شریف گروپ آف کمپنیز کے سی ایف او کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع 

شریف گروپ آف کمپنیز کے سی ایف او کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع 

  

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ملوث شریف گروپ آف کمپنیز کے سی ایف او ملزم محمد عثمان کے  جسمانی ریمانڈ میں 14 ستمبر تک توسیع کردی،احتساب عدالت کے جج اکمل خان نے ملزم محمد عثمان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر محفوظ کیاگیافیصلہ سنا یا گزشتہ روز ملزم محمد عثمان کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت میں پیش کیا،نیب پراسیکیوٹر عاصم ممتاز اور تفتیشی افسر حامد جاوید نے دلائل دیتے ہوئے ملزم محمد عثمان کے مزید 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،دوران سماعت فاضل جج نے نیب کے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ کیس سے متعلق آگاہ کریں، ملزم پر الزامات کیا ہیں؟ ملزم کا کتنے دن کا ریمانڈ ہوچکا ہے؟ جس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا 28 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہوچکا ہے، فاضل جج نے استفسار کیا کہ ان 28 دنوں میں کیا پیش رفت ہوئی؟ جس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم محمد عثمان،  شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے  اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے اہلخانہ کی کمپنیوں کیلئے قرضہ لیتا رہا، ملزم نے حمزہ شہباز کی مختلف کمپنیوں کے لئے قرضہ لیا،، حمزہ شہباز، نصرت شہباز سمیت دیگر کی کمپنیوں کے خلاف مزید قرضے کی تحقیقات درکار ہیں،ملزم محمد عثمان کے وکلاء نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ریفرنس دائر ہونے سے 2 دن قبل ملزم عثمان کو گرفتار کیا گیا، ملزم سے گرفتار ملزمان کے اکاؤنٹس کی معلومات پوچھی جاتی ہیں جسکا ملزم پابند نہیں، نیب 28 روز میں محمد عثمان سے کچھ تحقیقات نہیں کرسکی، نیب پراسیکیوٹر ایک ہی بنیاد پر ملزم عثمان کا بار بار ریمانڈ مانگ رہے ہیں، محمد عثمان کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا  عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد مذکورہ بالا حکم جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پیشی تک ملتو ی کردی۔

مزید :

علاقائی -