نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں سماعت کے لئے مقرر، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدرآج اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہونگے، پولیس اور رینجرز طلب

نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں سماعت کے لئے مقرر، مریم نواز اور ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ اور  العزیزیہ اسٹیل ملز  ریفرنس میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی۔نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں  حاضری سے استثنٰی کی درخواست دائر کر دی۔سابق وزیراعظم نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ بیماری کی وجہ سے بیرون ملک زیر علاج ہوں، بیماری کی وجہ سے حاضر نہیں ہوسکتا لہذا استثنیٰ دیا جائے۔نوازشریف کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے باعث لندن میں علاج تاخیر کا شکار ہوا، ڈاکٹروں نے تاحال پاکستان سفر کی اجازت نہیں دی، ڈاکٹروں نے اجازت دی تو پہلی فلائٹ سے پاکستان آؤں گا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب حکومت کو ضمانت میں توسیع کے لیے میڈیکل رپورٹ اور دیگر دستاویزات دیں، لیکن پنجاب حکومت نے مذموم مقاصد کے لیے ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی۔نوازشریف نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ وکیل نے مشورہ دیا کہ عدالت میں پیش ہوئے بغیر فیصلہ چیلنج کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا، پاکستان واپس نہ آنے کے باعث پنجاب حکومت کا ضمانت میں توسیع نہ کرنے کا کافیصلہ چیلنج نہیں کر سکا۔قائد مسلم لیگ ن نے کہا کہ تازہ ترین میڈیکل رپورٹ بھی بھجوا دی جو ریکارڈ پر لائی جائے گی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم میان محمد نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کر لی ہیں۔میاں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت سے قبل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر سماعت ہوگی۔ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی سماعت کریں گے۔ادھر ایون فیلڈ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی اپیلوں پر نیب پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے۔ نیب پراسیکیوٹرز جہانزیب بھروانہ اور سردار مظفر عباسی پیش ہوں گے۔ذرائع کے مطابق نیب نے نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی بھرپور مخالفت کا فیصلہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سابق وزیراعظم مفرور ہیں، انھیں حاضری سے استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔نیب حکام کا موقف ہے کہ غیر حاضری پر نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں مسترد کی جائیں اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا برقرار جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں ان کی سزا بڑھائی جائے۔خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں آج یکم ستمبر کو شریف خاندان کے خلاف تین ریفرنسز پر سماعت ہوگی۔ اس سلسلے میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی پیشی کیلئے سیکیورٹی پلان تیار کرتے ہوئے ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ جبکہ رینجرز کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ عدالت جانے والے راستوں پر رکاوٹیں بھی کھڑی کی جائیں گی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اور سروس روڈ کو مکمل بند کر دیا جائے گا۔دریں اثنامسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ نواز شریف دوبارہ سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر ملک کو درست ٹریک پر ڈالیں۔مریم نواز نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ لوگوں کی نواز شریف سے محبت پہلے سے بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر مزید لکھا کہ لوگ نہ صرف نواز شریف کو واپس وطن میں دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ وہ (عوام) چاہتے ہیں کہ نواز شریف ملک کو درست سمت پر لانے کے لیے دوبارہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالیں۔مریم نواز نے کہا کہ بھیرہ پر جب دوپہر کے کھانے کے لیے رکی تو وہاں موجود ہر شخص نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے پوچھا اور ان سے اپنی قربت اور حمایت کا یقین دلایا۔

نواز شریف

مزید :

صفحہ اول -