افغانستان کی رزم گاہ سے امریکہ کی واپسی

افغانستان کی رزم گاہ سے امریکہ کی واپسی

  

امریکی فوجیوں کا آخری دستہ بھی کابل ائر پورٹ سے اپنے وطن پرواز کرگیا یہ فوجی پانچ طیاروں کے ذریعے رخصت ہوئے،امریکی سفیر روس ولسن اور اُن کا مرکزی عملہ بھی روانہ ہو گیا۔امریکی فوجیوں نے جاتے ہوئے70 طیارے،اسلحہ اور اہم نوعیت کی تنصیبات تباہ کر دیں، ائر پورٹ اب طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ امریکی فوجیوں کی روانگی کے وقت کابل میں جشن منایا گیا اور فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ الحمد للہ ہمارے ملک نے مکمل آزادی حاصل کر لی،طالبان عہدیدار نے کہا کہ تاریخ کو یاد رہے گا کہ طالبان نے امریکی قیادت میں عالمی فوجی اتحاد کو اس وقت شکست دی، جب اُن کے پڑوسی بھی ان کے خلاف ہو گئے تھے۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی فوج کے انخلا اور افغانستان میں اسلامی حکومت کی تشکیل کے بعد داعش سے متاثر افغان اپنے آپریشن ختم کر دیں گے۔اگر داعش نے جنگ کی صورتِ حال پیدا کی اور اپنے آپریشنز جاری رکھے تو اس کے ساتھ سختی سے نپٹا جائے گا۔

نائن الیون کے بعد امریکہ نے طالبان کی حکومت سے اُسامہ بن لادن کی حوالگی کے لئے مذاکرات کئے تھے،لیکن جب ان کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہوا تو امریکہ نے7اکتوبر2001ء کو افغانستان پر تباہ کن فضائی حملوں کا آغاز کر دیا، طالبان کے پاس ان حملوں کا کوئی جواب اور توڑ نہ تھا اِس لئے اُن کی حکومت جلد ہی ختم ہو گئی،اور امریکہ کی قیادت میں نیٹو کی زمینی افواج افغانستان میں اُترگئیں اور بڑی سرعت سے ”دہشت گردی“ کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔اس وقت تک امریکہ کے خلاف بظاہر کوئی مزاحمت نظر نہیں آ رہی تھی،جس سے امریکیوں نے یہ  نتیجہ نکالا کہ وہ اپنے دشمنوں کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں تدریجاً امریکی افواج کم و بیش پورے افغانستان میں پھیل گئیں، انہی کی سرپرستی میں حامد کرزئی کی حکومت بھی قائم ہو گئی،نیا افغان آئین بھی بنایا گیا، جس میں امریکی طرز پر ایک صدر دو بار الیکشن لڑ سکتا تھا، حامد کرزئی کے بعد اشرف غنی اس منصب پر فائز ہو گئے،دوسری ٹرم میں اُن کے مقابلے میں ہارنے والے عبداللہ عبداللہ نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا،اور متبادل سیٹ اپ کے لئے حلف اٹھانے کا اعلان کر دیا،لیکن امریکی کوششوں کے نتیجے میں دونوں میں مفاہمت کا ڈول ڈالا گیا، اور صدر کے ساتھ ساتھ چیف ایگزیکٹو کا ایک نیا عہدہ تشکیل دیا گیا،جس پر عبداللہ عبداللہ فائز ہوئے،15اگست کو طالبان کے کابل میں داخلے سے پہلے اشرف غنی تو فرار ہو گئے، عبداللہ عبداللہ وہیں ہیں اور عبوری حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

افغان سرزمین پر اُترنے کے بعد امریکی افواج میں وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق کمی بیشی ہوتی رہی،امریکہ کے چار صدور کے ادوارِ حکومت میں یہ لڑائی لڑی جاتی رہی، بالآخر صدر جوبائیڈن نے نکلنے کا حتمی فیصلہ کیا تو اُنہیں مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ وہ یہ بیس سالہ جنگ اپنے ملک کے پانچویں صدر کو منتقل نہیں کریں گے۔اپنی مقبولیت کو داؤ پر لگا کر بھی وہ اس فیصلے پر ڈٹے رہے اور آج افغانستان کی رزم گاہ سے آخری امریکی فوجی بھی واپس چلا گیا ہے تو وہاں جشن منایا جا رہا ہے۔ البتہ اشرف غنی حکومت کے تتر بتر ہونے سے طاقت کا جو خلا افغانستان میں پیدا ہوا ہے اسے حکمت و تدّبر سے پُر کرنا ہو گا تاکہ آنے والے دِنوں میں امن وامان کی فضا پیدا ہو سکے اور افغان اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں۔یہ کہا گیا تھا کہ حکومت کی تشکیل غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد ہو گی،اب یہ شرط پوری ہو چکی ہے تو امید کرنی چاہئے کہ اس جانب تیزی سے پیش رفت ہو گی،اور نئی حکومت خوش اسلوبی سے کام شروع کر دے گی۔

