مہنگائی اورحکومتی دعوے

مہنگائی اورحکومتی دعوے
مہنگائی اورحکومتی دعوے

  

تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار میں آئے تین برس گزر چکے ہیں اور تین برس کی کارکردگی پر حکومت نے بڑی تقریب رکھی جس میں انہوں نے تین سال کے دوران اپنی کارکردگی کی تشہیر بھی کی اور بتایا کہ ملک میں مہنگائی نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ تین سال میں خوشحالی کا وہ دور دورہ ہے کہ لوگ جھولیاں اٹھا اٹھاکر حکومت کو دعائیں دے رہے ہیں۔خان صاحب تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اتنے کام ہو رہے ہیں بلکہ پنجاب میں تو ترقیاتی کاموں کے ڈھیر لگ چکے ہیں لیکن لوگوں کو نظر ہی نہیں آ رہے۔ حکومتی وزراء اور وزیراعظم کے بیانات کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے اور جائزہ لیا جائے تو مہنگائی کا جن اس وقت اتنا بے قابو ہو چکا ہے کہ حکومت کیلئے اسے دوبارہ بوتل میں قید کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ تین سال پہلے عوام کی قوت خرید کتنی تھی اور اب کتنی ہے یہ کوئی نہیں بتاتا اور عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ریکارڈ تعداد میں موٹر سائیکلیں بک گئیں، گاڑیاں بک گئیں، لیکن کوئی یہ بھی تو بتائے کہ کتنے کروڑ لوگ ایسے ہیں جو نہ تو گاڑی خرید سکتے ہیں اور نہ موٹر سائیکل خریدنے کی سکت رکھتے ہیں اور لاکھوں کروڑوں لوگ وہ ہیں جو مہنگائی کی وجہ سے اپنی گاڑیاں بیچ کر موٹر سائیکلیں خرید رہے ہیں اور جن کے پاس موٹر سائیکلیں ہیں وہ اب سائیکل پر آ چکے ہیں۔ عمران خان کی حکومت نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو مہنگائی کم کرنے کے ساتھ ساتھ قرضہ نہیں لیں گے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ حکومت کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کا قرض جون 2021ء تک 38070ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ سال 2019ء سے ہر سال پاکستان کے قرض میں 10فیصد اضافہ ہواہے۔ سٹیٹ بینک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اندرونی قرض کل قرض کا 68فیصد ہے، بیرونی قرض پاکستان کے کل قرض کا 32فیصد ہے۔لوگوں کی قوت خرید کی بات کریں تو اشیا و خورونوش کی قیمتیں آسمان سے جا لگی ہیں۔ چینی جو تین سال قبل صرف پچاس روپے کلو میں دستیاب تھی اور ن لیگ کے دور حکومت میں صرف چند روپے اس میں اضافہ ہوا عمران خان کی حکومت آتے ہی چینی کو ایسے پر لگے ہیں کہ اس وقت سو روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی ہے۔اسی طرح گھی یا آئل کی بات کریں تو کوکنگ آئل جو تین سال قبل 150 سے لے کر 160 روپے فی لیٹر ملتا تھا اب 300 روپے سے لے کر 320 تک جا پہنچا ہے۔ اس طرح آٹا جو تین سال قبل چالیس روپے کلو مل رہا تھا اس وقت اس کی قیمت بھی دوگنی ہو چکی ہے اور آٹا 75 روپے سے لے کر 80 روپے فی کلو میں ملتا ہے۔ دالوں کی قیمتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہو چکا ہے کہ عام آدمی کیلئے اب دال روٹی پوری کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے۔گاڑیوں کی بات کریں تو گاڑیوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے والا کوئی ادارہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے موٹر سائیکل اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں ہر دوسرے ماہ قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہیں، اسی طرح گاڑیوں میں ڈالنے والا پیٹرول اس وقت 120 روپے لیٹر مل رہا ہے۔

ماضی میں جب پیٹرول مہنگا ہوتا تھا تو اسد عمر اسمبلی میں کھڑے ہو کر بیان جاری کرتے تھے کہ قیمتوں میں اضافہ ہونے سے اضافی پیسے حکمرانوں کی جیب میں جا رہے ہیں۔اب ایماندار حکومت کے ہوتے ہوئے یہ پیسا کہاں جا رہا ہے اور اگر حکمرانوں کی جیبوں میں نہیں جا رہے تو پھر عوام کو بھی تو نہیں مل رہے۔دودھ جو تین سال قبل تک 70 سے 80 روپے فی لیٹر مل رہا تھا اب تین سالوں میں 100 روپے سے لے کر 150 روپے کوالٹی کے مطابق فی لیٹر مل رہا ہے۔اسی طرح سبزیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ صرف مہنگائی بڑھنے کا ہی نام نہیں ہے اس سے لوگوں میں بے روز گاری بڑھ رہی ہے اور ان چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ غربت میں اضافے کا ہی دوسرا نام ہے۔ لوگ مہنگائی کے سبب پیٹ کاٹ کاٹ کر جینے پر مجبور ہیں۔خان صاحب کہتے ہیں ہم نے لنگر خانے کھولے ہیں جبکہ یہ نہیں بتاتے کہ ہم نے لوگوں کو روزگار کتنا دیا ہے پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ تھا وہ کتنے دیئے ہیں، کروڑوں نوکریوں کی نوید تھی کتنی نوکریاں لوگوں کو ملی ہیں الٹا لوگوں سے ان کا روزگار چھینا جا رہا ہے اور انہیں لنگر خانوں پر لگا کر داد وصول کی جا رہی ہے۔

عالمی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں اس وقت بے روزگار افراد کی تعداد ستر لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔حکومت سے جب مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ پوچھی جائے تو وہ پچھلی حکومتوں پر اس کا ملبہ ڈال کر خود کو معصوم قرار دیتی ہے۔یہ رویے اب زیادہ دیر نہیں چلیں گے لوگ اب حکومتی اعلانات اور دعوؤں سے تنگ آ چکے ہیں۔کیوں کہ حکومتی اعلانات اور اقدامات کے دعوے اپنی جگہ لیکن اشیائے خورونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور ہورہی ہیں اورعوام حکمرانوں سے مایوس نظر آتے ہیں عوام کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کرکے ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ غریب آسانی سے اپنی زندگی بسرکر سکے۔

مزید :

رائے -کالم -