تعلیم کا تیزاب 

تعلیم کا تیزاب 
تعلیم کا تیزاب 

  

زبان اور ثقافت کے بدل جانے سے پورا معاشرہ (یا معاشرے کا غالب حصہ) کیسے تبدیل ہو جاتا ہے اس کا مظاہرہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں بار بار دیکھنے کو ملا۔ ان میں سے ایک مظاہرہ ہم نے بھی کتابوں میں پڑھا اور دیکھا۔1857ء کی پہلی جنگِ آزادی کو انگریز بغاوت کہتا اور لکھتا ہے۔ اس جنگ کے بعد لارڈ میکالے نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ ہندوستان کے باسیوں کو زیرِ تسلط لانے کے لئے ان کے جسم کی بجائے ان کے دماغ اور ذہن پر قبضہ کرو۔ دماغ بدلا تو جسم خود بخود بدل جائے گا۔ لارڈ کو فارسی میں ”لُرد“ کہا جاتا ہے۔ ”لردِ فرنگی“ کے مفّرس کا مطلب درجِ ذیل اشعار میں انگریز لارڈ یعنی لارڈ میکالے ہے۔ اقبال کہتا ہے:

ایک لُردِ فرنگی نے کہا اپنے پسر سے

منظر وہ طلب کر کہ تری آنکھ نہ ہو سیر

بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم

برّے (بھیڑ کے بچے)پہ اگر فاش کریں قاعدۂ شیر

سینے میں رہے رازِ ملوکانہ تو بہتر

کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے، اسے پھیر

تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب

سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر

تھامس میکالے 1800ء میں پیدا ہوا اور 1859ء میں انتقال کر گیا۔ اسے ہندوستان میں مغربی تعلیم کا بانی اور معمار سمجھا جاتا ہے۔ وہ بیک وقت ایک مورخ، شاعر، سیاستدان، وکیل، فلاسفر اور کالم نگار تھا۔ اس کی کتاب ”دی ہسٹری آف انگلینڈ“آج بھی اپنی طرز کی ایک جداگانہ اور ادیبانہ تاریخ تصور کی جاتی ہے۔ ہر معروف شخصیت کے مخالفین بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ میکالے کے مخالفین بھی تھے۔ لیکن اس کا سب سے بڑا کارنامہ وہی ہے جس کا ذکر علامہ اقبال نے درجِ بالا اشعار میں کیا ہے…… اس نے ہندوستان میں تعلیمی نظام کی تبدیلیوں میں ایک کلیدی رول ادا کیا اور 1835ء میں ایک مقالہ شائع کیا جس میں سفارش کی کہ:

1۔ ہندوستان کے تمام تعلیمی اداروں میں فارسی کی جگہ انگریزی کو سرکاری زبان کے طورپر نافذ کیا جائے۔

2۔ہندوستان میں انگریزی بولنے والے ہندوستانیوں کی پیٹھ تھپکی جائے اور ان کو سکولوں میں خطیر مشاہرہ دے کر بطور استاد بھرتی کیا جائے۔

3۔ انڈیا کے روائتی نظامِ تعلیم کو یکسر تبدیل کرکے اس کی جگہ انگلش کو ذریعہء تعلیم و تدریس بنایا جائے۔

وہ کئی برس تک انڈیا میں رہا اور یہاں کی تہذیب، ثقافت، زبان اور نظامِ تعلیم کا از بس مطالعہ کیا۔یہ عجیب بات ہے کہ اس کی قوم نے اپنے اس سپوت کی بات مانی اور انڈیا کا نظامِ تعلیم تبدیل کر دیا۔ دوسری طرف ہم پاکستانی تھے کہ خدا نے ہمیں 1947ء میں انگریزوں سے آزادی عطا کی لیکن ہم نے انگریزی سے عہدِ غلامی نبھایا اور آج تک نبھا رہے ہیں۔

ہمارے شاعرِ مشرق بھی بیک وقت ایک سیاستدان، شاعر، وکیل، فلاسفر اور مورخ تھے لیکن ہم نے ان کی اس ”زندہ تمنا“ کی کوئی پروا نہ کی جو ان کے لبوں پر سوار رہتی تھی۔ اس دعا کا ایک شعر یہ بھی ہے:

احساس عنایت کر آثارِ مصیبت کا

امروز کی شورش میں، اندیشہء فردا دے

اقبال کا جو قطعہ میں نے کالم کے شروع میں درج کیا ہے اس میں تعلیم کے تیزاب کا ذکر تھا۔ یہ تیزاب اتنا کارگر ہوتا ہے کہ سونے کے ہمالے کو مٹی کا اک ڈھیر بنا دیتا ہے۔ کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ جب انگریز نے ہندوستان کے تعلیمی اور تدریسی اداروں میں فارسی کی جگہ انگریزی رائج کر دی تو صرف 90برسوں میں (1857ء تا 1947ء) انڈیا کا سونے کا ہمالہ، مٹی کا اک ڈھیر بن گیا! ہمیں چاہیے تھا کہ آزادی حاصل کرنے کے بعد اس مٹی کے ڈھیر کو پھر سے سونے کا ہمالہ بناتے یعنی انگریزی کی جگہ فارسی (یا اردو) رائج کر دیتے۔ لیکن ہم نے انگلش کا دفاع کئے رکھا (اور آج تک کر رہے ہیں)۔ عمران خان نے اگر یکساں نظامِ تعلیم میں اردو کو انگریزی پر فوقیت دی ہے (تبدیل نہیں کیا) تو ہم طرح طرح کی تاویلات سے انگلش میڈیم نظامِ تعلیم کے قصیدے پڑھ رہے ہیں …… کبھی سرسید احمد خاں کا نام لیتے ہیں، کبھی اقبال کی ’انگریزی دانی‘کا حوالہ دیتے ہیں اور کبھی بانیء پاکستان حضرت قائداعظم کو کوٹ کرکے انگلش زبان کے حق میں رطب اللسان ہو جاتے ہیں!……

ہمیں شرم آنی چاہیے!

ان تینوں معمارانِ قوم نے قوم کی تقدیر انگریزی زبان کا سہارا لے کر تبدیل نہیں کی بلکہ یہ تبدیلی عوام کی طرف سے آئی جو انگریزی سے بیشتر نابلد تھے یا کم آگاہ تھے!…… اس موضوع پر بہت کچھ لکھ سکتا ہوں۔ لیکن اتناکہوں گا کہ اگر اقبال نے تعلیم کے تیزاب کی بنیادی وجہ بیان کر دی ہے تو اس کے بعد اورکیا باقی رہ جاتا ہے؟…… انگریزی کو بطور ثانوی زبان ضرور سیکھنا چاہیے (بلکہ آج تو انگریزی کی جگہ چینی سیکھنے کی ضرورت ہے) لیکن اردو کو تمام پاکستان میں اولین زبان کے طور پر اپنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

یکساں نظامِ تعلیم سے پوری قوم مستفید ہو گی۔کوئی طبقہء امراء یا گروہِ غرباء نہیں ہوگا۔ اسی نظام سے قوم کے زعما نکلیں گے اور عوام کی نمائندگی کریں گے۔ ان کے لئے انگریزی زبان کی تحصیل شرط نہیں لیکن یہ تسلیم کرنے میں بھی کوئی ہرج نہیں کہ ہم نے گزشتہ پون صدی میں اردو زبان کو آگے کی طرف لے جانے کی بجائے پیچھے کی طرف گامزن کرنے میں سارا زور صرف کر دیا ہے۔ نئے مضامین اور نئے موضوعات نئی لسانی اصطلاحات کا تقاضا کرتے ہیں۔ ریاضی، الجبراء، جیومیٹری،سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، عسکریات، معدنیات، تعمیرات، فلکیات اور ماورائے فلکیات کے موضوع پر اردو زبان نے گویا چپ سادھ رکھی ہے۔ ہم میں بعض حضرات حیدرآباد دکن کی ٹیکنیکل اردو لغات اور اس کے نفاذ کا حوالہ دیتے نہیں تھکتے لیکن یہ نہیں جانتے کہ حیدرآباد دکن کی ریاست سے آج تک کوئی ایسا نابغہء روزگار نہیں اٹھ سکا جس نے بین الاقوامی سطح پر کوئی کارنامہ انجام دیا ہو…… اگر ایسا کوئی ہے تو سامنے لایئے!

اس کی جگہ انگریزی ذریعہء تعلیم نے سرسید، اقبال، لیاقت علی خان، قائداعظم اور ان کے علاوہ ایسے درجنوں لوگ پیداکئے جنہوں نے تحریکِ پاکستان کے لئے انقلابی خدمات انجام دیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ان لوگوں نے صرف انگریزی زبان سے فیض پایا…… نہیں، ایسا نہیں تھا…… انگریزی ان لوگوں کے لئے ذریعہ ء تحصیلِ معلومات اور وسیلہ ء جمع آوریء فنونِ نو بنی رہی۔ آج بھی قانون، فوج اور بین الاقوامی تجارت کے لئے ہمیں انگریزی زبان کی ضرورت ہے۔ انگریزی ثانوی زبان کے طور پر بھی سیکھی جا سکتی ہے (اور ضرور سیکھی جانی چاہیے) لیکن ابتدائی تعلیم کی سیڑھی چھت پر پہنچنے کے لئے ضروری ہے اور یہ سیڑھی اپنے ہاں اگائے گئے بانسوں اور کیل کانٹے سے بنائی گئی ہو۔  اور بنانے والے نیویارک اور لندن سے نہ آئیں بلکہ پاکستان کے کولہو، دھابیجی، پتوکی، تڑاڑ کھل، مالاکنڈ اور دروش سے آنے چاہئیں …… میرے نزدیک یہ مرحلہ صرف اور صرف ملک میں یکساں نظامِ تعلیم کے نفاذ سے طے کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -