پسماندہ علاقوں کے مسائل حل کرنے کا راستہ

پسماندہ علاقوں کے مسائل حل کرنے کا راستہ
پسماندہ علاقوں کے مسائل حل کرنے کا راستہ

  

چار سال تک وسائل کی کمی کا رونا روتے روتے مستعفی ہونے والے میئر کراچی وسیم اختر نے اپنی الوداعی پریس کانفرنس میں عروس البلاد کراچی کی تباہی و بربادی کی جو وجوہات بیان کی  ہیں  انہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ کراچی کی کہانی بھی کافی حد تک جنوبی پنجاب سمیت وطن عزیز کے ہر پسماندہ علاقے کی کہانی ہے۔ یعنی وسائل ہیں تو اختیارات نہیں، اختیارات ہیں تو وسائل نہیں۔ اگر کہیں دونوں اکٹھے ہو جائیں تو دیانت اور اہلیت کا فقدان بحرانوں پر بحران جنم لینے لگتا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرایا جانے والا بلدیاتی نظام اس لحاظ سے گزشتہ بلدیاتی نظاموں سے مختلف تھا کہ اس میں بلدیاتی سربراہوں کو خود مختاری کی حد تک اختیارات دیئے گئے تھے۔ کراچی میں تو ایم کیو ایم کی خدمات جلیلہ کے صلے میں اس کے منتخب میئر مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار کو وافر سے بھی زیادہ مالی وسائل دیئے گئے ان وسائل کے ”غیر نصابی استعمال“ اور ہیرا پھیریوں کے باوجود کراچی میں ترقیاتی منصوبے شروع اور مکمل ہوتے نظر آتے تھے۔ پھر گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے کہ مصداق خود ایم کیو ایم ہی دادا گیری کے شوق میں کراچی کا امن و امان تہ و بالا کرنے کا باعث بن گئی۔ تعمیر و ترقی کا سارا کھیل تو سرمائے سے ہوتا ہے اور آتش و آہن کی بارش یا خون آشام فسادات میں سرمایہ لگتا ہے نہ سرمایہ دار۔ چنانچہ سرمایہ کراچی سے منتقل ہوا اور سرمایہ کار بھی بھاگ نکلے۔ بنگلہ دیش، فیصل آباد، گوجرانوالہ، چنیوٹ، لاہور وغیرہ کی تیز رفتار ترقی میں کراچی سے جان و مال بچا کر نکلنے والوں کا کافی ہاتھ ہے۔ دوسری طرف سٹیل ملز اور پورٹ ٹرسٹ سمیت کئی منفعت بخش اداروں کو اقربا پروری، بھتہ خوری اور سٹریٹ کرائم کھا گئے۔ جہاں تک وسائل کی فراہمی یا تقسیم کا تعلق ہے تو اس کا ایک فارمولا طے ہے۔

وفاق سے صوبوں کو فنڈز کی فراہمی میں عدم توازن ختم کرنے اور اسے منصفانہ بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے 1951ء میں وزیر اعظم لیاقت علی خان شہید کے دور میں ان کی رہنمائی میں ایک این ایف سی ایوارڈ (نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ) تشکیل دیا گیا۔ ایک ایوارڈ پانچ سال کے لئے تھا۔ اس حساب سے اب تک 14 ایوارڈ آ جانے چاہئیں تھے مگر حکومتوں کی عدم دلچسپی اور سیاسی جماعتوں کی عدم اتفاقی و طویل بحث و مباحث کے باعث اب تک صرف سات ایوارڈ آ سکے ہیں۔ ساتواں اور آخری ایوارڈ 2010ء میں آیا اس میں فنڈز کی وفاق سے صوبوں کو منتقلی کا واضح اور دو ٹوک فارمولا نافذ کیا گیا۔ اس کے مطابق صوبوں کو غربت کی شرح اور آبادی کے دباؤ کے حساب سے فنڈز دینا طے کیا گیا۔ حالیہ بجٹ میں بھی اسی فارمولے کو سامنے رکھتے ہوئے فنڈز مختص کئے گئے ہیں آخری این ایف سی ایوارڈ اور آئین میں 18 ویں ترمیم آگے پیچھے کے ہی واقعات ہیں 18 ویں ترمیم کے تحت 18 ہی وزارتیں صوبوں کو مل گئیں یوں وہ ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنے با اختیار ہو گئے کہ اپنے بیشتر فیصلے خود کرنے کی پوزیشن میں آ گئے۔ انکم ٹیکس اور کسٹمز اور سنٹرل ایکسائز ٹیکس ابھی بھی وفاق کے پاس ہی جاتے ہیں اس لئے بجٹ میں این ایف سی فارمولے کے تحت انہیں صوبوں کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔

