ایم حمزہ…… سیاست کا منفرد و ممتاز کردار

ایم حمزہ…… سیاست کا منفرد و ممتاز کردار

  

بزرگ سیاست دان، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سابق رکن ایم حمزہ 92برس کی عمر میں انتقال کر گئے،انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مقابلے کے امتحان میں شرکت کی اور کامیاب بھی ہو گئے،لیکن سرکاری ملازمت کو نظر انداز کر کے سیاست کے میدان میں آ گئے۔ وہ1962ء میں پہلی بار مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔یہ انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیاد پر نہیں ہوتے تھے،بنیادی جمہوریتوں کے ارکان صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ارکان اور صدر کا انتخاب کرتے تھے۔ مغربی پاکستان اسمبلی میں حکمران جماعت مسلم لیگ(کنونشن) ہی چھائی ہوئی تھی اور خواجہ صفدر اور ایم حمزہ سمیت چار پانچ ارکان ہی اپوزیشن بنچوں پر بیٹھتے تھے،لیکن اس مختصر سی اپوزیشن کی دبنگ آواز اسمبلی میں گونجتی تھی جن میں جناب حمزہ کی آواز نمایاں تر ہوتی تھی،اُس وقت لاہور میں آج کی طرح کاروں کی بہتات نہ تھی،سول سیکرٹریٹ کے قریب پیپلز ہاؤس میں ارکانِ اسمبلی ٹھہرتے تھے اور اجلاس کے لئے لانے اور واپس لے جانے کے لئے ایک بس استعمال ہوتی تھی،لیکن ایم حمزہ اپنی ریلے کی سائیکل پر ہوٹل سے اسمبلی ہال آیا کرتے تھے، راستے میں کوئی شناسا مل جاتا تو سائیکل سے اُتر کر اس کے ساتھ پیدل چلنا شروع کر دیتے،بعد میں جب وہ سیاست میں بھرپور کردار ادا کرتے کرتے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی رکنیت تک پہنچے تو بھی اُن کی یہ سادگی اور وضع داری قائم رہی،اب وہ مسلم لیگ(ن) کے رکن تھے اور غالباً بزرگ ترین سیاست دان کے مقام پر فائز تھے،انہوں نے سیاست کو جلب زر کا ذریعہ نہیں بنایا،بلکہ صحیح معنوں میں اُن کی سیاست خدمت کے لئے تھی، یہی وجہ ہے کہ اُن کے دامن پر کسی قسم کا کوئی داغ نہ تھا۔ان کی قلندرانہ زندگی یہ سبق دیتی ہے سیاست میں سر اٹھا کر کیسے چلا جاتا ہے،اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور آج کے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو ان کا سا استقلال نصیب کرے۔

مزید :

رائے -اداریہ -