دِل کی باتیں اپنی خواتین سے

دِل کی باتیں اپنی خواتین سے

  

شکر  ہے ربِ رحیم کا کہ کورونا کا زور ٹوٹا ہے۔ لوگ اگرچہ احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر عمل کم کر رہے ہیں تاہم یہ آسمانی عطا ہے کہ مہلک وائرس کی یلغار میں کمی واقعی ہوئی ہے۔بہرحال ہمیں احتیاط سے کام لینا ہو گا۔بصورتِ دیگر اس موذی مرض کے پلٹنے میں دیر نہیں لگے گی،جیسا کہ نیوزی لینڈ اور جاپان میں مہلک وبا نے پھر سر اٹھا لیا ہے۔ افسوس اِس بات کا ہے کہ باخبری کے باوجود ہمارے لوگ لاپروائی سے کام لے رہے ہیں اور اِس حقیقت کو جانتے بوجھتے ہوئے کہ ان کی بے احتیاطی اس جان لیوا وبا کو دوبارہ مسلط کر سکتی ہے۔

البتہ اس وبا کا ایک مثبت اثر دیکھنے میں ضرور آیا ہے کہ لوگوں نے غیر ضروری کاموں سے اعراض کرنا شروع کر دیاہے،غیر اہم سرگرمیوں سے خود کو دورکر لیا ہے اور بے جا مصروفیتوں سے اجتناب کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو اِس وبا نے کتنے ہی کاموں کی افادیت اور اہمیت گھٹا دی ہے، جو  ناگزیر جانے جاتے تھے، اب مون سون کی گہما گہمی ہی کو لے لیں۔ ساون شروع ہوا اور ختم بھی ہو گیا،بھادوں کی سختی بھی اب ویسی نہیں رہی۔ بارشوں نے کراچی اور حیدر آباد میں مسائل اور مصائب پیدا کر دیئے کہ لوگ جن میں ایسے اُلجھے کہ ابھی تک نہیں نکلے۔ لاہور میں بارشیں اگرچہ کم ہوئیں،لیکن جو ہوئیں انہوں نے شہر کے نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کو پریشان ضرور کیا ہے۔ بہرحال اسی کا نام زندگی ہے۔ مشکلات اور آسودگی، دُکھ سکھ اور غمی خوشی یونہی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔خوشی کی بات ہے کہ میرے وطن پاکستان کے لوگ، مرد و خواتین، بزرگ اور بچے زندہ دِل اور خوش طبع ہیں۔زندگی کے ساتھ کندھا رگڑتے ہیں، شکوہ کرتے ہیں،لیکن امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔گھٹنے گھٹنے پانیوں میں اترنا پڑے،لیکن سموسے، پکوڑے اور پٹھورے کھانے باہر ضرور نکلیں گے۔ موسم ِ برسات کی سختیاں جھیلتے ہیں اور پھر خاموشی سے سردیوں کے انتظار میں لگ جاتے ہیں۔

کورونا وائرس نے فیشن کی چکا چوند، شادی بیاہ کی گہما گہمی اور تقریبات کی رنگینی کو بھی ایسا متاثر کیا کہ ابھی تک ان ثقافتی و سماجی میل ملاپ کو انعقاد کا موقع نہیں ملا۔مل بیٹھنے کی جگہیں اور ریستوران اگرچہ فعال  ہو چکے ہیں، لیکن بھیڑ بھاڑ ہنوز نہیں ہے۔لوگ آہستہ آہستہ اس دہشت اور خوف سے نکل رہے ہیں جس نے پانچ چھ ماہ سے ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ تسلی کی بات یہ ہے کہ وسوسوں اور خدشوں کے باوجود 74واں یومِ آزادی پورے زور وشور اور شایانِ شان طریقے سے منایا گیا۔اس بار بھی یومِ آزادی پر پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کو نہیں بھولی جو ایک برس سے زائد عرصے سے جبری کرفیو کے زیر سایہ سانس لے رہے ہیں۔مقبوضہ وادی جموں و کشمیر کی پاک سرزمین کی فضا کو آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی غاصب فوج کے درندوں نے اپنے ناپاک وجود کی بساند سے مسموم کر رکھا ہے۔بہ ہزار کوشش وہ کشمیریوں کے جذبہئ آزادی کو کمزور نہیں کر سکے۔ اہل ِ کشمیر بلاشبہ آزادی حاصل کریں گے اور بھارتی عفریت یقیناً ایک دن جہلم کے پانیوں کی تہہ میں دفن ہو گا۔

امید ہے اگلے ماہ، یعنی15ستمبر2020ء سے سکول وکالج کھل جائیں گے۔ گھرانوں کی مصروفیات اور تعلیمی اداروں کی رونقیں دوبارہ بحال ہو جائیں گی۔ طلباء و طالبات کا وقت اگرچہ ضائع ہوا ہے،لیکن قیمتی جانوں کے تحفظ کے لئے تعلیمی اداروں کی بندش کا اقدام زیادہ ضروری تھا۔ خیال رہے کہ تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ اِس بات کا دھیان ضرور رکھا جائے کہ بچوں کی گھروں سے سکول اور سکولوں سے گھر آمدورفت ایک نظم اور قاعدے کے تحت ہو، کیونکہ شہروں میں ٹریفک ایک اژدھام بن چکی ہے۔افسوس اِس بات کا ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی بے ہنگم ہجوم کی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں اور یوں بچے جب گھر پہنچتے ہیں تو سفر کے دباؤ سے نڈھال ہو چکے ہوتے ہیں۔خواتین کی ذمہ داریاں البتہ اِس دوران یقینا بڑھ جائیں گی، گھر کے کام کاج کے علاوہ بچوں کی دیکھ بھال، انہیں کھانا پلانا اور اُن کے تعلیمی اوقات کا خیال رکھنا خواتین پر ذہنی دباؤ تو ضرور ڈالتا ہے، لیکن آفرین ہے ہماری خواتین پر جو سارے امور خوش اسلوبی سے سنبھالتی اور سرانجام دیتی ہیں۔

ستمبر کا مہینہ بہت سی سرگرمیوں کو اپنے ساتھ لے کر آ رہا ہے، لہٰذا ربِ کریم سے دُعا مانگنی چاہئے کہ وہ حالات کو ہمارے حق میں احسن بنائے اور ہمیں سخت آزمائشوں سے دور رکھے۔

دمِ رخصت عرض ہے کہ1442 ہجری کے محرم الحرام کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ قربانی کی ادائیگی پر اسلامی سال کا اختتام ہوتا ہے اور قربانی ہی پر نئے سال کا آغاز ہوتا ہے۔یہ مقدس مہینہ ہمارے لئے کتنے ہی اسباق لئے ہوئے ہے، جن پر عمل پیرا ہو کر ہم دُنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ربِ ذوالجلال ہم پر رحم اور اپنا فضل وکرم نازل فرمائے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -