بلاول بھٹو، دِل بڑا کریں 

بلاول بھٹو، دِل بڑا کریں 
بلاول بھٹو، دِل بڑا کریں 

  

بلاول بھٹو زرداری کو آج کل ابہام سے نکلنے کے لئے کسی رہنمائی کی شدید ضرورت ہے، اُن کا سب سے بڑا ابہام یہ ہے وہ اپوزیشن کی بھی اپوزیشن کر رہے ہیں اور حکومت کے خلاف بھی اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرنے کی کوشش میں ہیں،بیک وقت یہ دو کام یہ دو کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں۔اب اُن کی اِس بات کا کیا موقع محل ہے کہ سکھر کا اپوزیشن لیڈر ہو تو جیل میں رہتا ہے،لاہور کا ہو تو آزاد پھرتا ہے۔اُن کا اشارہ شہباز شریف کی طرف تھا، جو آج کل کراچی میں بیٹھ کر اُس کی تباہی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔سکھر والے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ہیں،جو نیب کی حراست مگر ایک ریسٹ ہاؤس میں دن گزار رہے ہیں۔شہباز شریف پر بلاول بھٹو زرداری نے یہ تنقید کیوں کی،اور اس کے مقاصد کیا تھے؟ لگتا ہے پیپلز پارٹی پر جو الزام لگ رہا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے، بلاول نفسیاتی طور پر اس کے زیر اثر ہیں اور جواباً یہ الزام لگانا چاہتے ہیں،اسٹیبلشمنٹ ہمیں نہیں، مسلم لیگ(ن) کو سپورٹ کر رہی ہے،جس کا ثبوت شہباز شریف کا یوں آزادانہ پھرنا ہے۔ یہ کہتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری اپنے اُن بیانات کو بھول گئے جب وہ اچھے دِنوں میں شہباز شریف کی گرفتاری پر حکومت اور نیب کے خلاف بیانات دیا کرتے تھے، وہ یہ بھی بھول گئے۔ شہباز شریف کتنی مرتبہ گرفتار ہوئے اور کتنا عرصہ پابند ِ سلاسل رہے، پھر شہباز شریف کو ریلیف عدالتوں سے ملا انہیں نیب نے کلین چٹ نہیں دی، اب بھی اُن کے خلاف نیب اور ایف آئی اے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں اور کوئی دن جاتا ہے جب انہیں دوبارہ گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے،مگر سوال یہ ہے بلاول بھٹو زرداری ایک ہی سانس میں حکومت اور اپوزیشن کی مخالفت کیسے کر رہے ہیں،اس کے پیچھے منطق کیا ہے،اس کا مقصد کیا ہے؟ جب تک مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی اتحادی تھیں اُن کا بیانیہ حکومت مخالف تھا،اب دونوں ایک دوسرے کے متحارب کھڑی ہیں، حالانکہ دونوں کا بظاہر مقصد ایک ہی ہے، موجودہ حکومت سے جان چھڑائی جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے بالواسطہ طور پر وہی بات دہرائی ہے، جو تاریخی تناظر میں پیپلز پارٹی کا بیانیہ رہا ہے۔مثلاً ہمیشہ سے یہ کہا جاتا رہا ہے۔وزیراعظم کا تعلق سندھ سے ہو تو اُسے پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے،پنجاب سے ہو تو سزا کے باوجود اُسے بیرون مُلک جانے کی اجازت مل جاتی ہے۔پیپلزپارٹی اس طرح اسٹیبلشمنٹ کے رویے اور ترجیحات نیز امتیازی سلوک پر تنقید کرتی آئی ہے۔اب بلاول بھٹو زرداری اسی بات کو شہباز شریف اور خورشید شاہ، پر منطبق کر رہے ہیں۔ وہ یہ بھول گئے ہیں آج پنجاب سے تعلق رکھنے والا سابق وزیراعظم سزا پا کر بیرون ملک بیٹھا ہے اور سیاست سے نااہل ہو چکا ہے،جبکہ آصف علی زرداری متعدد کیسوں میں ملوث ہونے کے باوجود سیاست دان کے طور پر نہ صرف اہل ہیں،بلکہ سزا یافتہ بھی نہیں ہیں۔خود بلاول بھٹو زرداری کو کلین چٹ مل چکی ہے،لیکن مریم نواز کو سزا کے ساتھ ساتھ نااہلی کا بھی سامنا ہے سندھ کارڈ کو ایک دوسرے انداز سے کھیل کر بلاول بھٹو زرداری آج کے حالات سے پارٹی اور خود کو نکالنا چاہتے ہیں، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں ان باتوں سے سامنے کی حقیقتوں کو جھٹلایا نہیں جا سکتا،سامنے کی حقیقت یہ ہے پیپلزپارٹی نے اپوزیشن کے چلتے جہاز سے چھلانگ لگائی اور حکومت مخالف اتحاد سے اُس وقت علیحدہ ہو گئی، جب اُس کی کامیابی کے امکانات روشن تھے، نہ صرف یہ بلکہ علیحدگی کے بعد یہ الزام بھی لگایا،مسلم لیگ(ن) اسٹیبلشمنٹ سے پینگیں بڑھا رہی ہے، حکومت مخالف اتحاد سے علیحدہ آپ ہوں اور ایسی باتیں بھی کریں تو کون ہے جو یقین کرے گا۔ شہباز شریف کراچی گئے تو انہوں نے صرف پی ڈی ایم کا جلسہ ہی نہیں کیا، بہت سی دیگر مصروفیات بھی رکھیں۔تاجروں اور صنعت کاروں سے بھی ملے، مزارِ قائد پر حاضری بھی دی، مسلسل اس بات کا اظہار بھی کیا کراچی کو تباہ کر دیا گیا ہے،جس پر اُن کا دِل خون کے آنسو روتا ہے،اب ظاہر ہے یہ باتیں ایسی تھیں جن پر بلاول بھٹو زرداری کو سندھ کارڈ کھیلنا پڑا اور شہباز شریف کو پنجاب کا کہہ کر یہ تاثر دیا انہیں تمام آزادیاں حاصل ہیں اور سندھ سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔

ایک طرف بلاول بھٹو زرداری قومی لیڈر بننا چاہتے ہیں اور دوسری طرف صوبائیت کا پرچار کرتے ہیں،ایک طرف آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے یہ دعوے ہیں آئندہ انتخابات میں پنجاب سے کلین سویپ کریں گے اور دوسری طرف وہ سندھ میں پنجاب کو فوقیت دینے کا الزام لگاتے ہیں، کیا پنجاب سندھ سے بڑا صوبہ نہیں،کیا پنجاب میں سندھ سے زیادہ ترقی نہیں ہوئی،کیا پنجاب حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا نہیں کرتا، کیا پنجاب کے سیاست دانوں نے آمریت کے خلاف تحریکوں میں قربانیاں نہیں دیں،اگر دو بار شہید بے نظیر بھٹو کی حکومت قبل از وقت ختم کی گئی، تو کیا نواز شریف کے خلاف بھی یہی کچھ نہیں ہوا،کیا نواز شریف ووٹ کو عزت دو، کا جو بیانیہ اختیار کئے ہوئے ہیں اُس میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی برطرفی پر اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ نہیں بناتے، سیاست دانوں کو یہ بات سمجھ آ گئی تھی کہ صوبائیت کی یہ باتیں صرف انہیں تقسیم کرنے کے لئے کی جاتی ہیں،خود بے نظیر بھٹو نے نواز شریف سے مل کر میثاقِ جمہوریت بھی اسی لئے کیا تھا،مگر شاید بلاول کو یہ باتیں یاد نہیں یا پھر انہیں کسی نے بتائی نہیں۔ وہ یہ حقیقت بھی بھول گئے پیپلز پارٹی کو سندھ میں بار بار حکومت دی گئی، جبکہ مسلم لیگ(ن) کو 2018ء کے انتخابات میں حکومت بنانے کا موقع نہیں ملا، گویا پنجاب کا کوئی کارڈ کسی کے پاس ہے ہی نہیں اور فیصلہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔یہی بات اگر سندھ میں دہرائی جاتی اور اکثریت ملنے کے باوجود وہاں جوڑ توڑ کر کے ایک اتحادی حکومت بنا دی جاتی تو پیپلزپارٹی نے آسمان سر پہ اٹھا لینا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری اب جنوبی پنجاب کے دورے پر ہیں، کیا وہ اس دورے میں ایسی باتیں کریں گے اور یہ کہیں گے پنجاب والوں کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ سندھ کے برعکس نرم رویہ رکھتی ہے، نہیں وہ ایسا ہر گز نہیں کہیں گے، وہ یہاں آ کر مظلوموں کی بات کریں گے،عوام کی محرومیوں کا ذکر کریں گے،زیادہ سے زیادہ یہ کہیں گے مسلم لیگ(ن) نے بھی اپنے دورِ حکومت میں جنوبی پنجاب کے لئے کچھ نہیں کیا اور اب تحریک انصاف بھی انہیں دھوکہ دے رہی ہے۔پھر اس کے ساتھ وہ یہ تڑکا بھی لگائیں گے، صرف پیپلزپارٹی ہے،جو عوام کا ساتھ دے گی اور جنوبی پنجاب کے عوام کو علیحدہ صوبہ دے کر اُن کا حق دلائے گی۔بیانیے کی یہ تبدیلی اس بات کی غمازی کرتی ہے، پیپلزپارٹی سندھ میں کسی دوسرے کو داخل ہوتا نہیں دیکھ سکتی اور خود یہ چاہتی ہے چاروں صوبوں میں اُس کی حکومت بن جائے۔پنجاب کو ہمیشہ بڑا بھائی ہونے کے طعنے دیئے جاتے رہے ہیں، لیکن اس بڑے بھائی نے کبھی چھوٹے بھائیوں کے خلاف متعصبانہ بات نہیں کی۔ بلاول بھٹو زرداری اگر قومی سطح کی سیاست کرنا چاہتے ہیں تو انہیں دِل بڑا کر کے لاڑکانہ کی سیاست سے نکلنا ہو گا۔پنجاب میں قدم جمانے ہیں تو سندھی کارڈ سے اجتناب برتنا پڑے گا۔یہاں سلوک سب سے ایک جیسا ہوا ہے،اصل جنگ جمہوریت اور آمریت کی ہے۔ اقتدار کے لئے ایک دوسرے کو ہدف بنانے سے پہلے کچھ حاصل ہوا ہے، نہ اب ہو گا،اس حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کو تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -