لودھراں‘ محکمہ صحت‘ 300ملازمین کی جعلی اپ گریڈیشن کا معاملہ فائلوں میں دفن 

  لودھراں‘ محکمہ صحت‘ 300ملازمین کی جعلی اپ گریڈیشن کا معاملہ فائلوں میں دفن 

  

لودھراں‘ گوگڑاں (نمائندہ  پاکستان)  محکمہ صحت میں تین سو ملازمین کی جعلی اب گریڈیشن کا معاملہ دو سال گزرنے کے باوجود ٹھپ   ہائپر اتھارٹی کے حکم کے باوجود (بقیہ نمبر27صفحہ6پر)

ملازمین کو ریکوری نہ ڈالی جاسگی   تفصیلات کے مطابق سابق سی ای او  اور مختلف ملازمین نے مل کر پیرا میڈکس سے بھاری رشوت کے عوض تین سو ملازمین کی جعلی اب گریڈیشن کردی تاہم سابق سی او محکمہ صحت لودھراں ڈاکٹر طارق گیلانی کے تبادلہ کے بعد انے والے سی او ہیلتھ ڈاکٹر افتخار گجر نے   اب گریڈیشن کے تمام ریکارڈ کو چیک کرتے ہوئے اب گریڈیشن کو غیر قانونی جعلی کرار دیتے ہوئے تمام ملازمین کو ریولڈ کرتے ہوئے اب گریڈیشن ختم کرتے ہوئے ملازمین کو ریکوری ڈال دی سابق سی او افتخار گجر نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ  ملازمین کی سینیارٹی لسٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے اب گریڈیشن کرنے کی بجائے خیراتی سکیل بانٹ دیے گیے اور نہ ہی اب گرڈیشن کیلئے کوئی ڈی پی سی کرائی گئی جو اب گریڈیشن سیکرٹری ہیلتھ نے کرنی تھی وہ غیر قانونی سی ای او ہیلتھ نے اختیارات کا نجائز استعمال کرتے ہوئے کردی اب گرڈیشن دو ہزار گیارہ سے کی گئی جب کہ کچھ ملازمین دو ہزار گیارہ میں سرکاری ملازمین  ہی نہیں تھے ان کو بھی اب گریڈ کردیا گیا چند ملازمین ایسے جن کا سکیل 9 سے 11 بنتا ہے مگر ان کو غیر قانونی طریقے سے 14 سے 16 سکیل دے دیا گیا جیسے لودھراں میں ڈسپنسروں کا آج بھی حکومت پنجاب کی بجٹ بک میں بھی 9 سکیل ہے اور سیٹیں بھی 9 سکیل تک منظور ہیں۔محکمہ صحت کے اکثر ملازمین جعلی سکیل لے کر خود ساختہ افسران کی سیٹوں پر پرجمان ہیں جن کے خلاف کارروائی آج تک نہ ہوسگی دو ہزار گیارہ سے دو ہزار 18 تک تمام بقایاجات  ٹی اے ڈی اے ایل پی سی سمیت مختلف مدوں میں لی گئی  رقم  کو کٹھا کیا جائے تو کروڑوں روپے میں بنتی ہے اسی جعلی سکیل پر ماہانہ تنخواہ کا اندازہ لگایا جائے تو کموں پیش 25 لاکھ روپے بنتی ہے  جو ہر ماہ سرکاری خزانے سے وصول کی جارہی ہے مگر آج تک اس کیس کا نہ کوئی فیصلہ ہوا اور نہ ملازمین کو ریکوری ڈالی جاسگی۔  وزیر اعلیٰ پنجاب ڈی جی اینٹی کرپشن ڈپٹی کمشنر لودھراں سید عمران قریشی سے لودھراں کی عوام نے مطالبہ کیا کے فوری طور پر اس دونمبری پر ایک شفاف  سے انکوائری کرائی جائے۔

جعلی اپ گریڈیشن 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -