صدارتی انتخابات، ٹرمپ جیتے گا یا جوبائیڈن، 29نومبر کو پہلا صدارتی مباحثہ فیصلہ کن ثابت ہو گا

صدارتی انتخابات، ٹرمپ جیتے گا یا جوبائیڈن، 29نومبر کو پہلا صدارتی مباحثہ ...

  

 واشنگٹن(اظہر زمان+ تجزیاتی رپورٹ) امریکہ کی دونوں بڑی پارٹیوں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک نے روایتی انداز میں اپنے اپنے قومی کنویشنز میں بالترتیب صدر ٹرمپ اور سابق نائب صدر جو بیڈن کو 3نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنے امیدوار کے طور پر باقاعدہ نامزد کر دیا ہے۔ ان امیدواروں نے رسمی طور پر اپنی نامزدگی کو باقاعدہ قبول بھی کر لیا ہے جس کے بعد تقریباً دو ماہ بعد ہونے والے انتخابات کے لئے دونوں پارٹیوں کی چلائی جانے والی مہمیں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ابھی تک جو انتخابی جائزے سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ڈیمو کریٹک امیدوار جو بیڈن کو صدر ٹرمپ پر معمولی برتری حاصل ہے لیکن کہنہ مشق ماہرین انہیں تسلیم نہیں کرتے اور اصرار کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہونے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی رائے کی بنیاد یہ ہے کہ یہ جائزے ”پاپو لر ووٹ“ ظاہر کرتے ہیں جبکہ انتخابات کی یہ بنیاد ہی نہیں ہے۔ صدر کا انتخابات تمام ریاستوں سے منتخب ہو کر آنے والے مندوب بالواسطہ طریقے سے کرینگے۔ اس کی مثال وہ یہ دیتے ہیں کہ سابقہ انتخابات کے جائزوں میں ہیلری کلنٹن کو معمولی برتری حاصل تھی۔ اگر پاپولر ووٹ سے فیصلہ ہوتا تو جیت ہیلری کلنٹن کی تھی لیکن بالواسطہ انتخاب میں صورتحال تبدیل ہو گئی۔کرونا وائرس کی وباء نے صدارتی انتخابات کے سارے عمل اور مہموں کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔ پارٹیوں کے نامزدگی کے پرائمری انتخابات روایت کے مطابق نہیں ہوئے انتخابی ریلیاں بھی محدود طریقے سے منعقد ہوئیں۔ حتیٰ کہ دونوں پارٹیوں کے قومی کنونشن بھی عملاً ”ورچوئیل“ یا آن لائن ہوئے جہاں امیدواروں کی نامزدگی کا حتمی فیصلہ اور اعلان ہونا تھا۔3نومبر کوانتخابات سے قبل دونوں امیدواروں کے درمیان تین مباحثے ہونے والے ہیں جو بہت حد تک ان کی مقبولیت یا کامیابی کو واضح کر دینگے۔ پہلا مباحثہ 29ستمبر کو اوہائیو ریاست کے شہر کلیولینڈ میں ہو گا جو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس میں دونوں امیدواروں کی کارکردگی آئندہ کے انتخابی ماحول موڈ متعین کر دے گی۔دوسراصدارتی مباحثہ15اکتوبر کو فلوریڈا ریاست کے شہر میامی اور تیسرا اور آخری مباحثہ 22اکتوبر کو ریاست ٹینی سی کے شہر نیش ول میں منعقد ہو گا۔ یاد رہے کہ امریکہ کا صدارتی انتخاب پاپولر ووٹ کے ذریعے نہیں ہوتا بلکہ تمام پچاس ریاستیں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا(ڈی سی) ان کو الاٹ کئے گئے کوٹے کے مطابق الیکٹورل کالج کے کل 538مندوبین کا چناؤ 3نومبر کو کرتے ہیں۔ اسی انتخاب کے آخر میں پتہ چل جاتا ہے کہ کس امیدوار کو کتنے مندوب حاصل ہوئے ہیں۔ کامیاب ہونے کے لئے کسی امیدوار کو کم از کم 270یا پچاس فیصد سے زائد مندوب حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاستوں کی آبادی کے اعتبار سے ان کے مندوبین کی تعداد طے کی جاتی ہے۔ چھ ریاستوں کی آبادی زیادہ ہونے کے باعث ان کے مندوبین کی تعداد دوسری ریاستوں سے زیادہ ہے جن میں کیلیفورنیا 55، ٹیکساس 38، نیو یارک 29، ایلی نوائے 20، فلوریڈا 29، اور پنسلوینیا 20شامل ہیں۔ زیادہ تر ریاستیں روایتی طور پر دونوں میں سے کسی ایک کی اکثریت والی ہیں۔ جہاں سے ان پارٹیوں کو مندوب ملتے ہیں۔ قانون کے مطابق جس ریاست سے کسی ایک امیدوار کی پاپولر ووٹ میں اکثریت ہو جائے اس کے تمام مندوب اس امیدوار کو مل جاتے ہیں۔ ان انتخابات میں ”جنگ و جدل والی“ یا ”تبدیل ہونے والی“ ریاستوں کی ہمیشہ اہمیت ہوتی ہے۔ ان کو جیتنے کی کوشش کی جاتی ہے جو کچھ بھی فیصلہ کر سکتی ہیں۔ اس لئے ان ریاستوں کا جھکاؤ انتخابی نتائج میں فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ انتخابی ماہرین ان ”تبدیل ہونے والی“ ریاستوں پر مکمل اتفاق نہیں رکھتے لیکن عمومی طور پر ایری زونا، مشی گن، فلوریڈا، پنسلوینیا اور وسکونسن پر زیادہ اتفاق پایا جاتا ہے۔ بعض ماہرین اس میں نیو ہیمشائر اور نارتھ کیرولینا کو بھی شامل کرتے ہیں۔ اس وقت کرونا وائرس کی وباء کے باوجود امریکہ کی دونوں بڑی پارٹیاں صدارتی انتخابات میں اپنے امیدواروں کو حتمی شکل دینے کے بعد اپنی اپنی مہم جاری کی ہوئی ہیں۔ ری پبلکن پارٹی نے روایت کے مطابق صدر ٹرمپ کو دوسری مرتبہ الیکشن لڑنے کے لئے ٹکٹ جاری کر دی ہے۔ ان کے ساتھ نائب صدر کے امیدوار بدستور مائیک پنس ہی ہیں جو اس وقت اسی عہدے پر فائز ہیں۔ ڈیمو کریٹک پارٹی نے اوبامہ دور کے سابق نائب صدر جوبیڈن کو صدارت کے لئے نامزد کیا ہے ان کے ساتھ ایک خاتون سینیٹر کمالا ہیرس کو نائب صدارت کی ٹکٹ ملی ہے۔3نومبر کو الیکٹورل کالج کے 5348مندوبین چنے جائیں گے جن میں سادہا کثریت حاصل کرنے والے امیدوار کو کامیاب قرار دیا جائے گا۔ جیت ہار کا فیصلہ 3نومبر کی رات یا زیادہ سے زیادہ 4نومبر کو صبح کو ہو جاتا ہے۔ تاہم الیکٹورل کالج کے ارکان14دسمبر کو اپنے اجلاس میں رسمی طور پر صدر کو منتخب کرنے کے لئے ووٹ ڈالتے ہیں جس کے بعد 20جنوری کو نیا صدر اپنا حلف اٹھا لے گا۔ اس مرتبہ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا نیا سوال پیدا ہوا ہے جس کی زیادہ حمایت ڈیمو کریٹک پارٹی کی طرف سے کی جا رہی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ پولنگ سٹیشن پر جا کر ووٹ ڈالنا کرونا وائرس کی وباء کی وجہ سے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ری پبلکن صدر ٹرمپ ڈاک کے ذریعے زیادہ ووٹنگ کے رجحان کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھ رہے ہیں جن کا خیال ہے کہ اس میں جعل سازی کا زیادہ امکان ہے۔ دونوں امیدوار ٹرمپ اور بیڈن اپنی اپنی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ دو ماہ دور انتخابات کے لئے اپنی انتخابی مہموں میں سرگرم ہیں جنہیں اپنی پارٹیوں کی قوت حاصل ہے۔ صدر ٹرمپ ری پبلکن کنونشن کے بعد بہتر پوزیشن میں آ رہے ہیں۔ ویسے بھی پہلے سے موجود صدر کو ہرانے کی روایت نہیں ہے صدر ووٹرز کو فائدہ پہنچانے والے بہت سے کارڈ استعمال کرنے والے ہیں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

امریکی الیکشن

مزید :

صفحہ اول -