لاہور ہائیکورٹ کا ٹرائل عدالتوں کے ججوں کو دفعہ 342کے تحت بیانات خود قلمبند کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا ٹرائل عدالتوں کے ججوں کو دفعہ 342کے تحت بیانات خود قلمبند ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے صوبہ بھر کی ٹرائل عدالتوں کے ججوں کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ملزموں کے بیانات خود قلمبند کرنے کا حکم دے دیا،لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس طارق سلیم شیخ نے قتل کیس میں عمر قید کے ملزم محمد قاسم کی سزا کے خلاف اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کیاہے، عدالت نے تحریری فیصلہ تمام سیشن ججوں اور خصوصی عدالتوں کے ججوں کو بھی ارسال کرنے کا حکم دیاہے،عدالت نے ٹرائل کورٹ کے جج کی طرف سے ملزم محمد قاسم کابیان قلمبند نہ کرنے کی بنیاد پراس کی عمر قید کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے متعلقہ عدالت کو مقدمہ کے دوبارہ ٹرائل کاحکم بھی جاری کیاہے۔عدالتی تحریری فیصلہ میں کہاگیاہے کہ فوجداری مقدمات کے ٹرائل کے دوران ملزموں کے بیانات ججز خود قلمبند کریں، ٹرائل عدالتوں کے جج ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ملزموں سے الزامات سے متعلق خود سوال کریں، عمومی طور پر ٹرائل عدالتوں کے جج ملزموں کے بیانات ریکارڈ نہیں کرتے، ٹرائل عدالتوں کے جج ملزموں کے بیانات کا جائزہ بھی نہیں لیتے، عموماً پراسیکیوٹرز یا مدعی مقدمہ کے وکلاء ملزموں کے وکلاء کو سوالنامہ دیتے تھے، ملزموں کے وکلاء سوالنامے کی بنیاد پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان تیار کرتے ہیں،عدالتی تحریری فیصلے میں مزید کہاگیاہے کہ ٹرائل عدالتوں میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 پر مکمل عملدرآمد نہ کرنا قانونی کی خلاف ورزی ہے،بیان ریکارڈ کرنے کا معاملہ خالصتاً عدالت اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے، بیان قلمبند کئے جانے کے دوران کسی لیگل ایڈوائزر کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، ججوں کو چاہیے کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ملزموں کے منہ سے ان کا موقف سنیں،تحریری فیصلہ کے مطابق ملزم نے اپیل میں دوران ٹرائل ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت بیان قلمبند نہ کئے جانے کا موقف اپنایاہے،ملزم نے سزا کے خلاف اپنی اپیل میں شواہد سے آمنا سامنا نہ کرانے کا بھی موقف لیا ہے، فرید ٹاؤن ساہیوال پولیس نے ملزم قاسم کے خلاف نسبتی بہن معراج بی بی کے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا، پولیس نے ملزم کے برادر نسبتی نیاز احمد کی درخواست پر قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا، سیشن عدالت ساہیوال نے2009ء میں ملزم کوعمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف اس نے یہ اپیل دائر کی تھی۔

بیانات قلمبند

مزید :

صفحہ آخر -