امریکی تھنک ٹینک جو اپنے قومی امور پر مسلسل غور و فکر کرتے رہتے ہیں اور حکومتی پالیسیوں کی کامیابی،اور ناکامی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں،اب اِس بات پر غور کر رہے ہیں کہ بیس سال تک کھربوں کا سرمایہ خرچ کرنے اور ساڑھے تین لاکھ کی تعداد  میں نویں نکور افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کھڑی کرنے کے باوجود امریکی اس قابل کیوں نہ ہو سکے کہ افغان فورس کو طالبان کے بالمقابل کامیابی سے لانچ کر سکتے،افغان فوج کے بعض سینئر افسر ابھی سے اپنی ناکامیوں کی کہانی غیر ملکی اخبارات میں لکھنا شروع ہو گئے ہیں اور ایک جرنیل نے تو تان اِس بات پر توڑی ہے کہ اشرف غنی نے پے در پے سیاسی اور حکمت ِ عملی کی غلطیاں کیں اور جونہی وہ امریکی حمایت اور امریکی طیاروں کی چھتری سے محروم ہوئے،اُن کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور پھر وہ بیرونِ مُلک فرار ہوگئے،بعض لکھنے والے یہ بھی باور کرا رہے ہیں کہ روسی افواج کے واپس جانے کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ نے تین چار سال تک افغان مجاہدین کا مقابلہ کیا تھا،لیکن اشرف غنی تو ایک دِن بھی نہیں ٹھہر سکے،ایسے موازنے اور ناکامیوں کے تجزیئے تو نہ جانے کتنے برسوں،بلکہ کتنے عشروں تک ہوتے رہیں گے،لیکن افغان سرزمین پر تاریخ میں تیسری سپرپاور کی شکست سے ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ افغان ٹیرین اور افغانوں کا جذبہئ سرفروشی ہے،جو اپنے اپنے وقتوں کی بظاہر ناقابل ِ تسخیر فوجی قوتوں کی شکست کا باعث بنتا رہا ہے،اس جنگ میں طالبان نہ صرف فاتح بن کر اُبھرے،بلکہ پروپیگنڈے کے میدان میں بھی انہوں نے ایک کے بعد ایک کامیابی حاصل کی اور اپنی ہر فتح کے بعد عسکریت پسندوں کو متحرک و مسرور کیا۔

افغان مجاہدین نے اس سے قبل سوویت یونین کو بھی کامیابی کے ساتھ اپنے ملک سے نکال دیا تھا،لیکن اس کے بعد بدقسمتی سے اُن کی باہمی لڑائیوں نے اتنا طول کھینچا کہ کابل میں مستحکم حکومت قائم نہ ہو سکی،طالبان کا ظہور ایسی ہی لڑائیوں کے نتیجے میں ہوا،اور انہوں نے پانچ سال تک اپنی حکومت بھی چلائی،یہ افغان اشرافیہ کی حکومت نہ تھی جسے شکست کے بعد ملک سے فرار ہونا پڑتا جونہی ان کی حکومت ختم ہوئی، تمام حکومتی عہدیدار افغان معاشرے میں گھل مل کر جذب ہو گئے،جنہیں امریکہ نے گرفتار کر کے تفتیش کرنی چاہی اُنہیں گوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں لے جایا گیا،لیکن طویل تفتیش کے بعد بھی ان عہدیداروں سے کچھ حاصل نہ ہوا تو یہ ایک ایک کر کے رہا ہو گئے،اور ان میں سے بیشتر آج بھی افغانستان میں موجود ہیں،اب طالبان قیادت کامیابی کے بعد ایک نئے امتحان اور ایک نئے چیلنج سے دوچار ہو گئی ہے،انہیں میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابی کو حکومت اور سیاست کے میدان میں بھی مستحکم کر کے دکھانا ہو گا،پہلے کے ناکام تجربات سے بھی سیکھنا ہو گا اور بدلے ہوئے حالات میں سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -