سعودی عرب میں مہاجروں کو کس طرح کے کیمپوں میں رکھا جاتا ہے، افسوسناک تصاویر سامنے آگئیں، بین الاقوامی میڈیا نے بڑا دعویٰ کردیا

سعودی عرب میں مہاجروں کو کس طرح کے کیمپوں میں رکھا جاتا ہے، افسوسناک تصاویر ...
سعودی عرب میں مہاجروں کو کس طرح کے کیمپوں میں رکھا جاتا ہے، افسوسناک تصاویر سامنے آگئیں، بین الاقوامی میڈیا نے بڑا دعویٰ کردیا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں زیرحراست تارکین وطن کو کن حالات میں قید رکھا جا رہا ہے، ان مہاجرین کی کچھ ایسی تصاویر لیک ہو کر سامنے آ گئی ہیں کہ دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ میل آن لائن کے مطابق لیک ہو کر سامنے آنے والی ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان مہاجرین کو ایسے عقوبت خانوں میں رکھا جا رہا ہے جہاں تین سے چار افراد کی جگہ پر درجنوں لوگ ٹھونسے گئے ہیں اور انہیں کوئی ادنیٰ سہولت بھی میسر نہیں۔ حتیٰ کہ یہ لوگ ننگے فرش سوتے ہیں اور ان عقوبت خانوں میں بجلی کا پنکھا تک نہیں ہے۔ 

مغربی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ ان مہاجرین میں اکثریت افریقی ممالک سے آنے والوں کی ہے جنہیں کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے قید رکھا جا رہا ہے۔ انہیں کھانے پینے کو بھی انتہائی کم دیا جا رہا ہے اور ان عقوبت خانوں میں یہ لوگ گاہے لاشوں کے ساتھ سوتے ہیں، کیونکہ ان میں سے کسی کی ہلاکت ہو جائے تو اس کی لاش کئی کئی دن وہیں پڑی رہتی ہے۔ ایک تصویر میں دو مہاجروں کی ننگی پیٹھ دکھائی گئی ہے جس پر انہیں پیٹے جانے کے نشانات موجود ہیں۔ سنڈے ٹیلیگراف نے دعویٰ کیا ہے کہ ان لوگوں کو الیکٹرک چھڑیوں کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں لوگ ہیٹ سٹروک کی وجہ سے بھی مر رہے ہیں اور کچھ خودکشی بھی کر رہے ہیں۔ جن کی لاشیں کئی دن وہیں پڑی رہتی ہیں اور پھر ان لاشوں کو باہر نکال کر پھینک دیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ سعودی حکومت کورونا وائرس کی وباءآنے کے بعد غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو ہزاروں کی تعداد میں ملک بدر کر رہی تھی جس پر اسے عالمی دباﺅ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دباﺅ کے بعد سعودی حکومت نے ان لوگوں کو ملک بدر کرنا ترک کر دیا لیکن اب انہیں جیلوں میں بھر رہی ہے تاکہ ان کی وجہ سے کورونا وائرس نہ پھیل سکے۔

مزید :

عرب دنیا -