سیلاب کا خطر ہ‘ دریائی بیٹ‘ فلڈ بندوں پر چیک پوسٹیں قائم‘ ایمرجنسی نافذ 

    سیلاب کا خطر ہ‘ دریائی بیٹ‘ فلڈ بندوں پر چیک پوسٹیں قائم‘ ایمرجنسی نافذ 

  

ملتان‘ خانیوال‘ راجن پور (سپیشل رپورٹر‘ نمائندہ پاکستان‘ نامہ نگار‘ ڈسٹرکٹ رپورٹر)  دریائے چناب میں اونچے  درجہ کے سیلابی ریلہ تریموں پہنچ گیا،اگلے 08گھنٹوں میں ملتان مظفرگڑھ کے علاقوں سے گزرے گا۔ملتان کے 583مواضعات زیر آب آنے کا خدشہ،دریائے(بقیہ نمبر19صفحہ6پر)

 جہلم سے آنے والا سیلابی ریلہ شامل ہونے سے صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا محکمہ انہار نے دریائی بیٹ اور فلڈ بندوں پر چیک پوسٹیں قائم کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کردی،ضلعی انتظامیہ بھی ریڈ الرٹ مقامی لوگو ں نے نقل مکانی شروع کردی۔تفصیل کے مطابق دریائے چناب میں 2لاکھ 84ہزار 540کیوسک کے اونچے درجہ کا سیلابی ریلہ قادرآباد ہیڈ ورکس سے گزتا ہوا گزشتہ روز تریموں ہیڈ ورکس سے گزر رہا ہے جہاں گزشہ شب پانی کی آمد ا2لاکھ کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ تریموں کے مقام پر پانی کی سطح بتدریج بلند ہورہی ہے۔ محکمہ انہار کے ذرائع کے مطابق مذکورہ سیلابی ریلہ آج  ملتان اور مظفرگڑھ کی حدود میں داخل ہوگا مذکورہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر محکمہ انہار ملتان زون نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے دریائی بیٹ اور فلڈ بندوں پر چیک پوسٹیں قائم کرنا شروع کردی ہیں انہار ذرائع کے مطابق دریائے جہلم میں بھی ایک لاکھ کیوسک کے اونچے درجہ کا سیلابی ریلہ بھی تریموں ہیڈ ورکس کی جانب بڑھ رہا ہے جو دریائے چناب کے پہلے سے موجود سیلابی ریلے میں شامل ہونے سے سیلابی صورتحال میں مزید اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔دریائے چناب میں تریموں ہیڈ ورکس پر تین دریا ؤں دریائے چناب،جہلم اور راوی کے سیلابی ریلے ملنے کی صورت میں ملتان اور مظفرگڑھ کے اضلاع میں سیلاب کی شدت تین لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتی ہے جس سے ان علاقوں میں اونچے درجہ کا سیلاب متوقع ہے مذکورہ سیلابی ریلے سے ملتان کے 583مواضعات زیرآب آنے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے بھی ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام محکموں کوفوری طور پر ریلیف کیمپ قائم کرنے بارے مراسلہ جاری کردیا ہے۔تاہم دوسری جانب دریائے چناب میں طغیانی اور پانی سطح بتدریج بلند ہونے کے باعث دریائی بیٹ کے مکینوں نے اپنی مد د آپ کے تحت نقل مکانی شروع کردی ہے۔متاثرہ خاندانوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری طور پر ریلیف کیمپ قائم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ محکمہ انہار کے جاری کردہ اعداوشمار کے مطابق گزشتہ شام دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا اخراج 82758کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے اوریہاں پانی کی سطح میں کمی واقع ہونا شروع ہوچکی ہے اسی طرح دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کا اخراج 65005کیوسک ریکارڈ کیا گیاہے جبکہ قادرآباد کے مقام پر پانی کا اخراج 51834کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد 02لاکھ 11ہزار77کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے اور یہاں پانی کی سطح بتدریج بلند ہورہی ہے۔