سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے

  

بچوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے نت نئے واقعات سامنے آ رہے ہیں خوف ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے مگر دوسری طرف ان قاتلوں، درندوں ا ور جنسی وحشیوں کی بے خوفی میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لگتا یوں ہے کہ جیسے ہم ایک جنگل میں رہ رہے ہیں جہاں درندے دندناتے پھرتے ہیں اور انہیں لگام ڈالنے والا کوئی نہیں اب مظفر گڑھ کے علاقے بیٹ میر ہزار میں جو واقعہ پیش آیا ہے اس کی تو کوئی مثال ہی پیش نہیں کی جا سکتی، جہاں ظالموں نے ایک معصوم بچے کی طرف سے مزاحمت پر اس کے نازک حصے میں گولی مار دی جو جسم کے آر پار ہو گئی۔ وہ بچہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہے یہ تو ایک تیرہ چودہ سال کا لڑکا تھا، کوئی پانچ چھ سال کی بچی ہوتی تو ان درندوں کے سامنے اس نے کیا مزاحمت کرنی تھی۔ یہ اسے زیادتی کا نشانہ بنا کر اس کی نعش وہیں پھینک کر فرار ہو جاتے سنا ہے پولیس نے ایک درندے کو گرفتار کر لیا ہے باقی فرار ہیں گرفتاریاں تو ہو جاتی ہیں لیکن سزائیں کیوں نہیں ہوتیں۔ پچھلے دنوں ملتان میں ایک اچھی مثال یہ قائم ہوئی کہ بھائی کے سامنے بہن کو بے آبرو کرنے والے چار ملزموں کو دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے عمر قید سنا دی  اور یہ کام چند ہفتوں میں ہو گیا کیا بچوں کے ساتھ زیادتی کے تمام کیسوں کی فوری سماعت کا حکم نہیں دیا جا سکتا، تاکہ نشانِ عبرت بننے والے فوری سامنے آئیں اور جن کے ذہنوں میں بے خوف درندگی پل رہی ہے انہیں یہ کام کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے۔

ہم کیسا بے امان معاشرہ بن گئے ہیں کہ آج کل ہمیں ٹی وی اور اخبارات میں یہ اشتہارات دینے پڑ رہے ہیں والدین اپنے بچوں کا خیال رکھیں، انہیں ایک لمحے کے لئے بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں۔ کیا اس قدر بندشوں میں بچوں کی پرورش اور افزائش ہو سکتی ہے؟ کیا انہیں کھیل کود سے منع کر کے گھروں میں محبوس رکھنے سے ہم ایک ایسی نسل پیدا نہیں کر رہے جو خوف میں ڈوبی اور اعتماد سے محروم ہے۔ بچوں کو گلی محلوں سے بعض اوقات گھروں کی دہلیز سے اٹھا لیا جاتا ہے۔ اس طرح تو ہمارے زمانے میں مرغی کا چوزہ نہیں اٹھایا جاتا تھا، جیسے آج کل انسانی بچے اٹھائے جاتے ہیں پھر اس پر مستزاد پولیس کی نا اہلی اور کاہلی ہے، بچے کی گمشدگی پر ایک رپورٹ لکھ کر بیٹھ جاتی ہے اور ورثاء کو مشورہ دیتی ہے کہ اپنے عزیز و اقارب میں تلاش کریں وہ بے چارے مارے مارے پھرتے ہیں اور چند روز بعد انہیں کسی ویرانے یا کسی کوڑے کے ڈھیر پر اپنی معصوم بچی یا بچے کی لاش مل جاتی ہے، اس کے بعد وزیر اعلیٰ نوٹس لیتے ہیں، پولیس خواب غفلت سے جاگتی ہے، تھوڑی بہت ہلچل مچتی ہے، پھر وہی ڈگر واپس آ جاتی ہے تاوقتیکہ کوئی لاش نہ مل جائے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جب بچے یا بچی کی گمشدگی کا پولیس کو علم ہوا تھا تو اس نے ایکشن کیوں نہیں لیا، فوری تفتیش کیوں نہیں کی، مشتبہ افراد کو پکڑا کیوں نہیں، شاید اس عمل سے معصوم بچے کی جان بچ جاتی۔ شہباز شریف جب وزیر اعلیٰ تھے تو اس معاملے میں خاصی سختی برتتے تھے۔ وہ اگر قتل یا زیادتی کا شکار ہونے والے بچے کے گھر جاتے تو سب سے پہلے ورثاء سے یہ پوچھتے تھے کہ انہوں نے بچے کے بارے میں پولیس کو بتایا تھا، رپورٹ لکھوائی تھی پولیس نے رپورٹ فوری لکھی تھی یا ٹال مٹول سے کام لیا تھا۔ رپورٹ لکھنے کے بعد بچے کی تلاش میں کارروائی کی تھی یا خاموش بیٹھی رہی تھی، جونہی انہیں علم ہوتا کہ پولیس نے تساہل کا مظاہرہ کیا وہ سب سے پہلے اس ضلع کے ڈی پی او کو معطل کر دیتے تھے۔ اس سے کم از کم یہ ہوتا تھا کہ پولیس ایسے واقعات میں فوری تفتیش شروع کر دیتی تھی۔ کئی بار ملزموں سے بچے بازیاب بھی کرا لئے جاتے تھے۔ مگر اب تو لگتا ہے کہ پولیس بھی بے خوف ہو گئی ہے اور اسے دیکھ کر قاتل درندے بھی بے خوفی سے بچوں کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں۔

قصور کے زینب کیس نے اس معاملے کو پورے ملک میں ایک بنیادی مسئلہ بنا دیا تھا۔ ہر طرف سے آواز اٹھی تھی کہ بچوں سے زیادتی پر قانون سازی کی جائے، زینب کے قاتل عمران کو سرِ عام پھانسی دینے کے لئے بھی جلوس نکلے تھے اور احتجاج ہوئے تھے، مگر ایسا ممکن نہ ہوا کیونکہ قانون میں اس کی گنجائش موجود نہ تھی، اگر سر عام پھانسی دینا ممکن نہیں تو کم از کم یہ تو ممکن ہے کہ ایسے کیسوں کو ضلعوں میں قائم ماڈل عدالتوں میں بھیجا جائے جو دو چار سماعتوں کے بعد ان کا فیصلہ کر دیں۔ کئی کئی سال بعد جب ایسے درندوں کو سزائیں ملتی ہیں تو لوگ بھی وہ کیس بھول چکے ہوتے ہیں اور دوسرے درندہ صفت ذہنیت رکھنے والوں کو بھی کوئی عبرت حاصل نہیں ہوتی۔ معاشرے میں جنسی بے راہ روی اس قدر پھیل گئی ہے کہ یہ ہمارا سب سے سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ انٹرنیٹ سے پھیلنے والی بے حیائی ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر سے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ دین سے دوری اور اخلاقی اقدار کے زوال کی وجہ سے ہم عملاً ایک جنگلی معاشرے میں ڈھلتے جا رہے ہیں کراچی کی ایک ڈاکٹر ماہا کی خودکشی کا کیس سامنے آیا تو بالآخر اس کی وجہ بھی یہی درندہ صفت ذہنیت نکلی جس نے ایک نوجوان ڈاکٹر کو خود کشی پر مجبور کر دیا۔

بچوں سے زیادتی کے زیادہ تر کیسوں میں ایسے افراد ملوث ہیں، جن کا تعلق محروم طبقات سے ہے۔ ان کے ہاتھ میں ایک موبائل سیٹ آیا ہے تو ان کے لئے وہ سب کچھ دیکھنا آسان ہو گیا، جو پہلے ان کی دسترس میں نہیں تھا۔ پی ٹی اے والے دعوے تو بہت کرتے ہیں کہ انہوں نے اتنی ہزار فحش ویب سائٹس کو بند کر دیا ہے، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان آج بھی دنیا میں فحش ویب سائٹس دیکھنے والا سب سے بڑا ملک ہے اب اس سے جو بے راہ روی پھیل رہی ہے اس کے اثرات کسی نہ کسی شکل میں تو ظاہر ہوں گے۔ ایسے میں اس گندی ذہنیت رکھنے والوں نے بچوں کو اپنا آسان ہدف سمجھ لیا ہے۔ پکڑے جانے والے ان درندوں کی تفصیلات سے یہ بات بھی سامنے آ چکی ہے کہ زیادہ تر کا تعلق انہی علاقوں سے ہوتا ہے اور وہ بہلا پھسلا کر بچوں کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اسی لئے پولیس اگر ہر گمشدگی کی اطلاع پر تساہل کا مظاہرہ نہ کرے اور فوری کارروائی کرتے ہوئے اس علاقے کے اوباش نوجوانوں کو شک کی بنیاد پر شامل تفتیش کرے تو کئی واقعات رونما ہونے سے پہلے قانون کی گرفت میں آ جائیں۔ عوام کو بھی اس ضمن میں آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے جہاں اپنے بچوں پر نظر رکھیں وہیں اپنے گلی محلے کی بھی نگرانی کریں۔ وگرنہ یہ اندوہناک واقعات اسی طرح رونما ہوتے رہیں گے اور معاشرہ جنگل سے بھی بدتر ہو جائے گا کیونکہ جنگلوں کے بھی کچھ قانون ہوتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -