برطانیہ کے دوسرے پاکستانی نژاد میئر ، چوہدری محمد ریاض آف دھوریہ

برطانیہ کے دوسرے پاکستانی نژاد میئر ، چوہدری محمد ریاض آف دھوریہ
برطانیہ کے دوسرے پاکستانی نژاد میئر ، چوہدری محمد ریاض آف دھوریہ

  

اولڈھم کے سابق میئر چوہدری محمد ریاض دھوریہ 1974میں برطانیہ آئے اپنی اعلی تعلیم انہوں نے برطانیہ سے ہی حاصل کی اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی ڈگری حاصل کر کے عوامی خدمت کا سلسلہ شروع کیا ۔ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں کے گاؤں دھوریہ کے رہائشی چوہدری جلال خاں نے اپنی اولاد کی تربیت اس انداز سے کی کہ انہوں نے اپنے قول وفعل سے اپنے والد کا نام روشن کیا، دنیا مکافات عمل کی جگہ ہے ،جو کوئی اچھا کرتا ہے اچھا ہی رزلٹ لیتا ہے، اسی طرح خداوند کریم نے چوہدری محمد ریاض کو تین تابعدار بیٹے اور ایک بیٹی کی نعمت سے نوازرکھا ہے جو نماز روزہ کے پابند اپنے والد کی طرح شرافت، دیانتداری اور اسلامی اصولوں پر کاربند رہنے والے ہیں۔

دنیا میں بعض ایسی شخصیات ہوتی ہیں جنکا قد کاٹھ انکے کردار کی بدولت بلند ہوتا ہے، اجنبی بھی ان سے ملکر احترام کے ساتھ ذکر کریں اور یہی اللہ کا سب سے بڑا انعام ہے، دنیا میں عزت دیتا ہے تو آخرت میں بھی، چوہدری محمد ریاض حقیقی معنوں میں کھاریاں کے ایدھی اور دھوریہ کی آن و شان ہیں تو دوسری طرف ضلع گجرات کے ہزاروں افراد کیلئے باعث فخر بھی ہیں ۔اولڈھم کونسل کے سب سے پہلے اور برطانیہ کی تاریخ میں دوسرے ایشین میئر ہونے کا اعزاز حاصل کیا ۔این ایچ ایس بورڈ نارتھ ویسٹ کے چیئرمین بھی ہیں بطور مجسٹریٹ 27سال تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اولڈھم کالج کے گورنر اور اولڈھم کونسلر‘پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، برطانوی سیاست میں انکا نام بڑے احترام کیساتھ لیا جاتا ہے۔ لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم سے عوامی خدمت کا سلسلہ شروع کیا ،عوامی خدمات کی بدولت او‘ بی‘ ای(آفیسر آن برٹش ایمپائر)کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ شرافت ودیانتداری ان کے خاندان کا طرہ امتیاز ہے ،عوامی خدمت کا سبق خاندان اور والدین سے سیکھا، یہی وجہ ہے کہ خداوند کریم دنیا میں بھی اس کا اجر دے رہا ہے ۔انہوں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا یہ تو کرم ہے اسکا کہ بات ابتک بنی ہوئی ہے۔ چوہدری محمد ریاض ہر ملنے والے کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہتے ہیں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے پیچھے بھاگنے والوں کو کچھ حاصل نہیں ہوتابلکہ وہ ہر وقت ذہنی تفکرات کا شکار رہتے ہیں، دنیا کے ساتھ ساتھ خالق کائنات کی عبادت اور نبی کریم ﷺ سے محبت میں ہی تمام مسائل کا حل موجود ہے،انہوں نے جو کچھ بھی حاصل کیا اپنے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے حاصل کیا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اس وقت قیادت کا بحران ہے، دنیا کے بعض ممالک میں ایسی شخصیات حکومت کر رہی ہیں جو اس قابل نہیں مگر یہ اللہ کی عنایت ہے کہ جسے چاہے عزت دے دے، برطانیہ میں بھی اس وقت قیادت کا بحران ہے ٹوری اور لیبر پارٹی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس قیادت کا فقدان ہے،برطانیہ یورپ کا چوہدری ہے اور اسی چوہدراہٹ کی وجہ سے یورپی یونین کے ممالک بھی اس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، بریگزٹ کی وجہ سے برطانیہ شدید بحران کا شکار ہو گا ،اسکے برے اثرات پندرہ سال تک محسوس کیے جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت جرمن اور کینیڈا کے پاس عالمی سطح کی قیادت ہے، باقی ممالک حقیقی قیادت سے محروم ہیں جس کی وجہ سے دنیا کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے جو خطرناک صورتحال کی غمازی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں پاکستانی نژاد اپنی صلاحیتوں کا لوہا تسلیم کراتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، وہ وقت دور نہیں جب برطانیہ کا وزیر اعظم پاکستانی نژاد ہوگا ،ہوم سیکرٹری، لندن کے میئر کے علاوہ درجنوں کونسلز کے میئر اور ممبران پارلیمنٹ پاکستانی نژاد ہیں، ہر چیز پر عروج و زوال ہوتا ہے، جس پر زوال نہیں وہ خدا ہے ،ہم اس لازوال خدا کے ماننے والے ہیں، برطانیہ میں اس وقت پندرہ لاکھ پاکستانی آباد ہیں جو کسی بھی حکومت کی تشکیل میں نمایاں رول ادا کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم دیگر قوموں کی طرح متحد ہو جائیں ،اپنے ہم وطنوں کے علاوہ مسلمانوں کی خدمت کے ساتھ ساتھ ہر انسان کی خدمت کریں کیونکہ نبی کریمﷺ کو بھی خداو ند کریم نے رحمت الالعامین بنا کر بھیجا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت بدترین سیاسی و معاشی بحران کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ کرپشن اور قیادت کا فقدان ہے، مسلمان ممالک باہمی انتشار کا شکار ہیں ،انہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنیوالی قیادت کی ضرورت ہے، اگر خداوند کریم نے کوئی ایسی قیادت دی تو طاغوتی قوتوں نے اسے راستے سے ہٹا دیا ،اگر مسلمان ممالک اکٹھے ہو جائیں تو اسلامی ممالک دنیا کی بڑی طاقت بن سکتے ہیں، دنیا سے غربت اور بھوک کے خاتمے کے لیے نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں، اس ساری صورتحال کے باوجود ہم اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج بھی وہ اپنے وطن اور گاؤں کی مٹی سے بے حد محبت کرتے ہیں انکی کوشش ہو گی کہ وہ سال کے چھ ماہ اپنے وطن اور اپنے لوگوں میں گزاریں 

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -