کراچی:بارشوں سے نقصانات پر ڈی ایچ اے اورسی بی سی کیخلاف احتجاج

        کراچی:بارشوں سے نقصانات پر ڈی ایچ اے اورسی بی سی کیخلاف احتجاج

  

کراچی (سٹاف رپورٹر)کراچی میں بارش کی تباہی کاریوں اور نقصانات کے خلاف کلفٹن اور ڈیفنس کے مکینوں نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے)اور کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے دفتر کے باہر شدید احتجاج کیااور دھرنادیا۔مظاہرین کی بڑی تعداد نے سی بی سی کے خلاف نعرے بازی کی اور سی بی سی کی عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ تو پولیس کی بھاری نفری سی بی سی دفتر پہنچ گئی اور مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے لاٹھی چارج کیا۔مظاہرین نے چیئرمین سی بی سی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید ٹیکسز نہ دینے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں کلفٹن کینٹ بورڈ کے دفترکے باہرڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں بارشوں سے متاثرہ علاقوں سے پانی کی نکاسی اوربحالی کے کام تیزکرنے کے ساتھ سی ای او کینٹ بورڈ کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔پیر کو ہونے والے مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ انھوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے اور وہ مطالبات کی منظوری کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس موقع پرکنٹونمنٹ بورڈنے دروازے بند کردیے گئے اورپولیس کی نفری طلب کرلی۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے کنٹونمنٹ بورڈکے منتظمین سے رابطہ کیا مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی ہدایت کی۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہاکہ متاثرین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔احتجاج میں موجود مظاہرین نے سہولیات کی عدم فراہمی،ماسٹر پلاننگ کے فقدان، بارش کے پانی کی نکاسی کے بوگس نظام سمیت پانی سے املاک کے نقصان پر متعلقہ اداروں کے عدم تعاون کا شکوہ کیا۔مظاہرین نے کہاکہ مطالبات کی منظوری تک وہ ٹیکسز نہیں ادا کریں گے۔ انھوں نے سی ای او کلفٹن کینٹ بورڈ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے سی بی سی کے ٹیکس آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے زور دیا کہ ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی علاقوں میں بنائے گئے برساتی پانی کی نکاسی کے نالوں کے فعال نہ ہونے سے صورتحال مزید خراب ہوئی اور بارش کا پانی صاف نہ ہوسکا۔سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن سے ہونے والے مذاکرات میں 15 رکنی وفد نے شکایات کے انبار لگا دیئے۔مذاکرات میں ڈی آئی جی اور ایس ایس پی ساؤتھ بھی شامل تھے۔ مظاہرین کی جانب سے مذاکرات میں کہا گیا کہ متاثرہ علاقوں کی صفائی 24 گھنٹے میں یقینی بنائی جائے۔ انھوں نے ٹیکس معاف کرنے کامطالبہ بھی کیا ہے۔۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کلفٹن کنٹونمنٹ کی انتظامیہ سیوریج کے پانی کی نکاسی کے نظام کو بہتر بنائے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکوں کی فوری مرمت کی جائے۔ ڈیفنس اور کلفٹن کے کئی علاقوں میں نہ صرف تاحال برساتی پانی کی نکاسی نہ ہوسکی بلکہ بجلی بھی بحال نہ ہوسکی۔خیابان سحر، خیابان شجاعت، ڈیفنس 22 اسٹریٹ، 26 اسٹریٹ پر تاحال بارش کا پانی جمع ہے۔ بدر کمرشل اسٹریٹ پر بھی پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات درپیش ہیں۔ادھر حکومت سندھ کے ترجمان مرتضی وہاب نے بتایاکہ صوبائی حکومت نے بخاری کمرشل سے بارش کا پانی نکالنے کے لیے اپنی مشینیں خیابان محافظ اور خیابانِ شجاعت میں لگائی ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ڈی ایچ اے کے نالوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے تاہم ہم اپنے طور پر کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت نے ڈی ایچ اے میں بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے مزید مشینیں لگادی ہیں۔واضح رہے کہ کراچی میں بارشوں سے ڈیفنس اور کنٹومنٹ کے پوش علاقے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں جہاں نالے اوور فلو ہوگئے اور نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہ ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات اٹھانی پڑیں 

مزید :

صفحہ اول -