گستاخی کے واقعات ملکی امن کیلئے خطرناک‘ قائدین وفاق المدارس 

گستاخی کے واقعات ملکی امن کیلئے خطرناک‘ قائدین وفاق المدارس 

  

نورپورنورنگا (نامہ نگار) کراچی,اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں  گستاخی کے پے درپے واقعات اسلامیان پاکستان کی دلآزاری ہی نہیں امن و امان اور قومی سلامتی پر خود کش حملوں کے مترادف ہیں,گستاخانہ مائنڈ سیٹ کا راستہ ہر قیمت پر روکنا ہوگا ورنہ دشمن اسے(بقیہ نمبر18صفحہ6پر)

 ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے,صرف ایف آئی آر کی کاغذی کاروائی کافی نہیں سنجیدگی سے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے,مقدس ہستیوں کی گستاخی کے پے درپے واقعات تحفظ بنیاد اسلام بل ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ سخت قانون سازی کے متقاضی ہیں, وطن عزیز کی سلامتی اور استحکام کے خلاف اس سے قبل ہونے والی سازشوں کو بھی ناکام بنایا اور آئندہ بھی اسلام اور پاکستان کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے رہنماؤں مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر,مولانا انوار الحق اور مولانا محمد حنیف جالندھری نے کراچی,اسلام آباد اور ملک کے دوسرے شہروں میں گستاخی کے پے درپے واقعات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا انہوں نے گستاخی کے ان واقعات کو اسلامیان پاکستان کی دلآزاری کے ساتھ ساتھ ملکی امن و امان اور قومی سلامتی پر خود کش حملے قرار دیا-وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہم نے بہت محنت کی,بہت قربانیاں دیں اب ہم مٹھی بھر عناصر کو دوبارہ فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی اجازت نہیں دیں گے-انہوں نے قومی سلامتی کے اداروں سے اس صورت حال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صرف کاغذی کاروائی یا زبانی جمع خرچ کافی نہیں اس حوالے سے فوری اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں,گستاخی کے مرتکب افراد کو نشان عبرت بنایا جائے اور گستاخانہ مائنڈ سیٹ کا راستہ ہر قیمت پر روکا جائے-وفاق المدارس کے قائدین نے معتدل اور محب وطن رہنماوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے  داخلی احتساب کے نظام پر توجہ دیں اور بیرونی اشاروں پر شرانگیزی کرنے والے عناصر کو اپنی صفوں سے نکال باہر کریں -وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ صحابہ کرام کی گستاخی کے پے درپے واقعات تحفظ بنیاد اسلام بل کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت قانون سازی وقت کا تقاضہ ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -