العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز: لیگی رہنما مریم نواز اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئیں

العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز: لیگی رہنما مریم نواز اسلام آباد ہائی کورٹ ...
العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز: لیگی رہنما مریم نواز اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئیں

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ میں العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلوں پر سماعت کچھ دیر بعد ہوگی، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر عدالت پہنچ گئے، ن لیگی رہنماشاہد خاقان عباسی اور مصدق ملک اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ کا 2 رکنی بینچ نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کریگا، ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی بینچ میں شامل ہیں۔نواز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں پر بھی سماعت ہوگی۔

مریم نواز کی پیشی پر اسلام آبادہائیکورٹ کے اطراف تمام راستے سیل کردیئے گئے،اسلام آبادہائیکورٹ سے متصل مارکیٹ کو بھی بند کردیا گیا،اسلام آبادہائیکورٹ جانے والے راستے خاردار تاریں لگا کر سیل کردیئے گئے ہیں ،وکلا اورعام سائلین کا بھی ہائیکورٹ میں داخلہ بند کردیاگیا۔

دوسری جانب نیب نے بھی العزیزیہ ریفرنس میں سزا بڑھانے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔ یہ درخواست بھی آج ہی سماعت کیلئے مقرر ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ بیماری کی وجہ سے بیرون ملک زیر علاج ہوں۔ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے عدالت میں پیش ہونا ممکن نہیں۔

نوازشریف اور مریم نواز کیخلاف ریفرنسز کی سماعت یکم ستمبر کو ہوگی۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی صدر مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی ذرائع کی مدد سے حاصل کی گئی رقم سے لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فیئر اور پارک لین کے نزدیک واقع چار رہائشی اپارٹمنٹس خریدے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو جیل، قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔

سزا کے خلاف ملزمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے ستمبر 2018 میں ان سزاو¿ں کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر جیل سے رہا ہو گئے تھے۔

ایون فیلڈ ریفرینس میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹین ریٹائرڈ محمد صفدر کو دی گئی سزا معطل کرنے کے فیصلے کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد اپیل خارج کردی تھی۔

احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے اور تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

نوازشریف نے اپنی سزا معطلی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی اور یہ استدعا کی کہ اپیل پر فیصلہ ہونے تک طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہا کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں وزیر اعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کی سزا آٹھ ہفتوں کے لیے معطل کی تھی۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ آٹھ ہفتوں کے بعد بھی اگر نواز شریف کی طبعیت میں بہتری نہیں آتی تو ان کی سزا کی معطلی میں توسیع کے لیے ایگزیکٹیو اتھارٹی یعنی حکومت پنجاب سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

نوازشریف کی حالت زیادہ خراب ہونے پر مسلم لیگ ن نے حکومت پنجاب سے اپیل کی کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے تا حیات قائد کو علاج کی غرض سے باہر جانے کی جازت دی جائے۔

حکومت نے پنجاب نے ملک کے نامور ڈاکٹرز پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا جس کی سفارش پر نوازشریف کو علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت دی گئی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -