حکومت کرپشن کو فروغ دے رہی ہے

 حکومت کرپشن کو فروغ دے رہی ہے
 حکومت کرپشن کو فروغ دے رہی ہے

  

موجودہ حکومت کرپشن ختم کرنے کے نام پر آئی ہے۔اس حکومت نے اپنے دو سال مکمل کر لئے ہیں۔ کرپشن کے نام پر شور اسی طرح جاری ہے۔مگر کوئی نتیجہ نظر نہیں آتا۔ بہت سے لوگوں پر کرپشن کے مقدمات بنائے گئے۔ بہت سے لوگوں کو وقتی طور پر گرفتار بھی کیا گیا۔ کچھ کرپٹ لوگوں کے پاس کچھ نظر نہیں آیا، جانے وہ کیسے کرپٹ ہیں۔ کچھ کرپٹ لوگوں کے پاس بہت کچھ نظر آیا جو یقیناً جائز ذرائع سے حاصل نہیں ہو سکتا، مگر یہ کیسے تفتیشی ہیں کہ آج تک کسی کا کچھ بگاڑ نہیں سکے۔نیب اگر آزاد ادارہ ہے تو اس کے ہر اقدام پر روشنی ڈالنے کو حکومت کے بھونپوکیوں حرکت میں آتے ہیں۔نیب سے آپ کا کوئی تعلق نظر نہیں آنا چائیے۔عمران خان بہت ایماندار ہیں مگر وہ لوگ جن کی کرپشن کی داستانیں آج منظر عام پر آ رہی ہیں ان کو ہر حال میں تحفظ دینے کی بات کیوں کرتے ہیں۔ کیاموجودہ حکومت کرپشن پر قابو پا سکی ہے یا آ ج بھی کرپشن عام ہے اور اس عام کرپشن کا ذمہ دار کون ہے۔ 

.

عام آدمی کے لئے کرپشن نے اپنا کھلا منہ بند کیا، بالکل بھی نہیں۔ رشوت کا ریٹ پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ تھانے اور پٹوار کلچر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بالکل بھی نہیں۔بجلی، پانی اور گیس کے افسران کی مار ڈھارپہلے سے کچھ کم ہوئی۔ ہرگز نہیں۔کیاتحریک انصاف کے تما م منتخب نمائندے اور وزرا بہت نیک ہیں، بڑی سادہ زندگی گزارتے اور کرپشن سے اجتناب کرتے ہیں، ہرگز نہیں۔چند دن پہلے ایک برساتی نالے پر مٹی ڈال کر تقریباًایک کلومیٹر پٹی پر ناجائز تعمیرات کے بارے میں نے بات کی تھی۔ یہ کام کوئی اور نہیں تحریک انصاف کا ایک منتخب نمائندہ ہی کر رہا ہے۔ عام آدمی کی زندگی پہلے سے تلخ ہے یا آپ نے کچھ آسانیاں پیدا کیں۔ میرے مطابق ایسا کچھ نہیں۔ آ پ ہر طرح بے بس نظر آتے ہیں۔سچ یہ ہے کہ ابھی تک یہ حکومت کچھ نہیں کر سکی تو پھر کرپشن کے خلاف اتنا شور کیوں۔تھوتھا چنا باجے گنا شاید اسی کو کہتے ہیں۔

کئی محرکات ہوتے ہیں جوکرپشن کے فر وغ کا باعث بنتے ہیں۔یہ محرکات مختلف طبقات میں مختلف انداز میں اثر اندازہوتے ہیں۔ہماری اشرافیہ کرپشن کے لحاظ سے سب سے آگے ہے۔سیاست اس ملک میں انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ منتخب ہونے کے لئے جو وسائل استعمال کئے جاتے ہیں ان پر کروڑوں خرچ آتا ہے۔ وہ کروڑوں روپے واپس حاصل کرنے کے لئے ہمارے منتخب نمائندوں کے پاس کرپشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

وہ کرپشن کرتے ہیں اور اپنی لگائی ہوئی رقم بمعہ سود واپس حاصل کرتے ہیں۔ اس کام کے لئے انہیں خاص محنت کرنا نہیں پڑتی۔جس طرح کبھی بازار حسن کے راستے میں کچھ پیشہ ور لوگ کھڑے ہوتے تھے کہ کوئی بد کار اس طرف آئے تو وہ بڑھ کر اس کی خدمت کریں اور اپنا حصہ وصول کر کے واپس اپنی اسی جگہ آ کر اگلے گاہک کا انتظار کریں اسی طرح اقتدار کے ایوانوں کے راستے میں آپ کو ایسے لوگ آسانی سے مل جاتے ہیں جوایسا ہی کام کرتے ہیں، وہ آپ کی خدمت کرتے، ایوانوں میں اہل اقتدار سے تعلقات بڑھاتے اور حصے وصول کرتے نظر آئیں گے۔ میری یہ بات بہت سوں کو بری لگے گی مگر ہر مسلمان یہ جانتا ہے کہ رشوت خوری اور حرام خوری زنا سے بڑا جرم ہے۔دونوں پیشہ ور لوگوں  کے کام میں فرق ہے طریقہ واردات ایک ہی ہے۔اس ساری کرپشن میں ملوث حکمران طبقہ حرام خوری اس لئے کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھی کرکے اپنا اقتدار سلامت رکھ سکے اور دولت کے بل بوتے پر ہر الیکشن جیت کر اپنے اختیارات، اپنی طاقت اوراپنے تعلقات کو دوام دے سکے۔اسی مقصد کے لئے وہ اقتدار کے دوران اپنے سیاسی اختیارات استعمال کرتے ہوتے ہر جائز اور ناجائز طریقے سے اپنی دولت میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔

یہ لوگ اپنے اقتدار کودوام دینے کے لئے بیوروکریسی، انتظامیہ اور عدلیہ میں تعلقات بناتے، ان کی پارٹیاں کرتے، انہیں تحائف دیتے اور یوں ان میں بد عنوانیوں کو مزید فروغ دیتے ہیں۔تاکہ وہ لوگ اخلاقی طور پر کمزور ہو کر ان کے مفادات کا تحفظ کریں۔یہی سیاستدان اور حکمران ناجائز طریقوں سے ٹھیکے داروں، مال سپلائی کرنے والوں، سمگلروں، بھتہ مافیہ اور قبضہ مافیہ کو خود سامنے آئے بغیر مکمل تحفظ دیتے اور اپنا حصہ وصول کرکے اپنے سرمایے میں اضافہ کرتے ہیں تاکہ اپنے شاندار گھروں کو مزید آراستہ کریں۔ بہت سی نئی نئی بڑی گاڑیاں خریدیں،تعلقات میں مزید اضافے کے لئے روز کسی جشن کا بندوبست کریں۔ دکھانے کے لئے نوکروں کی فوج ظفر موج رکھیں۔ اپنے بچوں کو ایسے انتہائی مہنگے سکولوں میں داخل کرائیں جہاں تعلیم ہو نہ ہو مگر سماجی تفریق بڑی نمایاں محسوس ہو۔حرام مال میں سے صدقہ خیرات بھی یہ خوب دیتے ہیں کہ لوگوں میں ان کی نیکی اور خدا ترسی کا تاثر عام ہو۔ 

کرپشن میں ملوث دوسرا طبقہ وہ ہے جس کاتعلق مڈل، لوئر مڈل یا لوئر کلاس سے ہوتا ہے اور یہ لوگ اپنا  سماجی مرتبہ بڑھانے کے لئے دولت اور حوالوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ابتدا کسی با اثر آدمی سے پہچان بناتے اور پھر اقتدار کے ایوانوں کے راستے میں کھڑے مڈل مین کا کردار ادا کرنے  اور ہر کام چاہے وہ جتنا بھی گھٹیا ہو کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ان لوگوں کی زندگی کی ابتدا  بغیر پیسے اور بغیر کسی مرتبے کے ہوتی ہے۔ یہ کردار کے لحاظ سے انتہائی کمزور ہوتے ہیں۔یہ دولت اور اثر رسوخ حاصل کرنے کے لئے با اثر لوگوں کی ہر بات کو حکم تصور کرتے ہیں۔چاپلوسی ان کا شیوہ اور خوشامد ان کا خاص ہتھیار ہوتی ہے۔حکمرانوں کو بھی ایسے تابعدار لوگ پسند ہیں۔ چنانچہ دونوں امداد باہمی کے تحت ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔ اب تو سماجی مرتبے کا یہ حریص طبقہ ترقی کر کے خود بھی اقتدار میں بشکل مشیر ہر بڑے آدمی کے ساتھ شریک نظر آتا ہے۔

کرپشن میں ملوث تیسرا طبقہ عام لوگوں کا ہے۔ یہ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے اخراجات کے لئے کرپشن کرتے ہیں۔ان کی آمدن ان کی ضروریات سے کم ہوتی ہے۔وہ ضروریات زندگی کو کسی طرح پورا کرنے کے لئے  چھوٹی موٹی کرپشن کرتے ہیں۔ مہنگائی انہیں جینے نہیں دیتی۔ اچھی تعلیم ان کے بچوں کی پہنچ میں نہیں ہوتی۔ خراب صحت اور بیماری ان کے لئے عام سی بات ہے۔بجلی اور گیس کے بل قسطوں میں پورے کرتے ہیں۔ یہ بڑے بڑے خواب نہیں دیکھتے۔ یہ مزدور، چپڑاسی، کلرک، معمولی کاروباری اور ایسے ہی لوگ صرف زندہ رہنے کے لئے بے ایمانی اور رشوت کی طرف مائل ہوتے ہیں۔موجودہ حالات میں تنخواہوں کا نہ بڑھنا۔ مہنگائی میں تیز رفتار اضافہ ہونا۔ بنیادی ضروریات کی اشیا کا کمیاب ہونا  اور ایسے چند دوسرے عناصر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ موجودہ حکومت ہی اس ملک میں کرپشن کی اصل ذمہ دار ہے اور اپنے اقدامات سے اسے فروغ دے رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -