آئی جی پولیس ان ایکشن

آئی جی پولیس ان ایکشن
آئی جی پولیس ان ایکشن

  

پنجاب پولیس نے خواتین کے ساتھ تشدد،ناروا سلوک اور زبردستی بد اخلاقی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے صوبہ بھر میں ”اینٹی ویمن ہراسمنٹ اینڈ وائیلنس سیلز“قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ احسن اقدام ہے یاد رہے پنجاب پولیس نے یہ اقدام گریٹر اقبال پارک میں 14اگست کے روز ٹک ٹاکر خاتون کے ساتھ چھیڑ خانی اور ایک حوا کی بیٹی کی عزت عزت تار تار کرنے اور اس کی ویڈیو وائرل ہونے اور وزیر اعظم پاکستان کے نوٹس میں آنے اور ان کی جانب سے کارروائی کرنے کا حکم صادر ہونے پر یہ فیصلہ کیا ہے،اس کیس کی پاداش میں کئی اہم،سینئر اور اچھی شہرت کے حامل افسران کو بھی عہدوں سے ہاتھ دھونا پڑا،پنجاب پولیس نے ایک عرصہ سے دھکے کھانے والی خاتون کو بھی اسی روز انصاف فراہم کردیا تھا جس روز وزیر اعظم سے اس خاتون کی آن لائن گفتگو ہوئی کہ ایک پولیس آفیسر کے بھائی نے اس کے مکان پر قبضہ چھوڑنے کے باوجود توڑ پھوڑ کی مد میں آنے والی رقم اسے دینے سے انکار کردیا ہے،اگلے ہی روز لاہور پولیس نے اپنے زاتی فنڈ سے اسے اس کی منہ مانگی رقم دے کر رقم وصول کرنے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کرکے وزیر اعظم کے خواب کی تعبیر پوری کردی،اگر وزیر اعظم پاکستان نے صوبائی وزیر کے بھائی کا وزیر اعلی پنجاب کی موجودگی میں قتل کے واقعہ پر نوٹس لیتے اور کہا جاتا کہ ملک بھر میں اسلحہ رکھنے والے تمام افراد کے اسلحہ لائسنس کینسل کرکے اسلحہ واپس لے لیا جائے اور وقوعہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی کردی جائے تو جو بڑے آفیسرز گریٹر اقبال پارک واقعہ میں ہٹائے گئے ہیں یقیناً انھیں اسی روز ہٹا دیا جاتا،اور لوگوں سے اسلحہ واپس لینے کی مہم بھی اب تک عروج پر ہوتی اوراس مہم سے جرائم کی شرح میں بھی کمی کا امکان ہو تا،ماضی میں بھی جرائم کے خاتمے اور روک تھام کے لیے کئی فورسزز متعارف کروائی گئیں،،سی ٹی ڈی،پیروفورس،مجاہد فورس اور ڈولفن فورس کو میدان میں اتارا گیا جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے،پھر ان ملزمان کی گرفتاری کے لیے سیف سٹی کا منصوبہ تشکیل دے کر اربوں روپے کے قیمتی کیمرے شہر میں نصب کیے گئے ہیں ان میں سے اب آدھے سے زیادہ خراب ہو گئے ہیں،جرائم کی شرح ہر سال کم ہونے کی بجائے بڑھی ہے اور رکنے کانام نہیں لے رہی درحقیقت جرائم کی شرح کو کنٹرول کرنے کے لیے تھانوں کا جو وجود عمل میں لایا گیا ہے اس کی جانب کبھی کسی پالیسی میکر نے توجہ نہیں دی شہر کے کسی بھی تھانے کی حدود میں کوئی ایک بڑا واقعہ یا سانحہ پیش آجائے تو اس واقعہ پر نفری پہنچنے پرتھانے میں ہو کا عالم ہوتا ہے، امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے تھانے کی نفری کافی نہیں تصور کی جاتی مزید تھانوں سے بھی نفری کو بھی وہاں پہنچنے کا حکم جاری کیا جاتا ہے،یہ ہماری فطرت میں شامل ہے کہ شہر میں جب بھی کوئی سانحہ پیش آجائے تو اس کو مدنظر رکھ کر وقتی منصوبہ بندی کی جاتی ہے،ادارے کے استحکام کے لیے مستقل بنیادوں پر کبھی بھی کسی نے سوچا نہیں،آئی جی پولیس انعام غنی کے ان منصوبوں اور حکمت عملی کی کو ہم سراہتے ضرور ہیں کہ وہ نیک دل اور محنتی آفیسر ہونے کے ساتھ عوام کو ریلیف دینے کی پالیسی پر گامزن ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ آئے روز کسی نہ کسی واقعہ کے پیش نظر پولیس کا مورال اچانک بوسیدہ عمارت کی طرح جو زمین بوس ہو جاتا ہے اسے”مستحکم“ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ گریٹر اقبال پارک پہلا واقعہ نہیں، جس سے پولیس کا مورال ڈاو ¿ن ہوا، اب تک بے شمار ایسے واقعات پیش آئے ہیں جس سے ادارے کا ستیا ناس ہوا ہے،یہ ادارہ اس وقت تک کبھی بھی مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک پولیس افسران کو پولیس آرڈر 2002کے تحت 3 سالہ مدت ملازمت پوری کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا موجودہ حکومت میں کوئی سنگل”ادارہ“ ایسا نہیں ہے جس کے آفیسرنے 3سالہ مدت ملازمت پوری کی ہو،آئے روز آئی جی پولیس، اضلاع کے افسران اور سیکرٹریوں کے تبادلوں سے گڈ گورننس بہتر نہیں تباہ ہوئی ہیں۔ملک بھر بالخصوص پنجاب میں آفیسرز اداروں کی بہتری کے لیے نہیں اپنی ملازمت کو برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ آج ہمارے اداروں میں کرپشن نے جنم لیا ہے اورامن کی ضامن فورس نے بھی سیاسی لبادہ اوڑھ لیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -