لاہور میں میٹرو بس سروس ملازمین کی ہڑتال

لاہور میں میٹرو بس سروس ملازمین کی ہڑتال

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

پیپلزپارٹی کی تنظیمی فعالیت میں مزید تاخیر ہو گئی کہ بلاول بھٹو زرداری سندھ میں کارکنوں کے اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں اور اس کے بعد وہ پہلے ملتان پہنچیں گے اور پھر لاہور آئیں گے، وہ یہاں چند روز قیام بھی کریں گے اور خود وسطی پنجاب کی تنظیم کا اعلان کریں گے اگرچہ صدر کے لئے نامزدگی کا اعلان تو رسم ہو گی کہ وہ پہلے ہی سے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشریف کو کلیرنس دے چکے جنہوں نے اپنے صدر ہونے کا اعلان بھی کر دیا مگر باقاعدہ اعلان یا نوٹیفیکیشن تو نہیں ہوا یوں بھی راجہ پرویز اشرف کو وسطی پنجاب کے لئے چیف آرگنائزر بنایا گیا تھا کہ وہ کارکنوں سے مل کر ان کی مشاورت کے بعد تنظیم نو کے لئے سفارشات پیش کریں۔ اب یہ تو معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا سفارش کی تاہم وہ تو صدر ہو گئے اور تا حال دوسرے عہدیداروں کا چناؤ باقی ہے۔ اس سلسلے میں تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر راجہ پرویز اشرف ہی مطلوب تھے تو ان کو چیف آرگنائزر بناتے وقت ہی صدر بنایا جا سکتا تھا یوں کئی ماہ کا وقت بچ جاتا ویسے بھی اب پھر سے قیاس آرائیاں شروع ہیں کہ جنرل سیکریٹری کون ہوگا۔ یہ خلاء یوں پیدا ہوا کہ سابق صدر قمر زمان کائرہ اور سابق جنرل سیکریٹری چودھری منظور احمد نے یہ کہہ کر عہدے چھوڑ دیئے کہ تنظیم کو تین سال پورے ہو گئے ہیں۔ اس سے تو یہی مراد تھی کہ صوبائی تنظیم فارغ اور نئے عہدیدار چنے جائیں گے۔ لیکن یہاں صوبائی سینئر نائب صدر اور ڈپٹی جنرل سیکریٹری قائمقام کے طور پر کام کرتے چلے آ رہے ہیں، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ صرف صدر اور جنرل سیکریٹری مسئلہ ہے، اگرچہ جب تنظیم کا ذکر کیا جاتا ہے تو مطلب سبھی صوبائی عہدیدار ہوتے ہیں، بہر حال اب جنرل سیکریٹری اور سیکریٹری اطلاعات کے لئے قاسم ضیاء، حسن مرتضیٰ، رانا فاروق سعید اور آصف بشیر بھاگٹ کے نام لئے جا رہے ہیں، حالانکہ قاسم ضیاء کا نام مخدوم فیصل صالح حیات اور نوید چودھری کے ساتھ صدارت کے لئے لیا جا رہا تھا۔ اب صورت حال مختلف نظر آ رہی ہے اور یہ کنفیوژن اب بلاول بھٹو کے آنے اور اعلان کے بعد ہی دور ہو گا۔ جبکہ لاہور کی تنظیم کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہو رہی،جہاں تک حسن مرتضیٰ کا تعلق ہے تو وہ پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ہیں۔ ان دنوں کووڈ 19 کی وجہ سے گھر پر قرنطینہ میں ہیں۔ انہوں نے لا علمی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ قاسم ضیاء سیکریٹری اطلاعات جنرل سیکریٹری اور صدر پنجاب رہ چکے ہوئے ہیں۔ نوید چودھری مرکزی قیادت میں شمار ہوتے ہیں اور مخدوم فیصل صالح حیات کے لئے وائس چیئرمین کی بھی تجویز ہے۔

پیپلزپارٹی کے ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کا بھی ذکر آ رہا ہے کہ مریم نواز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا اور انہوں نے جاتی امراء میں خود کو قرنطینہ کر لیا تھا اس لئے وہ نہ تو اپنے صاحبزادے کی رسم نکاح کے لئے لندن جا سکیں اور نہ ہی پی ڈی ایم کے اجلاس اور جلسہ کے لئے کراچی گئیں۔ ہر مواقع پر انہوں نے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا اور ویڈیو لنک سے شرکت کی اس طریقہ کار کے مطابق ان کے والد قائد مسلم لیگ نواز شریف نے بھی سربراہی اجلاس میں شرکت اور خطاب کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے مسلسل یہی کہا جا رہا ہے کہ محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف کی پالیسیوں میں اختلاف ہے اور یہ نیچے اولاد تک بھی ہے کہ مریم نواز والد کے سخت موقف کی موئید ہیں جبکہ محمد شہباز شریف متوازن پالیسی پر عمل پیرا ہیں تاہم یہ امر مفروضہ ہی شمار ہوتا ہے کہ عملی طور پر چچا بھتیجی میں کوئی تنازعہ یا اختلاف منظر عام پر نہیں آیا اور اب تو محمد شہباز شریف نے بھی مولانا فضل الرحمن کی تجاویز پر صاد کیا اور لانگ مارچ کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ یہ کہا کہ لاکھوں لوگ لے کر اسلام آباد پہنچیں گے۔ علاوہ ازیں ان کے بڑے بھائی نے جلسے سے خطاب کیا تو انہوں نے پوری تقریر سٹیج پر کھڑے ہو کر سنی۔تاہم مزار قائد پر انہوں نے سب الٹ دیا، کہتے ہیں ”نہ مزاحمت نہ مفاہمت صرف  غیرجانبدارانہ شفاف الیکشن“ اس کا مطلب جاننے کے لئے کسی ڈکشنری کی ضرورت نہیں۔

سیاست کے جو انداز ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی اب راجہ پرویز اشرف پر بھروسہ کر کے پنجاب میں پوزیشن بہتر بنائے گی۔ یہاں ابھی تک مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی نظر آتی ہیں۔ تاہم پیپلزپارٹی کے راہنما دعوے بڑے کر رہے ہیں کہ راجہ پرویز اشرف کا تعلق پوٹھوہار خطے سے ہے، یہاں سے پہلی بار کسی کو پنجاب کی قیادت ملے گی ان کی سرگرمیوں ہی سے کچھ اندازہ ہوگا۔

لاہور میں گزشتہ دو تین دن برکت مارکیٹ گارڈن ٹاؤن کا علاقہ ”میدان جنگ“ بنا رہا یہاں نوجوان طلباء (میڈیکل) اور ینگ ڈاکٹرز نے احتجاج کیا وہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ہیں جس کے مطابق ہر ڈاکٹر کو ملازمت کے لئے ٹیسٹ دینا ہوگا۔ چاہے وہ بیرون ملک سے آئے یا یہاں سے ڈگری حاصل کرے، پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نئی درآمد شدہ آنسو گیس کے علاوہ مرچوں کا سپرے کیا۔ متعدد ڈاکٹر بے ہوش ہو کر ہسپتال پہنچ گئے مظاہرین کا الزام ہے کہ زخمی جلن سے بیمار ہوئے اور سپرے کیمیکلز کا کیا گیا ہے۔ جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اس کے علاوہ میٹروبس سروس کے ملازمین (خصوصاً ڈرائیوروں) کا تنازعہ جاری ہے انہوں نے دو مرتبہ ہڑتال کی اور سروس بند ہو گئی ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے۔ معاملہ تکنیکی نوعیت اختیار کر گیا  مسافر سخت پریشان ہیں، کہ اب تو اصل ٹھیکیدار کمپنی البیراک نے سروس مستقل بند کر دی کہ اس کا معاہدہ ختم ہو گیا،نئے ٹھیکیدار نے چارج لینا ہے، ملازمین کے مستقبل اور بقایا جات کا کچھ نہیں ہوا۔

 پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کی تنظیم نو، کنفیوژن بڑھ گیا، بلاول بھٹو کی آمد پر فیصلہ ہوگا

محمد شہباز شریف پی ڈی ایم کے اجلاس اور جلسے میں شرکت کے لئے کراچی گئے، نوازشریف اور مریم نواز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی

، ڈاکٹروں کا احتجاج پولیس نے مرچوں والا سپرے کر دیا

مزید :

ایڈیشن 1 -