وفاقی کابینہ نے بڑے شہروں میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی منظوری دیدی، کمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ مؤخر

وفاقی کابینہ نے بڑے شہروں میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی منظوری دیدی، ...
وفاقی کابینہ نے بڑے شہروں میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی منظوری دیدی، کمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ مؤخر

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی کابینہ نے بڑے شہروں میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیرکی منظوری دیدی اور کابینہ کمیٹی نجکاری کے مختلف کمپنیوں کو پرائیوٹائز کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا،وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کراچی میں ترقیاتی کاموں کے لیے خاص پروگرام سندھ حکومت کو آن بورڈ لے کر شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ وفاق  نے کراچی کے مسائل کے حل کیلئے ایک خاص پروگرام ترتیب دیدیا ہے،منصوبے کا باقاعدہ اعلان وزیراعظم جمعہ کو کراچی میں کریں گے۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملکی سیاسی،معاشی صورتحال کا جائزہ لیاگیا اور کراچی کی صورتحال،امدادی کاموں پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں اسلام آباد اور مارگلہ روڈ پر تجاوزات سے متعلق بریفنگ مؤخر کردی گئی جبکہ ملک کے بڑے ایئرپورٹس آؤٹ سورس کرنے سے متعلق اور کابینہ کی منظوری کے بغیر ہونے والی تعیناتیوں پربریفنگ دی گئی۔وفاقی کابینہ نے بڑے شہروں میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انتخابات کیلئے ناموں کی منظوری دے دی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں نیپرا اور اسٹیٹ آف انڈسٹری کی سالانہ رپورٹ پیش کی گئی جبکہ پبلک پرائیویٹ تعمیرات، پیپرا رولز سے متعلق کابینہ کو بریفنگ دی۔وفاقی کابینہ  نے گزشتہ ای سی سی اجلاس اور کمیٹی کے گزشتہ اجلاسوں میں ہونے والے دیگر فیصلوں کی توثیق  کی جبکہ کابینہ کمیٹی نجکاری کے مختلف کمپنیوں کو پرائیوٹائز کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کراچی میں ترقیاتی کاموں کے لیے خاص پروگرام سندھ حکومت کو آن بورڈ لے کر شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ آج  اجلاس کا ایجنڈا شروع ہونے سے قبل ہی کراچی کی صورتحال پر غور کیا گیا، کراچی کے مستقل مسئلوں سے چھٹکارا حاصل کرنے سے متعلق تبادلہ خیال ہوا،وزیراعظم عمران خان کی توجہ کامرکزاس وقت کراچی شہرہے، کابینہ میں بلوچستان سے متعلق بھی گفت وشنیدہوئی ہے، کابینہ میں اندرون سندھ سے متعلق بھی بات چیت ہوئی ہے جب کہ اندرون سندھ بھی مسائل ہیں جن پرتوجہ دی جارہی ہے،حکومت کی تمام تر ہمدردیاں کراچی کے ساتھ ہیں،کراچی کے لوگ جس صورتحال سے گزر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ کراچی کے حالات بہتر ہوں،کراچی میں ٹینکر مافیا، سیوریج، سولڈویسٹ منیجمنٹ اور ٹرانسپورٹ کے مسائل ہیں، جن کے لیے وفاق کی طرف سے ایک خاص پروگرام ترتیب دیا گیا ہے، ایک ایسا طریقہ کار بنایا گیا ہے کیونکہ وہاں سندھ حکومت ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں اور ان کے تعاون کے بغیر یہ پروگرام مکمل نہیں ہوسکتا، ان منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ایک حکمت عملی تیار کی گئی جس میں ذمہ داری بھی ہو اور جب تک اونرشپ نہیں ہوگی تو یہ نہیں ہوسکے گا،وزیراعظم جمعے کو کراچی جارہے ہیں، پیکیج کے لیے وفاق این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر وسائل فراہم کررہا ہے اور یہ منصوبے سندھ حکومت کو آن بورڈ لے کر شروع کیا جائے گا، اس منصوبے کا باقاعدہ اعلان وزیراعظم اسی دن کراچی میں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور ہماری حکومت نے دیکھا کہ کراچی کے مسائل جوں کے توں ہیں، پانی،سیوریج اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا مسئلہ ہے،کراچی اورکراچی کے عوام مشکل صورتحال سے گزررہے ہیں،وفاق کراچی کیلئے جوکرسکتاہے کریگا،سندھ حکومت یاتواہل نہیں یاکراچی کی صورتحال کوسنجیدہ نہیں لے رہی، سندھ حکومت کے مینڈیٹ کومانتے ہیں،ان کے تعاون کے بغیرمسائل حل نہیں ہوں گے، سندھ حکومت کوبھی پروجیکٹس سے متعلق آن بورڈلیاجائے گا کیونکہ صوبے کے مسائل کے حل کیلئے سندھ حکومت کی معاونت درکارہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کے لیے وفاق نے بھی نام دیئے ہیں،کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کا فیصلہ صوبائی حکومت نے کرنا ہے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے احساس پروگرام کے ذریعے غربت کے خاتمے کے لیے مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ اور ڈاکٹرثانیہ نشترکواحساس پروگرام کا دوسرافیزشروع کرنیکی ہدایت کی گئی ہے کوروناوبامیں احساس پروگرام کے فیزون میں کامیاب ہوئے ہیں اور اب احساس پروگرام کافیز2شروع کرنے جارہے ہیں، کووڈ19کی وجہ پروگرام کا دوسرا مرحلہ شروع نہیں کیا جاسکا تھا کیونکہ یہ دستاویزات کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے اور اس کو چند لوگوں تک محدود نہیں رکھا جاسکتا تھا۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کووڈ-19 سے مغربی ممالک کی بڑی معیشتیں بھی لڑکھڑا گئیں لیکن پاکستان کی معیشت پر اس طرح کے اثرات نہیں پڑے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ میں بلوچستان، خیبرپختونخو اور کراچی کے علاوہ سندھ کے مختلف علاقوں میں بارش سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا گیا

مزید :

اہم خبریں -قومی -