طالبان۔فتح افغانستان کے بعد

 طالبان۔فتح افغانستان کے بعد
 طالبان۔فتح افغانستان کے بعد

  

آخری امریکی فوجی بھی سر زمین افغانستان کو الوداع کہہ چکا۔ طالبان نے 20 سال کی عظیم الشان عسکری جدوجہد کے ذریعے بالآخر اپنی دھرتی کو غیر ملکی حملہ آوروں سے پاک کر کے ہی دم لیا۔ افغان حریت پسند، جری، بہادر اور جنگجو ہے،ہر افغان انفرادی طور پر بھی ایک جنگجو ہے پھر قبیلے کی شکل میں مل جل کر ایک چھوٹی سی آرمی ہے جسکی ایک تاریخ ہے ہر قبیلے کا ایک جغرافیہ بھی ہے جسکی حفاظت کرنا اسکی جبلت میں داخل ہے جب کوئی غیر ملکی انکی دھرتی پر قدم رکھتا ہے تو وہ یک سو ہو کر اس کے خلاف بر سر پیکار ہو جاتے ہیں۔ افغانستان کا ماحول اور اسکا جغرافیہ اس کا مددگار ہوتا ہے۔ سنگلاح پہاڑ، شدید موسم، مشکل زندگی سب مل جل کر اسے سخت جان بناتے ہیں دشمن کے خلاف اسکی جدوجہد میں ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔ طالبان نے 20 سالہ مسلح جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سپریم طاقت کو شکست فاش دے دی ہے طالبان نے دوھا میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اپنی فتح کی دستاویز پر مہر ثبت کرائی جس کے مطابق 31 اگست 2021ء کو آخری امریکی فوجی بھی انکی دھرتی سے رخصت ہو گیا ہے۔ اب طالبان کے سامنے ایک نئی دنیا آگئی ہے ان کا اپنا آزاد کردہ افغانستان جسکی زمام کا ر سردست انہی کے ہاتھوں میں ہے یہ مرحلہ شاید 20 سالہ عسکری جدوجہد سے بھی زیادہ مشکل ہو۔کیونکہ نظام حکومت بنانا اور چلانا اور طرح کی صلاحیتوں کا متقاضی ہوتا ہے۔ 

طالبان کے ہاتھوں امریکی اتحادی افواج کی شکست کے بارے میں تو کسی کو شک و شبہہ نہیں تھا افغان اس سے پہلے بھی عظیم طاقتوں کو شکست سے ہمکنار کرتے رہے ہیں اشتراکی افواج ہوں یا برطانیہ کے ساتھ ہونے والی اینگلو، افغان جنگیں، سب افغانوں کے جذبہ حریت کی امین ہیں امریکی بھی کئی سالوں سے کہنے لگے تھے کہ "طالبان کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔افغانستان میں جنگ جیتنا ممکن نہیں ہے" بالآخر دوھا امن مذاکرات کے ذریعے امریکیوں کو اپنا بھرم قائم رکھنے کی سبیل پیدا ہوئی اور بالآخر انہوں نے ستمبر 2021ء تک اپنی افواج افغانستان سے نکالنے کا وعدہ کیا لیکن وہ کیونکہ بہت جلد اس قضیے سے جان چھڑانا چاہتے تھے، اس لئے 31 اگست کی حتمی تاریخ کا اعلان ہوا امریکیوں نے جس سرعت کے ساتھ، جس بھاگ دوڑ میں افغانستان خالی کیا وہ پوری دنیا کے لئے حیرانی کا باعث ہے امریکیوں کی فوجی شکست ایک حقیقت ہے لیکن اربوں کا سازو سامان چھوڑ کر راہ ِ فرار اختیار کرنا، ہرگز متوقع نہیں تھا۔ لیکن ایسا ہوا۔ دنیا حیران ہے کہ امریکیوں نے ایسا کیوں کیا اس قدر جلد بازی کا کیا مقصد ہے۔اس بارے میں متضاد آرا پائی جاتی ہیں۔  

دوسری طرف طالبان نے جس سبک خرامی اور امن و امان کے ساتھ کابل فتح کیا وہ اس سے بھی زیادہ حیران کن امر ہے امریکیوں کی تیار کردہ تربیت یافتہ 3لاکھ 20 ہزار افراد پر مشتمل افغان نیشنل آرمی جو امریکیوں کے انخلا کے بعد افغانستان کا نظم و نسق سنبھالنے اور افغان عوام کو دشمنوں سے بچانے کے لئے کھڑی کی گئی تھی طالبان کے خلاف ایک بھی گولی چلائے بغیر تتر بتر ہو گئی۔ سال ہا سال کی تربیت یافتہ فوج کا طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہونا بھی انتہائی حیران کن امر ہے۔ ماہرین ابھی تک اس کی توضیح پیش کرنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں۔86ارب ڈالر سے زائد مالیت کا جدید ترین اسلحہ و دیگر ملٹری ہارڈ وئیر طالبان کے ہاتھ لگ چکا ہے اس میں جنگی طیارے بھی شامل ہیں ملٹری وہیکلز اور ایسے حساس آلات بھی شامل ہیں جو امریکی سپاہ کی دسترس میں ہی رہے ہیں لیکن اب طالبان کے زیر قبضہ آچکے ہیں۔ طالبان کا بڑی سُبک خرامی کے ساتھ کابل پر قبضہ تجزیہ نگاروں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے سازشی تھیوری کے مطابق کابل پر طالبان کا اس طرح قبضہ امریکیوں کے ساتھ ملی بھگت کے ساتھ ہی ممکن ہوا ہے۔ کچھ نہ کچھ  تو انہونی ہے جس کی پردہ داری ہو رہی ہے۔ 

اب طالبا ن کے سامنے سب سے بڑا اہم کام عالمی سطح پر قابل قبول حکومت کا قیام ہے کیونکہ طالبان یعنی پشتون، افغانستان میں ایک بڑے سٹیک ہولڈر ضرور ہیں لیکن اکیلے ہی سٹیک ہولڈر نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ تاجک، ازبک، ترکمان، ہزارہ بھی اسی سر زمین میں بستے ہیں۔ یہ سب اہم لسانی قوتیں ہیں ان کے منفرد کلچر اور بود و باش ہیں،ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز کرنا قرین مصلحت نہیں ہو سکتا ان قومیتوں کے ایران،  ترکی اور روس کے علاوہ چین کے ساتھ بھی معاملات جڑے ہوئے ہیں۔ شمالی اتحاد کی صورت میں یہ سب ایک مناسب عسکری قوت بھی رکھتے ہیں 1996ء میں جب طالبان پورے افغانستان پر چھا گئے تھے اور انہوں نے کابل میں اپنی حکومت بھی قائم کرلی تھی اس وقت بھی شمالی اتحاد پر غلبہ نہیں پا سکے تھے ابھی بھی ایسی ہی صورتحال ہے شمالی اتحاد نے ابھی تک طالبان کے آگے سرنگوں نہیں کیا ہے اطلاعات ہیں کہ طالبان نے وادی پنج شیر کو گھیرے میں لے لیا ہے، محاصرہ جاری ہے اور حالات جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں ویسے تو ان کے بڑے کمانڈر، رشید دوستم اور اسماعیل خان راہ فرار اختیار کر چکے ہیں لیکن علاقہ ابھی تک طالبان کے قبضے میں نہیں آیا۔ ضروری ہے کہ ایک ایسی حکومت تشکیل دیجائے جو وسیع بنیادوں پر، تمام لسانی اکائیوں کی نمائندہ ہو اور اسے تما م سٹیک ہولڈر ز کی حمایت حاصل ہو۔دوسری طرف نظام حکومت ایسا ہونا ضروری ہے جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔

امارت اسلامی کے حوالے سے شاید اس قدر اتفاق رائے نہیں پایا جاتا، جو ایک مستحکم نظم حکمرانی کے لئے ضروری ہے۔غیر ملکی مغربی و مشرقی طاقتیں بھی سخت مذہبی نظام حکمرانی کو قبول کرتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اتفاق رائے سے ایک ایسا نظام حکمرانی تشکیل دیا جائے جسے تمام فریق قبول کریں اور اسے عالمی برادری کی بھی حمایت حاصل ہو۔ یہ باتیں بظاہر خوشنما لگتی ہیں کہ طالبان کو ایسا کرنا چاہئے ویسا کرنا چاہئے۔  وسیع البنیاد حکومت ہونی چاہئے، قابل قبول حکومت ہونی چاہئے وغیرہ وغیرہ۔لیکن اگر ہم عملاً دیکھیں تو دیگر تمام فریق20سال تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے طالبان پر عرصہ حیات تنگ کرتے رہے اب،جبکہ طالبان نے امریکیوں کو شکست دے دی ہے اور اقتدار پر قابض ہو چکے ہیں تو ہم انہیں کہہ رہے ہیں کہ اپنے دشمنوں کو اقتدار میں شامل کر لو تاکہ دنیا تمہاری حکومت کو قبول کرلے۔ یہ بات منطقی لگتی نہیں ہے۔ ایسا کرنا شاید طالبان کے لئے ممکن بھی نہ ہو۔ دیکھتے ہیں۔ آگے کیا ہوتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -