کورونا وائرس روکنے کے لیے چین نے مسلمان اکثریتی علاقے سنکیانگ میں کیا حربے اپنا لیے؟ تفصیلات جان کر ہر مسلمان افسردہ ہوجائے

کورونا وائرس روکنے کے لیے چین نے مسلمان اکثریتی علاقے سنکیانگ میں کیا حربے ...
کورونا وائرس روکنے کے لیے چین نے مسلمان اکثریتی علاقے سنکیانگ میں کیا حربے اپنا لیے؟ تفصیلات جان کر ہر مسلمان افسردہ ہوجائے

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کے مسلم اکثریتی علاقے سنکیانگ میں کورونا وائرس کا پھیلاﺅروکنے کے لیے چینی حکومت نے کچھ ایسے حربے اپنا رکھے ہیں کہ سن کر ہر مسلمان افسردہ ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق سنکیانگ میں انتہائی سخت لاک ڈاﺅن ہے۔ لوگوں کو ان کے گھروں میں قید کیا جا چکا ہے اور انہیں زبردستی چین کی روایتی میڈیسن پلائی جا رہی ہے جو بین الاقوامی طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی اخلاقیات کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق سنکیانگ میں جو شخص قرنطینہ کی مدت پوری نہیں کرتا اسے دو گنا عرصے تک کے لیے حراستی مرکز میں قید کر دیا جاتا ہے اور اس حوالے سے مردوخواتین اور بچوں میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی جا رہی۔ ایک یغور خاتون نے بتایا کہ اس نے جب چین کی روایتی دوا پینے سے انکار کیا تو اسے ایک حراستی مرکز میں لیجا کر قید کر دیا گیا۔ جس سیل میں مجھے رکھا گیا تھا وہاں 6سے 8لوگوں کی جگہ تھی لیکن وہاں پہلے سے دو درجن سے زائد یغور مسلمان خواتین قید تھیں۔ وہاں گارڈز نے مجھے اور باقی مسلمان خواتین کو زبردستی ایک دوا پلائی جسے پینے سے ہمیں متلی ہونے لگی اور چند دنوں میں ہم بالکل کمزور ہو گئیں۔ 

خاتون نے بتایا کہ اس حراستی مرکز میں تمام مردوخواتین کو ہفتے میں ایک بار مکمل برہنہ کر دیا جاتا ہے، صرف ہمارے منہ ڈھانپے جاتے ہیں اور گارڈز ہمارے برہنہ جسم پر وائرس ختم کرنے والا سپرے کرتے ہیں۔ اس سپرے کی وجہ سے ہمارے جسم کی جلد کھردری ہو کر جھڑنے لگی اور پورا جسم تکلیف میں مبتلا ہو گیا۔ واضح رہے کہ سنکیانگ میں اب تک کورونا وائرس کے 826کیس سامنے آ چکے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -