شہر قائد کے کئی علاقوں سے ابھی تک پانی نہ نکالا جا سکا، بجلی بھی بند، لوگوں کا احتجاج، کراچی میں امدادی کارروائیاں جاری، آج پھر بارش کی پیش گوئی، دریائے جہلم، چناب میں سیلاب  جھنگ کے 80دیہات زیر آب

شہر قائد کے کئی علاقوں سے ابھی تک پانی نہ نکالا جا سکا، بجلی بھی بند، لوگوں ...

  

 اسلام آباد، جھنگ،کراچی(سٹاف رپورٹر، مانیترنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاک بحریہ کا کراچی اور بدین کے بارش سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ کی ٹیموں نے سول انتظامیہ کیساتھ مل کر بدین میں نہرکے شگاف کی مرمت کی اور مختلف مقامات سے نکاسی آب میں حصہ لیا۔ پاک بحریہ کے موبائل میڈیکل کیمپ اورٹیموں نے بدین کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں افراد کو طبی امداد اور ادویات بھی فراہم کیں۔دوسری جانب کراچی میں کلفٹن اور ڈیفنس کے علاقوں میں میڈیکل ٹیمز نے گھروں میں محصور افراد کو طبی امداد فراہم کی۔ کراچی میں یونس آباد، سرجانی ٹاؤن کے علاقوں میں بارش متاثرین میں تیار کھانے کے پیکٹس کی تقسیم کیے گئے۔ کراچی میں حالیہ بارشوں سے انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا، گورنر ہاؤس رینجرز ہیڈ کوارٹرز کے قریب سڑک دھنس گئی، جس سے ٹرالرپھنس گیا، کورنگی انڈسٹریل ایریا، جام صادق پل اور کازوے پر ٹریفک جام ہوگئی، کے پی ٹی انٹرچینج اور قیوم آباد میں بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔دوسری جانب محکمہ موسمیات نے کراچی میں مون سون سیزن کے آج سے ساتویں سپیل کی بھی پیش گوئی کر دی۔ موسم کی خبر دینے والوں نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ادھر کراچی میں چار روز پہلے ہونے والی بارش کے بعد کئی علاقوں میں بجلی تاحال بحال نہ ہوسکی۔ کلفٹن بلاک 8 میں بجلی کی مسلسل بندش پر علاقہ مکین سڑکوں پر آگئے، احتجاج میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔مظاہرین نے سڑک بلاک کر دی، ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ 4 روز سے شدید مشکلات کا شکار ہیں، بجلی فوری بحال کی جائے۔اسلام آباد میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری  رہی۔ راول ڈیم میں پانی کی سطح انتہائی حد کو پہنچنے کے بعد انتظامیہ نے سپل ویز کھول دیئے۔انتظامیہ کے مطابق ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1752 فٹ ہے۔ جب کہ پانی کی سطح 1751.90 فٹ پر پہنچنے کے بعد سپل ویز کھولے گئے۔ ڈیم سے 6000 کیوسک پانی کا اخراج کیا جائے گا۔دریں اثنادریائے جہلم  اور چناب میں جھنگ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب، ہیڈ تریموں پر 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہیسیلاب کے باعث، 85 سے زائد دیہات زیر آب آگئے، میت لے جانے کیلئے کشتی کا استعمال کیا جانے لگا۔۔پی ڈی ایم اے نے بھی صورتحال کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کر دی ہیں۔ مری اور گلیات میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ادھر ملک بھر میں طوفانی بارشوں سے دریا بپھرنے لگے ہیں۔ جھنگ کے قریب دریائے چناب میں سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ سرگودھا روڈ زیر آب آنے سے ٹریفک روانی متاثر ہے۔سیلاب کے باعث پچاس سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ کئی بستیاں ڈوبنے سے ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئیں۔ ڈیرہ بگٹی میں بھی بارش کے بعد ندی نالے بپھر گئے۔ جگہ جگہ بند ٹوٹنے سے پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ تحصیل سوئی میں ایک گھر کی دیوار گر گئی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔دوسری طرف ملک بھر میں جاری بارش سے آبی ذخائر میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ترجمان واپڈا کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 184000 کیوسک اور اخراج 183400 کیوسک ہے۔دریائے کابل میں بھی سیلابی صورتحال ہے۔ نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 42800 کیوسک اور اخراج 42800 کیوسک ہے۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 33400 کیوسک اور اخراج 45700 کیوسک ہے جبکہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 7 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 5 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1550.00 فٹ ہے جبکہ منگلا ڈیم میں 1241.15 فٹ پانی موجود ہے۔

بارش/ سیلاب

مزید :

صفحہ اول -