بارانِ رحمت یا بارانِ زحمت (1)

بارانِ رحمت یا بارانِ زحمت (1)
بارانِ رحمت یا بارانِ زحمت (1)

  

ہم پاکستانی مسلمان بارش کو بالعموم بارانِ رحمت کا نام دیتے ہیں کہ بارشیں عموماً خدا کی رحمت شمار ہوتی ہیں۔ لیکن کس وقت؟…… جب موسمِ گرما طول کھینچتا ہے، دریاؤں میں پانی کم ہو جاتا ہے اور ڈیم خالی ہونے لگتے ہیں تو پانی سے بننے والی بجلی بھی کم پڑنے لگتی ہے۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور بقولِِ شاعر چوٹی سے ایڑی تک پسینہ بہنے لگتا ہے تو مسجدوں میں نماز استسقا پڑھی جاتی ہے، خدا کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگی جاتی ہیں کہ ”ربّا ربّا مینہ ورسا، ساڈی کوٹھی دانے پا“ تو آخر رحمت کریمی کا دریا جوش میں آ جاتا ہے اور جل تھل ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہی بارانِ رحمت جب مون سون میں حد سے گزرنے لگتی ہے تو بارشوں کے تھمنے کی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ نمازِ استسقاء کی معکوس نماز کا کیا نام ہے۔ میں نے ایسی نماز کا ذکر کہیں نہیں پڑھا جو بارشوں کو روکنے کی دعا کہلاتی ہو۔ شاید عربوں کے صحرائی علاقوں میں تفریطِ آب تو ہے، افراطِ آب نہیں اور جب افراطِ آب حد سے بڑھ جائے تو یہ منظر چونکہ عرب کے ریگستانوں میں دیکھنے کو نہیں ملتا اس لئے عجم میں اگر کثرتِ آب کا سماں پیدا ہو جائے اور بارشیں رکنے کا نام نہ لیں تو یہ واقعی ’بارانِ زحمت‘ بن جاتی ہیں۔ صرف کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں ہی نہیں بلکہ پاکستان بھر میں آج کل بارانِ زحمت نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔

بعض ٹی وی چینل صرف کراچی کو ڈوبتا دکھا رہے ہیں یا زیادہ سے زیادہ حیدرآباد،بدین، سکھر، میرپور خاص اور ٹھٹھہ وغیرہ کے علاقوں کی کوریج کر رہے ہیں۔ چند معروف ٹی وی چینلوں کے ہیڈ آفس چونکہ کراچی میں ہیں اس لئے کراچی کے کوچہ و بازار میں بارشوں کی کوریج دکھا دکھا کر ان لوگوں نے پورے پاکستان کو خائف کرنے کا پلان بنایا ہوا ہے۔ چونکہ ان کو زیادہ کمرشلز بھی کراچی سے ملتے ہیں اس لئے کراچی کی حالتِ زار کا نقشہ کھینچنے میں سارا زور بیان صرف کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے باقی چینل بھی انہی چند چینلوں کی کوریج کو اپنے چینلوں پر شفٹ کرکے شہیدوں میں مل جاتے ہیں۔

ملک کے بالائی علاقوں میں جو تباہ کاریاں ان بارشوں نے کی ہیں، ان کی کوریج برائے نام ہے۔ کیونکہ ان میں کسی TVکا ہیڈآفس نہیں۔ پنجاب کے بڑے بڑے علاقوں اور اضلاع میں بھی طوفانِ باد و باراں کی صورتِ حال وہی ہے جو کراچی کی ہے۔ پھر کے ای (KE) کو بجلی کی بندش کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ چند گھروں اور دکانوں کی چھتوں کے بند پنکھے دکھا کر اور بعض خواتین کی بِپتا سنا کر کراچی کے ساتھ وابستگی کااظہار کیا جاتا ہے۔ بار بار بتایا جاتا ہے کہ ملک کا 90% ریونیو صرف شہر کراچی سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس طرح کراچی کی زبوں حالی کا نقشہ کچھ ایسی دردمندی سے کھینچا جاتا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری یہ سمجھتا ہے کہ اگر کراچی میں نالے بپھر گئے ہیں، سڑکیں ندیاں بن گئیں ہیں، گلیوں میں مکانات زیرِ آب آ گئے ہیں تو گویا یہ قیامت صرف کراچی اور سندھ کے ان شہروں پر ہی ٹوٹی ہے جو ان ٹی وی چینلوں کو کمرشلز دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔

یہ نہ سمجھا جائے کہ میں کراچی کی کس مپرسی سے صرفِ نظر کر رہا ہوں۔ لیکن قارئین نے کبھی یہ بھی دیکھا اور سنا ہے کہ کسی ٹی وی نیوز چینل نے کراچی کے پوش علاقوں کی کوریج بھی دکھائی ہو؟…… جس طرح TVنیوز رپورٹرز کراچی کے غریب غربا کے علاقوں کی کوریج کرتے ہیں، جس طرح روتی اور منہ بسورتی خواتین کی فریادیں سناتے ہیں، جس طرح بے بس، نیم برہنہ اور نادار دکانداروں کو ہاتھ کے پنکھے پکڑے بجلی کی طویل بندش کی شکائتیں کرتے ہیں، جس طرح کچے پکے مکانوں کی تباہ حال دیواریں گرنے کے مناظر دکھاتے ہیں اور جس طرح چیخ چیخ کر ان غریب متاثرین کی آہ و بکا سنواتے ہین، اس طرح کبھی کراچی کے پوش علاقوں میں جا کر ان کی خواتین کی آہ و زاری بھی آن ائر کرتے ہیں؟…… ان کی سڑکوں پر تیرتی نئی نکور اور بڑی بڑی گاڑیوں کے پھنس جانے پر ان کار مالکان کا ردعمل بھی دکھاتے اور سناتے ہیں؟ کیا ملیر کینٹ میں طغیانی نہیں آئی اور کیا وہ پوش علاقے جن میں کراچی کے کھاتے پیتے گھرانوں کی آبادیاں ہیں کیا وہ اس ’بارانِ زحمت‘ سے بچے ہوئے ہیں؟…… اگر نہیں تو ان کے گھر، گلیاں، سڑکیں، ڈرائنگ روم اور گیراج وغیرہ کیوں نہیں دکھائے جاتے؟ کیا یہ نیوز چینل صرف غریب غربا کی کوریج کے ٹھیکے دار ہیں؟ کسی چینل نے کسی ہائی کورٹ کے جسٹس، کسی جرنیل، کسی وزیر، کسی مشیر، کسی رکن قومی/ صوبائی اسمبلی کا ’دولت کدہ‘ دکھانے کی زحمت کیوں نہیں کی؟ ایک ہفتے سے کراچی، کراچی اور بربادی بربادی دکھا دکھا اور سنوا سنوا کر سارے پاکستان کے ناظرین و سامعین کا ناک میں دم کر رکھا ہے ان چند نیوز چینلوں نے!

شام ہوتی ہے تو پرائم ٹائم کا ’موسم‘ شروع ہو جاتا ہے۔ ہر نیوز چینل کی SOP یکساں ہے یعنی ایک فرد حکومت کا، دوسرا اپوزیشن کا اور تیسرا کوئی (بظاہر غیر جانبدار) مبصر …… اور ان سب کے بیچوں بیچ فروکش کوئی راجہ اندر یا رانی جنداں بطور اینکر پرسن …… موضوع گفتگو وہی رہتا ہے جس پر کئی روز سے میڈیا پر بحثیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ان کا اَپ ڈیٹ دکھا اور سنا کر وقت پورا کر لیا جاتا ہے۔ اور آج کل تو پورے دو دو گھنٹے بارشوں کی ’کراچی کوریج‘ دکھا کر پورے پاکستان کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ان مسلسل تباہ کن بارشوں کی وبا صرف عروس البلاد کراچی میں ہے۔ اس طرف کسی بندۂ خدا کا دھیان نہیں جاتا کہ اس برس اگر بارشیں زیادہ ہوئی ہیں اور کراچی (اور سندھ) بالخصوص ان کی زد میں آیا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟…… کیا یہ موسمی تبدیلی صرف پاکستان میں آئی ہے یا دنیا کے دوسرے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں ہیں؟…… اس کی جغرافیائی، مقامی یا ماحولیاتی وجوہات کیا ہیں؟…… ان کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟…… اور حفظ ماتقدم کی تدابیر کیا ہیں؟

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

میں سمجھتا ہوں کہ اگر آج ان موضوعات کو ڈسکس نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں ان بارشوں کا کوئی موثر سدباب شائد نہ ہو سکے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے کورونا وائرس پر (ایک حد تک سہی) قابو پا لیا ہے لیکن ہمارے ہمسائے میں کورونا سے جو اموات ہو رہی ہیں ان کے مقابلے میں پاکستان کی حالت بہت حوصلہ افزاء ہے۔ یہ اس لئے ممکن ہوا کہ قوم کے ہر فرد نے وزیراعظم اور ان کی حکومت کا ساتھ دیا، احتیاطی تدابیر اختیار کیں، اس وبا کو سنجیدگی سے لیا اور آج اس کے ثمرات سے بہرہ اندوز ہو رہے ہیں۔

خدارا اس موسمی تبدیلی کو بھی سی انداز سے ٹیکل (Tackle) کریں۔ صبح و شام و شب بہتے نالے، ابلتی سڑکیں، تیرتے موٹرسائیکل، طغیانی میں گھرے علاقے، غریب غربا کی آبادیاں اور ان میں آہیں بھرتی خواتین کی کوریج کم کریں اور اس امر پر زیادہ توجہ دیں کہ اگر خدانخواستہ ستمبر کا مہینہ بھی اگست جیسا ہو گیا تو اس سے کیسے نمٹا جائے گا…… بارشی نالوں کی طرف ناظرین کی توجہ مبذول کروائیں کہ اگر وہ صاف ہوتے تو کراچی کی یہ حالت نہ ہوتی۔ ان نالوں پر تجاوزات کی جو بھرمار تعمیر کی گئی ہے اس کا رونا نہ روئیں اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے درخواست کریں کہ وہ ان تجاوزات کو گرانے اور صاف کرنے میں کسی تساہل کا مظاہرہ نہ کریں …… جو ہوا سو ہوا…… اب اگر کراچی کو بچانا ہے، اگر پاکستان کی گرتی ہوئی برآمدات کو بحال کرنا ہے تو سب سے پہلے بارشی نالوں کی صفائی اور ان میں پھنسا ہوا گزشتہ تین عشروں کا کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے میں حکومت کی مدد کریں۔ ایسے ٹاک شوز نہ چلائیں جن میں ان نالوں پر تعمیر شدہ تعمیرات گرائے جانے والوں کی فریاد و فغاں اور آہ و بکا بھی شامل ہو۔ اس طرح کی انسانی ہمدردی سے اجتناب کریں …… ملیریا اگر جان لیوا ہو جائے تو کڑوی کونین کی گولیاں کھانی ناگزیر ہو جاتی ہے!     (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -