شاہدخاقان عباسی کو ن لیگ کی تاریخ کاعلم نہیں،جب نوازشریف وزیراعظم تھے تواُنہوں نے۔۔۔شبلی فراز نے ایسی بات یاد کرا دی کہ مریم نوازبھی "شرمندہ "ہو جائیں گی

شاہدخاقان عباسی کو ن لیگ کی تاریخ کاعلم نہیں،جب نوازشریف وزیراعظم تھے ...
شاہدخاقان عباسی کو ن لیگ کی تاریخ کاعلم نہیں،جب نوازشریف وزیراعظم تھے تواُنہوں نے۔۔۔شبلی فراز نے ایسی بات یاد کرا دی کہ مریم نوازبھی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیراطلاعات سینیٹرشبلی فرازنےکہاہےکہ شاہدخاقان کوشایدمسلم لیگ ن کی تاریخ کاعلم نہیں،ماضی میں پیپلزپارٹی کے ساتھ ن لیگ نے کیاکیا تاریخ کاحصہ ہے، ایک عورت برداشت نہ ہونے سے متعلق شاہدخاقان عباسی کابیان سمجھ نہیں آیا،جب نوازشریف وزیراعظم تھے توانہوں نے بینظیربھٹواورنصرت بھٹوسے کیاسلوک کیا؟ہم نہیں چاہتے تھے کہ مریم نوازکوپہلے جیسے ڈرامے کاموقع ملے۔

نجی ٹی وی کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ شاہدخاقان کوشایدمسلم لیگ ن کی تاریخ کاعلم نہیں ہے، ماضی میں پیپلزپارٹی کے ساتھ ن لیگ نے کیاکیا تاریخ کاحصہ ہے، ایک عورت برداشت نہ ہونے سے متعلق شاہدخاقان عباسی کابیان سمجھ نہیں آیا،جب نوازشریف وزیراعظم تھے توانہوں نے بینظیربھٹواورنصرت بھٹوسے کیاسلوک کیا؟ہم نہیں چاہتے تھے کہ مریم نوازکوپہلے جیسے ڈرامے کاموقع ملے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون انتشار کا شکار ہے اس میں کئی گروپس بنے ہوئے ہیں،نواز شریف چہل قدمی کی تصویریں اور چائے پینے کی تصویریں بھیج رہے ہیں،نواز شریف کو قانون کے سامنے پیش ہوکر سوالوں کے جواب دینا ہوں گے،تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والا اگر قانون سے بھاگتا ہے تو اس پر عوام کو سوچنا چاہیے،عدالت نے بھی کہا ہے کہ نواز شریف کو واپس آنا ہوگا،نوازشریف اگرخودکوقانون سے اوپرسمجھتے ہیں توعوام کو سوچنا چاہیے ، نواز شریف کو قانون کے سامنے پیش ہونا ہوگا اور جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ  سی پیک پاکستان کے عوام کا منصوبہ ہے،سی پیک کو مسلم لیگ ن نے اپنا ذاتی منصوبہ بنا دیا ہے جو غلط ہے،چین  سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں حکومت کے ساتھ کام کرتا ہے، سی پیک کے ساتھ پاکستان کی خوشحالی منسلک ہے،دشمن نہیں چاہتے کہ پاکستان ترقی کرے،ہر ملک اپنے قومی مفاد میں فیصلے کرتا ہے،سی پیک پاکستان کے قومی مفاد میں اس کی حفاظت کریں گے، بھارت ہماراازلی دشمن ہے، ایف اے ٹی ایف سے متعلق اپوزیشن کوفیصلہ کرناہے،اپوزیشن نے فیصلہ کرنا ہے کہ بھارت کے بیانیہ کی حمایت کرنی ہے یاپاکستان کے؟۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کابینہ اجلاس میں شریک ہوئے تھے،عاصم باجوہ ایک دوروزمیں اپنی پوزیشن واضح کریں گے،شیخ رشید کی کتاب ابھی ملی نہیں،کتاب پڑھیں گے تو اس پر جواب دیں گے۔

مزید :

قومی -