کے لئے ووٹنگ کا طریق کار بدلا جائے۔

جہاں تک آئینی ترمیم کا تعلق ہے یہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے تعاون کے بغیر منظور نہیں ہو سکتی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکومت کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں۔ قومی اسمبلی میں تو دوسری اتحادی جماعتوں کے تعاون سے قانون سازی ہو جاتی ہے،لیکن سینیٹ میں کوئی بھی بل اپوزیشن کے تعاون کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا۔ ابھی حال ہی میں حکومت کے دو بل ایوانِ بالا سے مسترد ہوئے ہیں جنہیں منظور کرانے کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جا رہا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوتہائی اکثریت سے سینیٹ میں خفیہ رائے شماری ختم کرنے کا بل کیسے منظور ہو گا؟ اس کا ایک ہی حل ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت سے تعاون پر تیار ہوں۔ اس وقت الزامات اور جوابی الزامات کا جو مشغلہ جاری ہے، کیا اس فضا میں حکومت کو مطلوبہ تعاون میسر آ سکتا ہے، قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حکومت اگر خفیہ رائے شماری ختم کرنے میں سنجیدہ ہے تو اس کے لئے اپوزیشن کی حمایت ناگزیر ہے، جس کے لئے گفت و شنید کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑے گا، لیکن اس راہ میں بھی کئی سنگِ گراں حائل ہیں جنہیں حسنِ تدبیر کے ذریعے ہٹانا ہوگا، تب کہیں جا کر یہ ترمیم منظور ہو سکے گی۔

خفیہ رائے شماری کے کئی کرشمے اس وقت بھی دیکھے گئے جب سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں ناکام ہو گئیں۔ چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد اپوزیشن نے پیش کی تھی، جبکہ جواب آں غزل کے طور پر ڈپٹی چیئرمین کے خلاف تحریک حکومتی جماعت تحریک انصاف کی تھی۔ پارٹی پوزیشن تو واضح تھی،لیکن جو نتائج آئے وہ حیران کن تھے۔ چیئرمین کے خلاف تحریک عدمِ اعتماد ناکام ہو گئی، جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے کئی ارکان نے تحریک کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں گے، لیکن چند روز کی شورا شوری کے بعد معاملہ ختم ہو گیا اور آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ پارٹی پالیسی کو نظر انداز کرکے ووٹ دینے والے ارکان کون تھے اور انہوں نے ایسا کس کے اشارے پر کیا اور کن ارکان نے اپنی ان جماعتوں کو،جو چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی تھیں،ناکامی کا راستہ دکھایا۔ اس لئے اب اگر شفاف انتخاب کے لئے خفیہ ووٹنگ ختم کی جا رہی ہے تو کیا یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لئے بھی ایسی ہی اوپن ووٹنگ کا طریقہ رائج کر دیا جائے جس سے معلوم ہو سکے کہ کون سا رکن پارٹی پالیسی پر چل رہا ہے اور کون اس کی مخالف سمت میں کھڑا ہے؟آئینی ترمیم کے لئے اپوزیشن کی حمایت کے بغیر تو چارہ نہیں، اس لئے ان جماعتوں کو  جوابی تجاویز بھی پیش کرنی چاہئیں، تاکہ شفافیت کے نام پر اگر ووٹنگ کا طریقہ بدلا جا رہا ہے تو اس کے صدقے عدم اعتماد کو بھی شفاف بنا دیا جائے۔ اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف بل کی منظوری کے لئے نیب قانون میں جو تبدیلیاں تجویز کی تھیں، حکومت نے اسے این آر او طلب کرنے کے مترادف قرار دے دیا اور وزیراعظم اب تک بار بار کہہ رہے ہیں کہ چاہے حکومت چلی جائے وہ این آر او نہیں دیں گے،لیکن سینیٹ کے انتخاب کی اوپن ووٹنگ پر تعاون کے لئے اپوزیشن اگرجوابی تجاویز پیش کرے گی تو اسے این آر او سے جوڑنا مشکل ہوگا،کیونکہ جس منطق کی بنیاد پر خفیہ ووٹنگ کا طریقہ ختم کیا جا رہا ہے،اس کا تقاضا ہے کہ اسے تحریک عدم اعتماد تک وسیع کیا جائے۔

اگلے برس سینیٹ کے جو انتخابات ہوں گے ان کے نتیجے میں سینیٹ کی پوزیشن تبدیل ہو جائے گی اور تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد ایوانِ بالا میں بڑھ جائے گی۔ موجودہ خفیہ ووٹنگ کے طریقے سے بھی انتخاب ہوں تو کے پی کے میں تحریک انصاف اپنی اکثریت کی بنیاد پر سینیٹ کی تقریباً تمام نشستیں جیت سکتی ہے، لیکن خدشہ یہ ہے کہ اس صوبے کے ارکان 2018ء کے انتخاب کی تاریخ نہ دہرا دیں، جب پارٹی سربراہ کو یہ کہنا پڑا تھا کہ ان کی جماعت کے ارکان نے اپنے ووٹ فروخت کئے ہیں۔ آئینی ترمیم کے ذریعے شاید ایسی ہی صورتِ حال کی پیش بندی کی جا رہی ہے، اس لئے یہ ضروری ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی ایسی جوابی تجاویز سامنے لائیں جن کے تحت شفافیت کا دائرہ پھیل جائے ایسا نہ ہو کہ روشنی صرف مخصوص گوشوں پر پڑے اور باقی منظر بدستور تاریک رہے۔ سینیٹ کے انتخاب کا جو طریقہ اب تک (تقریباً نصف صدی سے) چلا آ رہا ہے اس میں تبدیلی بدلتے ہوئے حالات کا تقاضا ہے تو کیا یہ ضروری نہیں ہے کہ عدم اعتماد کا عمل بھی صاف شفاف ہو، تاکہ پسند نا پسند کا پسِ پردہ کھیل بھی ختم ہو جائے۔ ارکان شفاف طریقے سے منتخب ہوں تو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب اور اعتماد و عدمِ اعتماد  بھی شفاف کیوں نہ ہو؟

مزید :

رائے -اداریہ -