اسی طرح دریائے جہلم میں رسول کے مقام پر پانی کا اخراج 30336کیوسک ریکارڈ کیا گیاہے اور یہاں پانی سطح بتدریج کم ہورہی ہے  اسی طرح دریائے راوی،دریائے ستلج میں طغیانی آئی ہے فی الحال سیلابی صورتحال کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بروقت فلڈ وارننگ جاری نہ کیئے جانے پر شہریوں کا نقصان ہوا ہے فصلات مکانات تباہ ہوکر رہ گئے ہیں، دریائی بیٹ کے علاقوں میراں پور,سونواہ,بکھرپور,لنڈی سیداں, لعل گڑھ سمیت دیگر علاقوں کے متاثرین کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سیلاب کی روک تھام کیلئے کوئی عملی اقدامات نہ کئے گئے محکمہ موسمیات کی طرف سے آئے روز بارشوں اور سیلاب کی پیشنگوئی کے باوجود بھی ضلعی انتظامیہ کوئی اقدامات نہ کرسکی گزشتہ کئی گھنٹوں سے جاری موسلا دھار بارشوں سے کوہ سلیمان میدانی علاقوں میں طغیانی بارہ گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سیلابی علاقوں میں مقیم مکینوں کے لیئے کوئی اقدامات نہ کئے گئے میراں پور,سونواہ,بکھرپور,لنڈی سیداں, لعل گڑھ سمیت دیگر علاقوں کے متاثرین سیلاب کھلے آسمان تلے بے یار مددگار ہیں متاثرین حکومتی ارباب اختیار سے فوری ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔ ممکنہ سیلاب کے خطرہ کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ پر رہنے کا حکم دیا ہے اور ڈپٹی کمشنر عامر خٹک کی ہدایت پر دریائی علاقوں میں رہنے والوں کو انخلاء کی وراننگ دے دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں کو  فلڈ بند پر کیمپ لگانے کا حکم دیا ہے اور اسسٹنٹ کمشنرز کو تیاریاں خود مانیٹر کرنے کی ہدایت کی ہے۔انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرریونیو محمد طیب خان نے گزشتہ روز مختلف مواضعات کا دورہ اسسٹنٹ کمشنر صدر شہزاد محبوب،ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ،محکمہ انہار اورمحکمہ لائیو سٹاک کے افسران بھی انکے ہمراہ تھے۔محمد طیب نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لک والا،چناب چوک،شیر شاہ اور محمد پور گھوٹہ سمیت چارمقامات پرریسکیو،محکمہ لائیو سٹاک،محکمہ انہار اور متعلقہ محکموں نے کیمپ لگا دئے ہیں،دریا کے بیڈ میں رہائش پذیر آبادی کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی وارننگ دے دی ہے۔ریسکیو 1122 کی بوٹس لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لئے موجود ہیں جبکہ پرائیوٹ کشتیوں کا ڈیٹا بھی مرتب کر لیا گیا ہے،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نے بتایا کہ ضرورت پڑنے پر لوگوں کے انخلاء  کے لئے پرائیویٹ کشتیوں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملتان کی حدود میں دریائے چناب سے 65 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جبکہ ہیڈ تریموں سے پانی کا ڈسچارج 1 لاکھ 72 ہزار کیوسک ہے۔سیلابی پانی کے2ستمبر کو ملتان کی حدود میں داخل ہونے کا امکان ہے،طیب خان نے بتایا کہ ماہرین کے مطابق اگر بارشوں نے شدت پیدا نہ کی  تو ملتان کی حدود میں نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ گزشتہ دو ماہ سے فلڈ کے حوالے تیاریاں کررہی ہے۔تمام محکمے سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔ حکومت پنجاب کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریاں مکمل کر لیں۔ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے خود تحصیل کبیروالا میں دریائے چناب پر قائم فاضل شاہ  فلڈ بند (زیروپوائنٹ) کا دورہ کرکے دریائے چناب میں پانی اور فلڈ بند پر قائم ریلیف کیمپس کا معائنہ کیا اور ان کیمپس میں احکامات کے مطابق تمام سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔اسسٹنٹ کمشنر کبیروالا غلام مصطفی، محکمہ مال، آبپاشی،لائیو سٹاک،صحت و دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی ان کے ہمراہ تھے ڈپٹی کمشنر نے دریا میں پانی کی سطح کو مسلسل مانیٹر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ فاضل شاہ بند کے مقام پر اس وقت دریائے چناب سے ایک لاکھ 60 ہزار کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے پانی بڑھنے کے خطرہ کے پیش نظر بیٹ کے علاقوں کے رہائشی افراد اور ان کے مویشیوں کو محفوظ مقامات اور ریلیف کیمپس میں منتقلی کے فوری اقدامات اٹھائے جائیں ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تحصیل کبیروالا میں فاضل شاہ بند پر پانچ فلڈ ریلیف کیمپس فاضل شاہ زیرو پوائنٹ،کنڈ سرگانہ گگڑا قلندر،محمد پور نشیب،کھوکھرا محبت ترگڑ پر قائم کر کے محکمہ مال،صحت،زراعت،لائیو سٹاک اور ریسکیو 22 11 سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران و ملازمین کو تعینات کرکے فلڈ ریلیف آپریشن میں استعمال ہونے والی مشینری پہنچادی گئی ہے انہوں نے مزید بتایا کہ فلڈ ریلیف کیمپس میں لوگوں کو رکھنے کے لیے تجویز کردہ سکولوں کو کھول کر وہاں پر ڈس انفیکشن سپرے کرا دیا گیا ہے جبکہ محکمہ،صحت لائیوسٹاک کو تمام ضروری ادویات بھی موقع پر فراہم کر دی گئی ہیں ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ ضلعی انتظامیہ خانیوال ہمہ وقت چوکس ہے اور تمام صورت حال کو لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کر رہی ہے۔ راجن پور،کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلہ ماڑی ودیگر پر موسلادھار بارش کے نتیجہ میں سیلابی نالوں ”کاہاسلطان، ”چھاچھڑ“ ”زنگی“سوری جنوبی“ میں طغیانی آگئی ہے درہ کاہا سلطان میں صبح کے وقت چالیس ہزار کیوسک کاریلا داخل ہوا جوتین گھنٹوں کے بعد کم ہوکر چودہ ہزار کیوسک رہ گیا اسی طرح درہ ”چھاچھڑ“ میں بیس ہزار کیوسک پانی داخل ہوا جوکم ہو کراب چھ ہزار کیوسک رہ گیا ہے سیلابی پانی اپنے قدرتی راستوں پررواں دواں ہے سیلابی پانی موضع چٹول، برکتو، لنڈی لال گڑھ،چک شہید، بکھر پور سے ہوتا ہوا انڈس ہائی وے سے گذر کرعاقل پور،رکھ ڈایمہ، ونگ سے ہو کر دریا میں جاگرے گا انتظا میہ نے سیلابی نالوں کے گرد آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقارعلی نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں سے ضلع راجن پور میں کسی قسم کے سیلاب کا خطرہ نہ ہے۔ دریائے سندھ اور رودکوہیوں کے ندی نالوں میں پانی کے بہا? کی مسلسل مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ تمام اسسٹنٹ کمشنر، محکمہ لائیواسٹاک، صحت، ریسکیو1122،سول ڈیفنس، زراعت، ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں کو کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے الرٹ کردیا گیا ہے۔ یہ باتیں انہوں نے آج رودکوہی کے پانی کا جائزہ لینے کے لئے میراں پور پل،چٹول اور چک شہیدکے علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کیں۔ ڈپٹی کمشنر ذوالفقارعلی کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت سیلابی ایمرجنسی کی صورت حال نہ ہے تاہم تمام متعلقہ محکموں کی ٹیموں کو فیلڈ میں الرٹ کردیا گیا ہے تاکہ کسی بھی اچانک ایمرجنسی صورتحال میں لوگوں کے جان و مال کی بروقت حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ انہوں نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کہ وہ دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے فیلڈ میں نظر آئیں۔ بعدازاں ڈپٹی کمشنر نے دیہی مرکز صحت حاجی پور میں بارشوں کے پانی کے بہاو کی مانیٹر نگ کے لیے قائم کردہ فیلڈ بیس کیمپ میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں اسسٹنٹ کمشنر جام پور طلحہ سعید، ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیوسٹاک راجن پور ڈاکٹر حسن مجتبیٰ، ڈسٹرکٹ کوارڈنیٹر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی حافظ ممتازاحمد، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ممکنہ سیلاب کے حوالے سے ہدایات جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وقفے وقفے سے جاری بارشوں کے پیش نظررودکوہیوں کے پانی میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے بخاری و طیب ڈرین سمیت تمام برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ کی مانیٹرنگ دن رات اور مسلسل کی جائے۔

سیلاب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -