افغانستان کی موجودہ صورتِ حال

افغانستان کی موجودہ صورتِ حال
افغانستان کی موجودہ صورتِ حال

  

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ”17روز میں تاریخ کا سب سے بڑا انخلا کیا۔ زندگیاں بچانے کے لئے ڈیڈ لائن میں توسیع نہ کرنا بہتر تھا۔اب ہماری افغانستان سے 20سالہ موجودگی ختم ہوگئی ہے۔“امریکہ نے غیر ملکیوں کے انخلا میں مدد کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم طالبان سے شہریوں کی محفوظ منتقلی کے وعدے کی پاسداری کروائیں گے۔ امریکہ نے کابل میں سفارتی مشن معطل کر دیا، لیکن اسے دوحہ منتقل کر دیا گیا ہے۔امریکی وزیرخارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نئی افغان حکومت سے تعلقات امریکی مفاد سامنے رکھ کر قائم کریں گے، دہشت گردی کے شدید خطرات کے باوجود شہری انخلا مکمل کیا گیا۔انخلا امریکہ کی تاریخ کا سب سے مشکل عمل تھا۔ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ آج افغانستان کو حقیقی آزادی ملی ہے۔ عالمی برادری کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ہم امریکہ کے ساتھ بھی ورکنگ ریلیشن چاہتے ہیں۔ افغانستان نے مکمل آزادی حاصل کر لی ہے، امریکہ کو شکست ہوئی، سارے مقاصد حاصل نہیں کرسکا۔ طالبان رہنما انس حقانی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ افغانستان پر امریکی اور نیٹو فورسز کا 20سالہ قبضے کا خاتمہ ہوگیا، ہم نے افغانستان میں ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے۔

ایک رپوٹ کے مطابق20سالہ افغان جنگ میں ڈھائی ہزار امریکی فوجی اور 3ہزار 846امریکی کنریکٹر ہلاک ہوئے۔اس جنگ میں نیٹو کے 1144فوجیوں سمیت دیگر عملہ ہلاک ہوا۔20سالہ جنگ میں امریکی حمایت یافتہ 66 ہزار سے زائد افغان فوج اور پولیس اہلکاروں نے جان گنوائی۔ 47ہزار سے زیادہ عام افغان شہریوں نے بھی جانیں قربان کیں۔ امریکی فوج سے نبرد آزما طالبان اور دیگر کے51ہزار سے زائد جنگجو مارے گئے۔ اس جنگ میں 444امدادی کارکن اور 72 صحافیوں نے بھی اپنی جانیں قربان کیں۔ افغان جنگ میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر پاکستان نے جو بھاری نقصان اٹھایا اس کی تفصیل اور پاکستانیوں کی قربانی کی داستان الگ ہے،جو دہشت گردی کی نذر ہوئے اور ملک کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔

افغانستان میں طالبان کے تحت نئی حکومت سازی کی بات تو بہت ہو رہی ہے۔ زمینی حقائق دیکھیں توفی الحال حالات جوں کے توں ہیں۔روس، چین، ایران اور ترکی امریکہ کے جانے کے بعد اپنا اثرورسوخ بنانے کے لئے مختلف طریقوں سے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔امریکہ اس وجہ سے افغانستان کا پیچھا چھوڑے گا نہیں۔ وہ کسی ایسے حصے سے خود کو بیدخل نہیں کرنا چاہے گا، جہاں پر چین اور  روس اپنی طاقت بڑھانے میں مصروف ہیں۔ بین الاقوامی امداد، مغربی اتحاد اور پابندیوں کے ذریعے وہ افغانستان میں گھسا رہے گا۔یہ خطہ بین الاقوامی و علاقائی خاموش جنگ کا ایک بڑا مرکز بننے والا ہے۔ طالبان بھارت کو افغانستان سے دور رہنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔دہلی بے بس ہے۔ہم وسطی ایشیا کے ساتھ جڑ جانے کا پرانا خواب دوبارہ سے دیکھ رہے ہیں۔اگر یہ خواب پورا ہوتا ہے تو ہم معاشی طور پر ایک طاقتور ملک بن کر ابھر سکتے ہیں۔افغان صورتِ حال کو بین الاقوامی مبصرین 'گریٹ گیم سے تعبیر کر رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان پہلے ہی چین کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات رکھتا ہے اور نئی 'گریٹ گیم میں اسلام آباد حکومت چینی سہارے سے زیادہ فعال کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں خیال کیا جا رہا ہے کہ افغانستان کے اندرونی سیاسی و اقتصادی منظر پر بظاہر پاکستان کو قدرے زیادہ کنٹرول حاصل ہے۔ ماضی میں چین نے کبھی افغانستان میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا، لیکن اب وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ 

افغانستان میں 20سالہ طویل خونریزی کا سامنا کرنے کے بعد ملک میں امارت اسلامی کاوہ نظام بحال ہوجائے گا،جو امریکہ اور نیٹو اتحادیوں نے طالبان سے چھین لیا تھا۔ دنیا بے چینی اور بے یقینی سے طالبان قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے کہ وہ نئی صورت حال سے کس طرح نمٹتی ہے۔امریکہ کا دعوی ہے کہ وہ افغانستان میں داعش اور القاعدہ کو ختم کرنے آیا تھا جو وہ کر چکاتھا، لیکن امریکی انخلا کے دوران کابل ایئر پورٹ پر داعش کی جانب سے کئے گئے دھماکے نے امریکی دعویٰ کو کمزور کر دیا ہے۔طالبان کی جانب سے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ان کی آزمائش کا اصل  دور شروع ہونے والا ہے مگر جس تحمل، تدبر اور معاملہ فہمی سے طالبان لیڈر معاملات کو سلجھانے میں مصروف ہیں۔ اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر امن قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کو بھی اپنی داخلہ اور خارجی پالیسیوں کو مضبوط بنانا ہو گا تاکہ یہاں پر امن وامان کی صورتِ حال برقرار رہے۔ پاک افواج کی بے شماراور لازوال قربانیوں کے بعد یہاں پر امن و امان قائم ہوا۔ ہمارے ملک میں موجودہ حکومت کا 3سالہ دور کچھ اچھا نہیں دیکھا جا رہا۔ یہاں پر سیاسی عدم استحکام، ایک دوسرے پر الزام تراشیوں اور انتقامی کارروائیوں سے معاشی صورتِ حال بھی خراب ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسی پالیسیاں بنائے جس سے ہم ترقی کے سفر پر گامزن ہو سکیں۔ اس وقت پاکستان پوری دنیا میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور عالمی برادری کی نظریں پاکستان پر جمی ہوئی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -