پی ڈی ایم کا جلسہ،کامیابی یا ناکامی، متضاد دعوے

پی ڈی ایم کا جلسہ،کامیابی یا ناکامی، متضاد دعوے

  

برائے توجہ چوہدری خادم حسین 

30-08-2021

ڈائری۔ کراچی۔ مبشر میر

پی ڈی ایم نے طویل وقفہ کے بعد حکومت مخالف مہم کا پھر سے آغاز کر دیا، اور اس کے لئے شہر مصائب کراچی کو منتخب کیا، جناح باغ میں ایک جلسہ ہوا،اس سے مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف کے علاوہ دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا اور حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا گیا،لیکن تفصیل نہ بتائی گئی،جلسہ کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے مختلف آرا ہیں۔تاہم یہ امر یقینی ہے کہ پیپلزپارٹی کے بغیر یہ صرف جمعیت علمائے اسلام کا شو تھا۔اسی وجہ سے جب مولانا راشد سومرو نے خواتین کو شرکت سے منع کیا تو یہ حاضری بہت معمولی تھی۔مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نواز شریف نے ویڈیو لنک سے خطاب کیا۔میاں محمد شہباز شریف نے مزار قائد پر حاضری دی اور وہاں لانگ مارچ کا تو ذکر نہ کیا۔،البتہ یہ کہہ کر ”نہ مزاحمت نہ مفاہمت،صرف شفاف الیکشن“ جلسے کا سارا پروگرام ہی غارت کر دیا۔

افغانستان میں طالبان کا اقتدار میں آنا اور اس وقت کابل سے ہزاروں افراد کا انخلاء پاکستان کی جانب شروع ہوچکا ہے۔ پاکستان کے اداروں کو الرٹ رہنا ہوگا کہ اس صورت حال میں پاکستان دشمن عناصر ہمارے ملک میں داخل نہ ہوسکیں۔ یقینا ان کے لیے کراچی سب سے فیورٹ جگہ ہوگی۔ کراچی پہلے ہی ایسے مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ 

اقتصادی سرگرمیاں اگر چہ آئیڈیل نہیں لیکن وفاقی حکومت نے اپنی تین سالہ کارکردگی پیش کی ہے جس میں کراچی اور سندھ میں وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا۔ تمام منصوبے جوں کے توں ہیں۔ کراچی کے عوام منتظر ہیں کہ ان کی قسمت کب یاوری کرے گی۔ 

اگر کوئی یہ تجزیہ کرے کہ کس پارٹی کو کیا فائدہ ہوا  اور کس کو سیاسی نقصان کا سامنا ہوا تو جواب صفر ہے۔ بلکہ عام زبان میں یہ بات کی جاسکتی ہے کہ ہر کوئی خود کو زندہ رکھنے کی کوشش میں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ زندہ رکھنے کی کوشش میں جو انداز اختیار کیے جارہے ہیں وہ انتہائی بیکار ہوچکے ہیں۔ کراچی کے عوام کم از کم اس انداز سے بیزار ہو چکے ہیں۔ کیونکہ نتائج مثبت نہیں آرہے۔ کراچی کے عوام پہلے میونسپل مسائل کے حل نہ ہونے پرفکر مند ہوتے تھے، لیکن اب ان کو سیاسی عمل میں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ 

پانی، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ، صفائی ستھرائی اور بیروزگاری کے مسائل سے نمٹنے کی جدوجہد تو جاری رہی ہے لیکن مردم شماری کے نتائج سے کراچی کے عوام کو سیاسی طور پر کمزور کردیا گیا ہے۔ اس وقت سرکاری وسائل اور روزگار کے مواقع بھی سندھ حکومت نے کراچی کے عوام پر بند کردیے ہیں۔ شہر قائد کے کسی بھی علاقے میں سروے کرکے دیکھ لیں عوام اپنی محرومیوں کاذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ لوگ اُس پُرآشوب دور کو بھی بہتر خیال کرنے لگے ہیں، حالانکہ اُس وقت ان کی زندگیاں غیر محفوظ تھیں، لیکن حالات اس قدر دگرگوں ہیں کہ لوگوں کے ہاں فاقے پڑے ہوئے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت میاں شہباز شریف یا اپوزیشن کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کراچی کے عوام کیلئے کوئی پروگرام پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ سندھ میں برسر اقتدار پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری اپنی 13 سالہ حکومت میں کراچی کیلئے کوئی ایسے کام نہیں بتاسکتے، جس سے ان کی مقبولیت کا گراف بلند ہوتا دکھائی دے۔ اسی صورت میں امید کی کرن کیا ہوسکتی ہے؟  تحریک انصاف کے راہنما بھی ایک عرصہ سے امید دلارہے ہیں کہ کراچی کو اس کا حق مل جائے گا۔ برسر اقتدار آنے کے باوجود تحریک انصاف ابھی تک گذشتہ برسوں کا ازالہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 

گورننس کا اندازہ اس وقت لگایا جاتا ہے جب کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے۔ کورنگی مہران ٹاؤن میں فیکٹری میں آتشزدگی نے مزدوروں کو لقمہئ اجل بنادیا، اس سے ایک مرتبہ پھر فیکٹری ایریاز میں محفوظ کاروبار کے انداز بے نقاب ہوگئے۔ ہم نے دیکھا کہ کراچی ہی وہ شہر ہے جہاں آئے دن کسی بلڈنگ یا فیکٹری میں آتشزدگی ہوتی ہے جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے، اس کی تحقیقات کے نتیجے میں قصور واروں کو سزا نہیں دی جاتی۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ایسی فیکٹریوں کی نشاندہی ہونے کے بعد کاروائی کرے لیکن ایسا نہیں ہوپاتا اور پھر حادثہ ہوجاتا ہے۔ 

ہمارے ادوار میں پیشہ وارانہ انداز کی اس قدر کمی ہے کہ حادثے کے بعد ہم ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں۔ حقائق کو چھپا لیا جاتا ہے۔ کسی بھی سطح پر ذمہ داری دیکھنے میں نہیں آتی، گویا حادثات کے بعد پھر اسی غیرذمہ دارانہ انداز کو اختیار کرلیتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد ضلعی حکومتوں کا نظام نافذ تاکہ اس نوعیت کے تمام کام صحیح اور بروقت انداز میں انجام پاسکیں اور ہم لوگ الزام تراشی کے رویوں سے خود کو باز رکھ سکیں۔ 

، اسلام آبا کی طرف لانگ مارچ کا اعلان

محمد شہباز شریف کی مزار قائد پر حاضری،ان کے بیان نے تحریک کے غبارے سے ہوا نکال دی

وفاقی حکومت کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ پیش،کراچی اور سندھ میں وفاق نے کوئی منصوبہ مکمل نہ کیا 

مزید :

ایڈیشن 1 -