نیپراقانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کافیصلہ کرے ،سپریم کورٹ کا نیپراقانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم

نیپراقانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار ...
نیپراقانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کافیصلہ کرے ،سپریم کورٹ کا نیپراقانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمد کا حکم

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)کراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اورکے الیکٹرک کی کارکردگی کیس میں سپریم کورٹ نے نیپراقانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمدکا حکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کااختیار ہے،نیپراقانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کافیصلہ کرے ۔

سپریم کورٹ نے 10 روز میںنیپراٹریبونل کے ممبرز تعینات کرنے کاحکم دیدیا،سپریم کورٹ نے کہاکہ سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی ،کے الیکٹرک کیخلاف نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع بھی خارج کردیاگیا،سپریم کورٹ نے نیپراسے کارروائی پر مبنی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اورکے الیکٹرک کی کارکردگی کیس کی ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ۔

 چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اتنی بس نظرآئی لوگوں پر ایک آدمی سڑک پر شہریوں کی مدد کیلئے نظر نہیں آیا،کیاآپ کی حکومت اس طرح پاکستان چلائیں گی ؟چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کو ووٹ ملاہے وہاں سے اورآپ لوگ بالکل بے بس ہیں ؟۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ لوگ مررہے ہیں کراچی میں بجلی نہیں پانی نہیں ،چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ کچھ نہیں بچاکراچی مکمل بربادکردیاکراچی میں اب بچاہی کیا ہے؟،عدالتوں سے سٹے لے کر شہریوں کو اذیت دے رہے ہیں ۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ یہ حال ہے پورے ملک سے پٹرول غائب ہو گیا 10 دن کیلئے ملک سٹاپ ہو گیاتھا،چیئرمین نیپرانے کہاکہ تحقیقات کیلئے کمیشن بنادیا،چیف جسٹس نے کہاکہ اب لکیر مت پیٹیں جس کو لے جانا تھامال وہ لے گیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ کراچی کے شہری کے الیکٹرک کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں ،چیف جسٹس گلزاراحمدنے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب کابینہ کو فیصلہ کرتے ہوئے بھی سوچنا چاہئے،ہماراپاور ڈویژن تولکیر کافقیر ہے ،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں 

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ عدالت کو جومعلومات چاہئیں وہ نہیں دی گئیں ،نیپراکوکہارسی مضبوط کریں،انہوں نے پورارسی کاگچھا ہی کے الیکٹرک کو دیدیا۔

چیئرمین نیپرانے کہاکہ سر!آپ جیسا کہیں گے ہم کرنے کوتیار ہیں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ بابو ہیں ہم آپ کو سب بتائیں؟،سرکاری ملازمین میں توشہریوں کی خدمت کاکوئی جذبہ اور سوچ نہیں ،کے الیکٹرک کی اجارہ داری کیوںہے یہ سمجھ نہیں آتا؟۔

سپریم کورٹ نے نیپراقانون کے سیکشن 26 پر عملدرآمدکا حکم دیدیا،عدالت نے کہاکہ قانون کے تحت نیپرا کو عوامی سماعت کرکے فیصلے کااختیار ہے،نیپراقانون کے مطابق کے الیکٹرک کے کراچی میں بجلی سپلائی کے خصوصی اختیار کافیصلہ کرے 

سپریم کورٹ نے 10 روز میںنیپراٹریبونل کے ممبرز تعینات کرنے کاحکم دیدیا،سپریم کورٹ نے کہاکہ سیکشن 26 کے اختیار کے استعمال پر کوئی عدالت حکم امتناع نہیں دے سکے گی ،کے الیکٹرک کیخلاف نیپرا اقدامات پر جاری شدہ حکم امتناع بھی خارج کردیاگیا،سپریم کورٹ نے نیپراسے کارروائی پر مبنی رپورٹ بھی طلب کرلی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -