غربت میں کمی کے لیے سندھ حکومت کی کاوشوں کی ستائش

   غربت میں کمی کے لیے سندھ حکومت کی کاوشوں کی ستائش

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (سرسو)کے تحت عمل میں لائے جانے والے اس پروگرام کے تحت غریب گھرانوں کو امدادی رقوم،  انکم جنریشن گرانٹ کی صورت میں،  اور بلا سود قرضوں کی فراہمی کمیونٹی انویسٹمنٹ فنڈ کے تحت کی جارہی ہیں،  تاکہ وہ ازخود اپنے ’’پیروں“  پر کھڑے ہونے کے قابل بن سکیں اور آمدنی کے بہتر زریعوں کو اپنا کر اپنی زندگیوں میں خوشگوار تبدیلیاں لاسکیں۔  لو کاسٹ ہاوسنگ اسکیم    کے تحت نادار افراد کو رقوم کی فراہمی گھروں کی تعمیر میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔  ہنرمندی، حوصلے، ارادے اور جذبے یکجا  ہو جائیں تو کیا ممکن نہیں!!  بزنس ڈیولپمنٹ گروپس کی تشکیل اور ان گروپس کو رقوم کی فراہمی مجموعی طور پر خوشحالی لانے کا  سبب بن رہی ہے۔   نوجوانوں کے وکیشنل ٹریننگ پروگرام کے زریعے  ہنرمندانہ تربیت کے بھرپور مواقعوں کی دستیابی بے روزگاری کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ پیپلز پاورٹی ریڈیکشن پروگرام کے تحت بنائے جانیوالی  کمیونٹی آرگنائزیشن(سی او)،  ویلیج آرگنائزیشن  ؎(وی او)  اور  لوکل سپورٹ آرگنائزیشن (ایل ایس او) کمیونٹیز کو متحر ک  اور فعال  بنانے اور پروگرام کے تحت انجام دی جانے والی تمام سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ٹھٹھہ کے گاؤں دریاخان جت میں فراہم کی جانے والی سلائی کڑھائی کی تربیت نے نہ صرف پسماندگی کا شکار خواتین کوہنرمند بنا یا بلکہ انکی خوداعتمادی کو بھی جلاِ بخشی۔ ٹریننگ میں شامل بیس(20 ( خواتین کا عزم وحوصلہ،  ارادے،  شوق و جذ بہ قابلِ دید تھا۔ سب سے پہلے عاصیہ نے بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی زندگی میں بہت کچھ  اچھا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے اردگرد کا فرسودہ ماحول ہما ری پستی کا سبب بنا ہوا ہے،  پیپلز پاورٹی ریڈیکشن پروگرام کا ہمارے گاؤں میں آنا، گھُپ اندھیروں میں جلتے کسی چراغ کی مانندہے۔زاہدہ  نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اسطرح کیا  ’’دیہی خواتین کو معاشی طور پر مستحکم بناتا یہ پروگرام کسی نعمت سے کم نہیں، ٹریننگ حاصل کرنے  کے بعد ہم ایک سوٹ کی سلائی کے عوض 400سے 500روپے کمانے کے قابل بن چکے ہیں 

مزید :

صفحہ آخر -