سنتھیارچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر وزارت داخلہ سے بزنس ویزہ دینے کی پالیسی طلب 

سنتھیارچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر وزارت داخلہ سے بزنس ویزہ دینے کی ...
سنتھیارچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر وزارت داخلہ سے بزنس ویزہ دینے کی پالیسی طلب 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے سنتھیارچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر وزارت داخلہ سے بزنس ویزہ دینے کی پالیسی طلب کرلی اورسنتھیارچی کی رحمان ملک کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست ٹرائل کورٹ کو دوبارہ سننے کاحکم دیدیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں امریکی شہری سنتھیارچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی،پٹیشنرچودھری افتخار کی جانب سے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ سیکرٹری داخلہ نے واضح آرڈر جاری کیا ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو کیا شکایت ہے؟،چیف آف پیس کے عدالتی فیصلے کا پیرانائن اختیارات سے تجاوز ہے،یہ طے شدہ قانون ہے مقدمہ درج کرنے کیلئے کسی انکوائری کی ضرورت نہیں ،جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی جائے تواس کیلئے بھی قانون موجود ہے،جسٹس آف پیس کے پاس انویسٹی گیشن کے اختیارات نہیں ۔

امریکی شہری سنتھیارچی کے بیان میں تبدیلی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ سے بزنس ویزہ دینے کی پالیسی طلب کرلی ،عدالت نے سنتھیارچی کی رحمان ملک کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست ٹرائل کورٹ کو واپس سننے کاحکم دیتے ہوئے درخواست پر سماعت22 ستمبرتک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -