ملتان سمیت مختلف شہروں میں نان سٹاپ بارش‘ سڑکوں پر پانی‘ گاڑیاں بند 

    ملتان سمیت مختلف شہروں میں نان سٹاپ بارش‘ سڑکوں پر پانی‘ گاڑیاں بند 

  

ملتان‘ وہاڑی‘ ڈیرہ‘ جام پور‘ راجن پور‘ خانیوال‘ دائرہ دین پناہ (سپیشل رپورٹر‘ نیوز رپورٹر‘ وقائع نگار‘ بیورور پورؔٹ‘ نامہ نگار‘ نمائندگان پاکستان‘ ڈسٹرکٹ بیورو رپورٹ)  ملتان میں گزشتہ روز ہونے والی 85ملی میٹر بارش(بقیہ نمبر22صفحہ6پر)

 نے واسا کے سیوریج نظام کا پول کھول دیا،بارش کے باعث واسا کا ناکارہ سیوریج سسٹم جواب دے گیا شہر کی اہم سٹرکیں اور نشیبی علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے،واسا انتظامیہ تمام تر دعوؤں کے باوجود شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام،سٹرکوں پر پانی جمع ہونے سے گاڑیا ں بند،ٹریفک جام، نااہل واسا انتظامیہ کے باعث شہریوں کیلئے باران رحمت،زحمت بن گئی۔محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیشگوئی،صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ پید ا ہوگیا۔تفصیل کے مطابق ملتان سمیت مضافاتی علاقوں میں مون سون بارش کا سلسلہ وقفہ قفہ سے جاری رہاجس کے نتیجہ میں ملتان میں شجاعباد ڈسپوزل اسٹیشن  کے کمانڈ ایریا میں سب سے زیادہ 85 ملی میٹر جبکہ کڑی جمنداں ڈسپوزل اسٹیشن کے کمانڈ ایر یا میں 32ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے،اسی طرح چونگی نمبر کے کمانڈ ایریا میں 75ملی میٹر جبکہ سمیجہ آباد ڈسپوزل اسٹیشن کے کمانڈ ایریا میں 32ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تاہم رات گئے تک بارش کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری تھا۔  مذکورہ بارش نے واسا کے ناکارہ سیوریج سسٹم کا پول کھول کررکھ دیا ہے۔مذکورہ بارش کے باعث شہر کی اہم سٹرکیں جن میں حسن پروانہ روڈ،ڈیرہ اڈا،ابدالی روڈ،وہاڑی روڈ،گھنٹہ گھر،معصوم شاہ روڈ کچہری روڈ،پرانا شجاعباد روڈ،غلہ گودام،ٹمبر مارکیٹ،غلہ منڈی،ممتاز آباد،پیپلز کالونی،شاہین مارکیٹ،بوہڑگیٹ،ٹی بی ہسپتال روڈ سمیت نشیبی علاقے بھی ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے جبکہ واسا انتظامیہ اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی،سٹرکوں پرپانی جمع ہونے سے گاڑیاں پانی میں بند ہوگئیں جبکہ ٹریفک جام ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اس ضمن میں محکمہ موسمیات نے ملتان میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جس کے نتیجہ میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ سوموار کے روز ملتان میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ شروع ہوتے ہی قائمقام منیجنگ ڈائریکٹر واسا مشتاق احمد خان نے واسا میں ہائی الرٹ جاری کردیااورتمام سیوریج، ڈسپوزل اسٹیشن ڈویژنوں کے افسران، سٹاف کو اپنی اپنی حدود میں بارش کے پانی کی نکاسی  کے لئے طلب کرلیا شہر بھر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کے لیے شروع ہونے والا آپریشن تمام دن جاری رہا منیجنگ ڈائریکٹر واسا نے بوسن روڈ،ایل ایم کیو روڈ،کچہری روڈ، ایم ڈی اے چوک، پرانا بہاولپور روڈ،رشید آباد چوک،گھنٹہ گھر،واٹر ورکس روڈ،حسین آگاہی، میٹرو روٹ،وہاڑی روڈ،ابدالی روڈ،نشتر روڈ،سمیت،مختلف ڈسپوزل سٹیشنوں کا دورہ کر کے نکاسی آب کے انتظامات کا جائزہ لیا انہوں نے متعلقہ سیوریج سٹاف کو سڑکوں پر مین ہولز کورز ہٹانے اور سکر مشینوں کے ذریعے پانی اٹھانے کا حکم دیااور تمام ڈسپوزل سٹیشنوں کو فل کیپیسٹی پر چلانے کی ہدایت کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈسپوزل اسٹیشن نے اس دوران ایم ڈی واساکو بارش سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی رپورٹ کے مطابق  چونگی نمبر 9 ڈسپوزل اسٹیشن پر 75 ملی میٹر،کڑی جمنداں ڈسپوزل اسٹیشن پر32 ملی میٹر، سمیجہ آباد ڈسپوزل اسٹیشن پر32 ملی میٹر جبکہ پرانا شجاع آباد روڈ ڈسپوزل سٹیشن پر سب سے زیادہ زیادہ 80 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ایم ڈی واسا نے شہری علاقوں سے بارش کے پانی کی نکاسی سے متعلق کمشنر ملتان ڈویژن،شان الحق،ڈپٹی کمشنر عامر خٹک اور ڈی جی ایم ڈی اے آغا محمد علی عباس کو کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی اور ایم ڈی واسا نے تمام سیوریج افسران کو شاہراوں کے ساتھ ساتھ نشیبی علاقوں سے بھی بارش کے پانی کو بروقت نکالنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے اور نکاسی آب کا آپریشن مکمل ہونے تک فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے اور آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی پر ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی۔ وہاڑی  شہر اور گردونواح میں گہرے بادلوں کے ساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری رہا بارش برسنے سے متعدد فیڈرز ٹرپ کرگئے جس سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگء جبکہ نشیبی علاقوں میں بارش کے پانی کے سبب گلیاں تالاب بن گئیں،شہری علاقوں میں بارش کا پانی کھڑا ہونے سے متعدد مقامات پر سیوریج سسٹم ناکارہ ہوگیا گلیوں میں سیوریج کے گندے پانی کے سبب مکینوں کی پریشانیاں بڑھ گئیں جبکہ زرعی ماہرین نیبارش مکئی اور کپاس کی فصل کیلئے سود مند قرار دی محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک مزید بارش برسنے کا امکان ہے۔  راجن پور میں گذشتہ روز سے ہلکی وتیز بارش کاسلسلہ جاری ہے بارش سے نشیبی علاقوں اور شہر کی متعدد سڑکات فتح پورروڈ، سرکلرروڈ، کچہری روڈ،درہ مچھی والا روڈ سمیت متعدد سڑکات پر پانی جمع ہوگیا ہے جس سے شہریوں کوآمدروفت میں شدید مشکلات درپیش ہیں میونسپل کمیٹی کی جانب سے تاحال بارش کے پانی کی سڑکات سے نکاسی کیلئے کسی قسم کے کوئی انتظا مات نہیں کئے گئے ہیں عوامی وشہری حلقوں نے ایڈ منسٹر یٹر میونسپل کمیٹی سے فی الفور ان سڑکات سے بارش کے پانی کی صفائی میں کردار ادا کر نے کا مطا لبہ کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی نے سوموار کے روز شروع ہونے والی بارشوں کے سلسلہ میں ضلع کی تمام بلدیات کو ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے سیوریج،ڈسپوزل اسٹیشنز میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا اور متعلقہ افسران کو نکاسی آب کے لیے فیلڈ میں موجود رہنے کا حکم دے دیا ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ پانی کی نکاسی کے لئے گٹروں کے ڈھکن فوری طور پر ہٹائے جائیں اور ڈسپوزل اسٹیشنز کو(فل کیپیسٹی) پر چلایا جائے اور لوڈ شیڈنگ کی صورت میں ڈسپوزل اسٹیشنز پر جنریٹرز کو چالو حالت میں رکھا جائے اس سلسلہ میں نکاسی آپ کی خود نگرانی کروں گا کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی-۔ مسلسل موسلادھار بارش سے جامپور شہر کے گلی کوچے سڑکیں کچہری تحصیل ھیڈ کوارٹر ھسپتال بارش کے پانی سے بھر گئے بجلی کی بندش کے باعث ڈسپوزل مشینیں بند ھو گئیں گٹر اور نالیاں بھی ابل پڑے سیوریج کا پانی شامل ھونے سے گندے بد بو دار پانی کی سطح تین سے چار فٹ بلند محلہ چانڈیاں ' حیدریہ کالونی محلہ مسن شاہ اور دیگر نشیبی علاقوں کے رھائشی گھروں مء ں محصور ھو کر رہ گئے قبل ازیں محکمہ پبلک ھیلتھ کی ناقص منصوبہ بندی اور شہر میں ترقیاتی پیکیج کے نام پر ا کھاڑ پچھاڑ اور کھدائی کے باعث شہر کی حالت ابتر چلی آرھی ھے اور گزشتہ تین سالوں سے شہر میں سیوریج کا مسلہ حل نہیں ھو پارھا دوسری جانب میونسپل کمیٹی کی 35 سالہ پرانی ڈسپوزل اسیکیمیں آھستہ آھستہ دم توڑ چکی ھیں پرانی الیکٹرانک موٹریں آئے روز جل جاتی ھیں یا آئے روز خراب ھوجاتی ھیں بلدیہ جامپور نے گندگی کے خاتمے کیلئیے ساڑھے چار کروڑ روپے کی مشینری تو منگوا لی ھے لیکن ڈسپوزل اسکیموں کیلیے الیکٹرانک مشینیں تاحال خرید نہیں کی جاسکیں۔   ڈیرہ غازیخان شہر اور گردو نواح کے علاقوں میں علی الصبح آسمان پر بادل چھا گئے اور کچھ دیر بعد موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا جو کہ تقریباً سارا دن جاری رہا بارش سے شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا اور سڑکیں تالاب کی شکل اختیار کر گئیں جبکہ بجلی کا نظا م بھی درہم برہم ہو نے سے اکثر علاقوں میں مختلف فیڈرز پر ٹرپنگ جاری رہی  جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا موسم خوشگوار ہو نے سے شہری اور بچے سڑکوں پر نکل آئے اور موسم سے لطف اندوز ہو تے رہے اسی طرح پکوڑوں اور سموسوں کی دکان پر بھی عوام کا رش دیکھنے میں آیا بارش ختم ہونے کے بعد میٹروپولیٹن کارپوریشن کا عملہ متحرک ہو گیا اور سڑکوں سے پانی کی صفائی کا کام شروع کر دیا۔تاہم گلی محلوں میں پانی جوہڑ کی شکل اختیار کرگیااور بدبو اور تعفن پھیلنے سے لوگوں کو سانس لینے میں مشکلات ہونے کے ساتھ آمدورفت میں پریشانی کا سامنا رہا۔ کمشنر ڈیرہ غازیخان ڈویژن ساجدظفر ڈال نے بارش کے ایام میں متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ کرنے کے ساتھ خود بھی متحرک ہو گئے. انہوں نے ڈپٹی کمشنر طاہر فاروق کے ہمراہ وڈور رود کوہی کا معائنہ کیاایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سمیع اللہ فاروق،اسسٹنٹ کمشنر صدر ملک راشد نعمت ہمراہ تھے.کمشنر نے رود کوہی وڈور سائفن کا جائزہ لیا انہوں نے رود کوہی میں پانی کی مقدار اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا۔کمشنر ساجد ظفر ڈال نے کہا کہ رود کوہیوں میں پانی کی صورتحال کومانیٹر کیا جائے۔رود کوہی کے پانی کے قدرتی راستوں کی ہنگامی بنیادوں پر صفائی کی جائے۔پانی کے قدرتی راستوں میں تجاوزات اور رکاوٹ پیدا کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیئے۔     ڈپٹی کمشنر طاہر فاروق نے کہا کہ اہم رود کوہیوں کے دروں پر عملہ تعینات ہے۔ بلوچستان اور کوہ سلیمان پر بارشوں  سے دروں پر پانی کی مقدار مانیٹر کی جارہی ہے۔اس وقت ضلع کی تمام رود کوہیاں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔رود کوہی وڈور میں بھی نارمل مقدار میں پانی گزر رہا ہے۔وڈور میں ڈیڑھ بجے دن تک 4032 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا.  دریں اثنا کمشنر نے بارش کے دوران شہر کا بھی دورہ کیا. کارپوریشن اور دیگر محکموں کو ہائی الرٹ کرتے ہوئے بارش کے پانی کی نکاسی کی ہدایات جاری کیں. انہوں نے کہاکہ ڈسپوزل ورکس 24گھنٹے مکمل گنجائش کے ساتھ چلائے جائیں. پانی کی نکاسی ہونے تک تمام عملہ متحرک رہے. انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ شہر کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور بارش کے بعد پیدا ہونے وا لے مسائل کے حل کیلئے احکامات جاری کیے۔ دائرہ دین پناہ ونواحی علاقہ جات میں گزشتہ روز صبح سے سارا دن وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری رہا جس سے  نشیبی عالاقے زیر آب آگئے اور بازار کیچڑ سے بھر گئے بارش سے گرمی کازور ٹوت گیا اور موسم خوشگوار ہو گیا تاہم تل کی فصل کو بارش سے نقصان پہنچا ہے۔ شہر میں گذشتہ روز (سوموار) کو ہونے والی تیز بارش نے محکمہ صحت ملتان  کی پریشانی میں اضافہ کر دیا۔جسکی وجہ سے بارش کے کھڑے پانی میں ڈینگی مچھر اور لاروا کی افزائش کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔محکمہ صحت حکام نے حالیہ بارش کے بعد ڈینگی ٹیموں کو سرویلنس کا عمل تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔بارش کی وجہ سے سرکاری  ہسپتالوں کے پارکنگ سٹینڈز میں پانی کھڑا ہے۔ جس سے عوام الناس  کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔  شہر و گرد و نواح میں ہونیوالی بارش کے تسلسل نے میپکو کے ترسیلی نظام کو بھی شدید متاثر کرکے رکھ دیا ہے اور شہر کے متعدد علاقے گھنٹوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا شکار رہے ہیں گذشتہ روز صبح سے جاری بارش نے نظام زندگی کو درہم برہم کرنے سمیت متعدد علاقوں کے مکینوں کو بجلی جیسی اہم بنیادی ضرورت سے بھی محروم کردیا صارفین کے مطابق جن علاقوں میں بجلی کی سپلائی کا گھنٹوں تعطل رہا ہے ان میں حسن آباد، معصوم شاہ روڈ، مغل آباد، شاہ رکن عالم، رائٹر کالونی، سمن آباد، پرانا شجاع آباد روڈ، نیاز ٹاون، فاروق پورہ، وہائٹ ہاوس اور ان سے ملحقہ علاقوں کے مکین بارش کے تسلسل اور بجلی کی آنکھ مچولی سے سخت مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں یہ بھی اطلاعات ملی ہیں کہ بعض علاقوں صبح سے سہہ پہر تک صارفین بجلی سے محروم رہے ہیں اس طویل لوڈ شیڈنگ سے گھریلو یو پی ایس تک جواب دے گئے جس کے باعث متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوبے رہے ہیں صارفین نے میپکو انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ترسیلی نظام کو اپ ڈیٹ کرکے صارفین کو اس غیر اعلانیہ و غیر متوقع لوڈ شیڈنگ سے نجات دلائیں۔

گاڑیاں /پارٹس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -