ہم انگلی کس پر اٹھائیں؟

ہم انگلی کس پر اٹھائیں؟
ہم انگلی کس پر اٹھائیں؟

  

ہماری قوم سطحی اور جذباتی سوچ سے کام کیوں لیتی ہے۔؟ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ہمارے لوگ حقیقی مسائل سے صرف نظر کرتے ہیں اور غیر ضروری مطالبات، غیر ضروری بحث مباحثے اور متعصبانہ تبصروں کا زور ہوتا ہے۔ہمارا سارے کا سارا میڈیا اپنے اپنے ہدایت کاروں کے اشاروں پر ایسا تماشا لگائے رکھتا ہے۔ جس کا کوئی سر ہوتا ہے نہ پیر، میڈیا والوں کی دوڑ اپنی ریٹنگ اور روزی سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ ہم اپنا اصل کام کرنے کی بجائے دوسروں کی طرف دھیان رکھتے ہیں۔ ہمارے لیڈراور افسر پالیسیاں بنانے اور ان پر عملدرآمد کرانے کی بجائے ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں پر گامزن ہیں۔ سب کے سب آج کا اپنا فائدہ سوچتے ہیں۔ آنے والی نسلوں کے لیے گڑھے کھود رہے ہیں۔ جس سے بات کرو وہ سارا نزلہ دوسروں پر پھینک کر خود کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مجھے تلاش ہے کسی ایسے لیڈر یا افسر کی جو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے، جو کھل کر روئے اور کہے کہ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ میں نے اپنی قوم پر ظلم کیا ہے۔ میں نے اپنی نسلوں پر ظلم کر دیا ہے اور اب باقی ماندہ زندگی اپنی غلطیوں کا کفارہ ادا کرنے میں گزاروں گا۔ 

کوئی تو ہو جو انگلی اپنی طرف بھی کرے، یا پھر ہمیں کرنے دے، ہم اگر انگلی سیاستدانوں کی طرف کرتے ہیں تو وہ سیخ پا ہو کر کہتے ہیں کہ ہمیں موقع ہی کب ملا ہے کچھ کرنے کا؟ ملک میں جمہوریت کو پنپنے ہی نہیں دیا گیا تو ہم کیا کریں؟ کبھی فوج تو کبھی سول بیوروکریسی کی شکایت کرتے ہیں۔ کبھی عوام کی جاہلیت کا رونا روتے ہیں تو کبھی عدالت عالیہ کی شکایت کرتے ہیں۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ کیا آپ کو حکومت دینے سے پہلے ان اداروں کو ختم کر دیا جائے " گلیاں سجی ہوں جس میں آپ ٹہلیں؟ کوئی بھی سیاستدان یہ کیوں اعتراف نہیں کرتا کہ وہ خود ان مقتدر اداروں کے سہارے تلاش کرتا ہے اور اپنی سیاسی جماعت کے اندر جمہوری فیصلے کرتا ہے نہ دوسرے سیاستدانوں کے ساتھ مکالمہ، کبھی بلدیاتی نظام بناتا ہے نہ بلدیاتی انتخابات کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب آپ سیاسی جماعتوں کو خاندانی لمیٹڈ کمپنیاں بنائیں گے تو پھر ملک میں جمہوری سوچ کیسے بڑھے گی؟ عوام بھی ووٹ دیتے ہیں امیدوار قانون ساز اسمبلی کو لیکن ان سے امید رکھتے ہیں یا یہ سیاستدان ہمیں امید لگاتے ہیں " گلی پکی کرنے کی، سڑک بنانے کی، سرکاری نوکری دلانے یا تبادلے کرنے کی، ہمارے سیاستدان اسمبلی میں آج کی قانون سازی کی بات کرنے ملک میں آج کا بندوبست کرنے یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے صوابدیدی فنڈز کے مطالبے کرتے ہیں۔ اپنی اہلیت اور اپنی تعلیم کے برعکس اپنی مرضی کی وزارت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اپنے ہی وزیراعظم کو بلیک میل کرتے ہیں۔ اپنے عزیز و اقارب کے لیے نوکریوں اور ٹھیکوں میں حصہ مانگتے ہیں۔ 

اگر ہم اپنی انگلی فوج کی طرف کرتے ہیں تو ہم غدار کہلاتے ہیں۔ ہم ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ کیونکہ ہماری فوج ہمیں عراق، شام، فلسطین، بوسنیا اور افغانستان کی حالت زار دکھا کر کہتی ہے کہ پاکستان کی سلامتی فوج کی مرہون منت ہے یہ بات ہم بھی جانتے اور تسلیم کرتے ہیں اپنی فوج کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ اپنی فوج کو ملکی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ گردانتے ہیں۔ لیکن عرض کرتے ہیں کہ بھارتی فوج کو آج تک ملک میں مارشل لاء  لگانے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں ہوئی؟ بھارتی فوج کیوں سول حکومت میں مداخلت نہیں کرتی؟ بھارت بھی اپنے دفاع پر ہم سے بھی کئی گنا زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ اس کی فوج کا حجم ہماری فوج سے 70 فیصد بڑا ہے۔ لیکن ان کی معیشت ہم سے بہتر کیوں ہے؟ بھارتی وزیراعظم آئے روز اپنے چیف سے مشورے کیوں نہیں لیتا؟ 

اگر ہم اپنی انگلی عدالتوں کی طرف کرتے ہیں تو ہم توہین عدالت کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ عدالتوں کے اندر بیٹھے ججز صاحبان بھلے لوگوں کو انصاف دیں یا انصاف کا قتل کریں ہماری انگلی بہرحال ادھر نہیں اٹھنی چاہیے، یوں تو ہماری عدالتوں کے کارناموں اور قلموں سے پاکستان کی تاریخ سیاہ ہے۔ لیکن افتخار چوہدری کے زمانے سے ایک نئی ریت چل نکلی ہے۔ کہ ہمارے چیف جسٹس صاحبان کے چرچے ان کی اخباری سرخیوں اور مختلف اداروں میں چھاپوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔  ازخود نوٹس لیتے ہیں تین چار سو پیشیاں بھگتاتے ہیں اور اس کے بعد یا تو باعزت بری، یا معاملہ دفتر داخل یا پھر یہ کہ کرپشن تو ہوئی ہے لیکن ثبوت کوئی نہیں کا فیصلہ لکھتے ہیں۔ لیکن ہمارے چیف جسٹس صاحبان نے کبھی یہ سوچا نہ بتایا کہ ہمارا عدالتی نظام دنیا کا بدترین نظام کیوں ہے؟ لوگ کئی کئی دہائیوں تک عدالتوں کے اندر اور باہر ذلیل ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اس کے حل پر کوئی غور نہیں ہے، سول بیوروکریسی کی اپنی ہی دنیا اور طاقت ہے۔ انہوں نے کئی بزداروں، وائیوں اور الہیوں کو رولا ہے لیکن رولا پھر بھی یہ کہ سیاستدان اداروں میں مداخلت کرتے ہیں اور ہمیں کام نہیں کرنے دیتے۔ 

پاکستان چونکہ اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا(حالانکہ قائداعظم صاحب نے انصاف کے نعرے پر پاکستان کی تحریک چلائی تھی ایک ایسی ریاست جس میں سب کو اپنی تہذیب اور اپنے دین کے مطابق جینے کا مکمل تحفظ ہو) لہذا علما کرام بھی یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کو ہماری مرضی کے مطابق چلایا جائے جبکہ ہم اپنی مرضی سے جتنے مرضی فرقے بنا لیں، اگر ہم ان کی طرف انگلی کرتے ہیں اور یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آپ نے عوام کے ہاتھ میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے کیوں نہیں پکڑایا اور ملک میں انتہا پسندی اور فساد فی العرض کیوں ہے تو ہم کافر قرار دیئے جا کر مارے جاتے ہیں۔  10 محرم  کو پورے ملک میں جلوس ہوں گے، مجلسیں ہوں گی حسین  رضی اللہ عنہ کے حق میں تقریریں ہوں گی اور یزید پر تبرے بھیجے جائیں گے لیکن یہ کوئی نہیں بتائے گا کہ آج بھی کربلا کی جنگ جاری ہے اور ہمیں حسینیت کا ساتھ دینا چاہیے۔ خاندانی موروثی سیاست کا خاتمہ کر کے جمہوریت کو اس کی روح کے مطابق بحال کرنا چاہیے۔ ایمپائر تو جب چاہے اور جدھر چاہے انگلی اٹھا سکتا ہے۔ مگر عوام اپنی انگلی کدھر لے جائے؟ یہ پھر سہی!!

مزید :

رائے -کالم -