وفاق کے ریونیو کا 56 فیصد صوبوں کو دے دیا جاتا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے اجلاس کی صدارت صدر مملکت کرتے ہیں اور اس کے فیصلوں کی بنیادی شرط چاروں وفاقی یونٹوں اور خود وفاق کا مکمل اتفاق رائے ہے۔ اکثریتی فیصلوں کی گنجائش نہیں ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کا فارمولا متفقہ ہے خرابی یہ ہے کہ اسے صرف وفاق اور صوبوں کے مابین مالی معاملات تک محدود رکھا گیا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں احساس محرومی کی وجہ سے ان علاقوں تک وسائل کی فراہمی میں عدم توازن ہے۔ اگر این ایف سی ایوارڈ کے اس فارمولے (آبادی کا دباؤ اور غربت کی شرح) کے مطابق فنڈز کی صوبوں کو ہی نہیں ضلعی مقامات تک فراہمی کو ممکن بنا دیا جاتا تو کراچی کے میئر کو رو رو کر پریس کانفرنسیں نہ کرنا پڑتیں، ہزارہ  اور جنوبی پنجاب میں الگ صوبوں کے قیام کے نعرے بھی شاید نہ لگتے جب مختلف علاقوں، اضلاع اور ڈویژنوں کو یہ شکایت پیدا ہو جائے کہ ان کے حصے کے فنڈز صوبائی حکومت انصاف اور حقیقی ضرورتوں نیز عوامی خواہشات کے مطابق نہیں بلکہ اپنی  ترجیحات کے مطابق تقسیم اور خرچ کرتی ہے یہی نہیں بلکہ سالانہ صوبائی بجٹ میں پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لئے جو وسائل مختص کئے جاتے ہیں وہ بھی عملاً وہاں تک نہیں پہنچائے جاتے۔

اسی شکایت کا اظہار کرتے ہوئے سابق میئر وسیم اختر اور ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں نے کراچی اور حیدر آباد پر مشتمل الگ صوبے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہی مطالبہ جنوبی پنجاب یا سرائیکی علاقے اور کے پی کے میں ایبٹ آباد ڈویژن پر مشتمل ہزارہ صوبہ کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے پنجاب کی حد تک تو صوبائی اسمبلی نے ایک نہیں دو نئے صوبوں کے قیام کی قرار داد بھی منظور کر لی تھی اس میں بہاولپور ڈویژن کے تین اضلاع پر مشتمل ایک صوبہ اور ملتان و ڈیرہ غازیخان ڈویژنوں پر مشتمل ایک صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پیپلزپارٹی نے براہ راست سینٹ سے ایک قرارداد منظور کرالی تھی جس میں ایک نئے صوبے ”بہاولپور جنوبی پنجاب صوبے“ کے قیام کی بات تھی آئینی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں موجودہ صوبوں میں سے کوئی نیا صوبہ بنانا تقریباً نا ممکن ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 واحد رستہ ہے نیا صوبہ بنانے کا۔ اس میں درج ہے کہ ”اگر کسی صوبے کی سرحدوں میں ردوبدل مقصود ہو تو سب سے پہلے اس صوبے کی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے اس مضمون کی قرارداد منظور کرے۔ پھر یہی قرارداد قومی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے منظور کرے اور پھر یہی قرارداد سینٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور کرائی جائے۔ اس کے بعد پھر یہی قرارداد متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دوبارہ پیش کر کے دوتہائی اکثریت سے منظور کرائی جائے۔ اس کے بعد یہ قرارداد صدر مملکت کے پاس حتمی منظوری کے لئے جائے گی جن کے دستخطوں کے بعد متعلقہ صوبے کی حدود میں مطلوبہ رد و بدل عمل میں آ جائے گا۔ یعنی نیا صوبہ بن جائے گا۔ بظاہر یہ سارا طریقہ کار نا قابل عمل دکھائی دیتا ہے۔ پنجاب اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے سرائیکی صوبے کی قرار داد، سندھ اسمبلی سے مہاجر صوبے اور کے پی کے صوبے سے ہزارہ صوبے کی قرارداد منظور کرانا تقریباً نا ممکن ہے۔ سرائیکی صوبے کا مطالبہ تین ڈویژنوں کے تیرہ چودہ اضلاع سے باہر وجود نہیں رکھتا۔

تیرہ چودہ یا پندرہ سولہ اضلاع کے سارے ایم پی اے بھی ووٹ دیدیں پھر بھی سادہ اکثریت نہیں بنے گی دو تہائی تو دور کی بات ہے۔ اسی طرح پورا اندرون سندھ مہاجر صوبے کا مخالف ہوگا۔ سندھ اسمبلی میں کراچی، حیدر آباد شہر پنو عاقل کے تمام ایم پی اے بھی اکٹھے ہو جائیں تو وہ مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکتے یہی صورتحال ہزارہ صوبے کی رہے گی۔ اس گاڑی کا پہلے سٹیشن سے ہی چلنا مشکل ہوگا اس لئے انتظامی بنیادوں پر اقدامات کر کے ان علاقوں کے عوام کی شکایات دور کی جائیں تو یہ قابل عمل لگتا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے غالباً یہی راستہ اختیار کر کے ملتان اور بہاولپور میں سول سیکرٹریٹ قائم کر کے ایڈیشنل آئی جی اور ایڈیشنل سیکرٹری تعینات کر دیئے ہیں۔ انہیں با اختیار بنانے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ کراچی کی صورتحال اس لحاظ سے مختلف ہے کہ کراچی تو خود صوبائی دارالحکومت ہے تمام صوبائی انتظامی دفاتر وہاں موجود ہیں۔ وہاں بلدیاتی اداروں اور ان کے سربراہوں کو با اختیار اور با وسائل بنا کر عوام کی مشکلات کم کرنے کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ صوبائی حکمران پیپلزپارٹی، وفاقی حکمران تحریک انصاف اور ایم کیو ایم اگر گروہی سیاست سے بالا تر ہو کر صرف کراچی کی بحالی پر متفق ہو جائیں تو الگ صوبے کے غبارے سے ہوا نکالی جا سکتی ہے ورنہ بھوک، غربت اور بے بسی تو بغاوت پر اکساتی ہی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -