فرقہ واریت پھیلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کرینگے: عمران خان، اوگراکی سمری مسترد، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ

        فرقہ واریت پھیلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کرینگے: عمران خان، ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ دیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم نے 10 محرم الحرام کے موقع پر فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت ایکشن لینے کا عندیہ دے دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا یوم عاشورکو پر امن طریقے سے منانے پر قوم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں یوم عاشور کو پر امن طریقے سے منانے پر میں قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، تاہم بدقسمتی سے مجھے اطلاع ملی ہے کہ کچھ عناصر نے اس موقع پر فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے، ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کروں گا۔دریں اثناوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے عوام کی مشکلات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے رواں ہفتے "کراچی ٹرانسفارمیشن پلان" کو حتمی شکل دی جائے۔وزیرِاعظم عمران خان کی زیرصدارت کراچی ٹرانسفارمیشن پلان" پر اجلاس میں وفاقی وزراء اسد عمر، گورنر سندھ عمران اسمعیل، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹنٹ جنرل محمد افضل شریک ہوئے۔ وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے وزیرِ اعظم کو "کراچی ٹرانسفارمیشن پلان" پر تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ"کراچی ٹرانسفارمیشن پلان" کراچی کی ترقیاتی ضروریات کو مد نظر رکھ کر تشکیل دیا گیا ہے۔وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا ملک کی ترقی کراچی کی ترقی سے وابستہ ہے۔ کراچی میں سالہا سال سے درپیش عوامی مسائل کا مکمل ادراک ہے، کراچی کے مسائل کے حل اور ترقی کے لئے وفاق اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے رواں ہفتے "کراچی ٹرانسفارمیشن پلان" کو حتمی شکل دی جائے تا کہ اس کی باقاعدہ منظوری اور عمل درآمد کا کام شروع کیا جا سکے۔ دوسری طرف  وزیراعظم عمران خان نے اوگرا کی سمری مسترد کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیراعظم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پورے ملک میں بارشوں سے مشکل صورتحال کا سامنا ہے، موجودہ حالات میں عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔  اوگرا نے پٹرول 9 روپے 71 پیسے مہنگا کرنے کی سمری بھجوائی تھی۔ جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کاروباری برادری کی راہ میں حائل مشکلات دور کرنا، منافع بخش کاروبار کے لئے موافق فضاء  کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، موجودہ حکومت نے ترجیحاتی بنیادوں پر تعمیرات کے شعبے کے لئے مراعات کا اعلان کیا تاکہ نہ صرف تعمیرات بلکہ اس سے وابستہ صنعتوں کا فروغ بھی ممکن بنایا جا سکے۔وزیرِ اعظم  نے ان خیالات کا اظہار   امریکن بزنس کونسل کے وفد سے  ملاقات  میں کیا جنہوں نے پیر کو یہاں ان سے ملاقات کی۔مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت  عبدالرزاق داؤد، چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری و دیگر سینئر افسران بھی ملاقات میں موجود تھے۔وفد نے موجودہ حکومت کی جانب سے کاروباری برادری کے لئے سہولیات اور خصوصاً ایز آف ڈوئنگ بزنس کے حوالے سے متعدد اقدامات کو سراہا۔ وفد میں موجود مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی کمپنیوں کی کاروباری سرگرمیوں اور متعلقہ معاملات پر وزیرِ اعظم کو بریف کیا۔ وفد  نے وزیرِ اعظم سے گفتگو  میں کہا کہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت پاکستان میں کام کرنے والی امریکی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور وہ اپنی سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینے کی خواہاں ہیں۔کاروباری طبقے کے لئے مزید آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے وفد نے مختلف تجاویز وزیر اعظم کو پیش کیں۔ وزیرِ اعظم نے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کی راہ میں حائل مشکلات دور کرنا، منافع بخش کاروبار کے لئے موافق فضاء  کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ترجیحاتی بنیادوں پر تعمیرات کے شعبے کے لئے مراعات کا اعلان کیا تاکہ نہ صرف تعمیرات بلکہ اس سے وابستہ صنعتوں کا فروغ بھی ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے تاکہ ایسی کاروباری سرگرمیوں کی راہ میں حائل مشکلات کو دور کیا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے وفد کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر مشیر تجارت اور مشیر خزانہ کو ہدایت کی کہ ان کا جائزہ لیا جائے تاکہ قابل عمل تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ وفد نے امریکن بزنس کونسل کی جانب سے مزید 17 ملین روپے کا چیک وزیرِ اعظم کورونا ریلیف فنڈ کے لئے پیش کیا۔

وزیر اعظم

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان علماء کونسل اور سنی رابطہ کونسل سمیت پاکستان بھر کے جید علماء  کرام نے اسلام آباد اور کراچی میں صحابہ کرام کی توہین پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش قرار دیا ہے علماء کرام نے دونوں واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔سوموار کے روز پاکستان علمائے کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی نے دیگر علمائے کرام و مشائخ کے ہمراہ نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تین ماہ سے ضابطہ اخلاق پر عملد رآمد کرنے کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں، کافی حد تک عملدرآمد ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کا عشرہ نہایت امن و امان کے ساتھ گزرا چند جگہ پر ایسے واقعات رونما ہوئے جس میں فرقہ واریت، شر پسندوں نے اپنی کوشش کی مگر ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے، طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ انتشار پھیلانے والے شر پسند عناصر سے علمائے کرام و مشائخ کا کوئی تعلق نہیں ہم ایسے عناصر سے بھرپور لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں،انتشار اور فساد پھیلانے والوں کو اجازت نہیں دی جائے گی، مجروں کی گرفتاریاں اچھی بات ہے اور ملزمان پر سپیڈی ٹرائل ہونا چاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ رات کے حکومتی اقدامات سے ملک بڑے فساد سے بچ گیااسلام آباد میں بھی جو گستاخی ہوئی اس کے خلاف شیعہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف واحدی بھی تھانے گئے تھے۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ دشمن کے پاس فرقہ واریت پھیلانے کا آخری تیر رہ گیا تھا اس نے چلایا، امہات المومنین، صحابہ کرام، اہلبیت عظام کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف بیک زبان ہونا ہوگا، ایسے عناصر کی سزا سزائے مو ت مقرر کی جانی چاہئے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ضیاء للہ شاہ نے کہا کہ ہم اسلام آباد کراچی میں ہوئے توہین آمیز واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ہم ان واقعات سے اعلان لا تعلقی کرتے ہیں۔ کانفرنس کے اختتام پر مولانا طاہر اشرفی نے اداروں سے بھی گزارش کی کہ وہ پاکستان میں امن کو صحیح معنوں میں برقرار رکھنے کیلئے مجرموں کو عبرت کا نشان بنائیں دوسری طرف جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے محرم الحرام کے دوران صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے معتدل شیعہ  علما ء سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والے عناصر کی مذمت کریں جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے محرم الحرام میں اسلام آباد اور کراچی میں ہونے والے توہین آمیز واقعات پر آڈیو بیان جاری کرتے ہوئے  انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں  صحابہ  ؓکی توہین کا واقعہ عالم اسلام کے جذبات مجروح کرنے کا باعث بنا ہے اسی طرح کراچی میں صحابہ کرامؓ کی سربازار توہین سے امت مسلمہ میں غصہ کے جذبات پائے جاتے ہیں انہوں نے کہاکہ صحابہ کرام ؓکی توہین کے دونوں واقعات فرقہ واریت کی آگ بڑھانے اور ملک میں خون خرابہ کرانے کی منظم سازش کا حصہ ہے   

علما کونسل

مزید :

صفحہ اول -