کپلا کی جانبسے جہانزیب کالج سوات کی نجکاری اور ہائیر ایجوکیشن کی مداخلت مسترد، بائیکاٹ کا اعلان 

  کپلا کی جانبسے جہانزیب کالج سوات کی نجکاری اور ہائیر ایجوکیشن کی مداخلت ...

  

 پشاور(سٹی رپورٹر)خیبر پختونخواہ پروفیسر لیکچرارز ایسوسیشن وکامرس کالجز(کپلا)  کے عہدیداران نے جہانزیب کالج سوات کی نجکاری  اور  ہائیر ایجوکیشن کی کالجز میں بے جا مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے صوبہ بھر میں غیر معینہ مدت کیلئے کلاسز سے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے پشاور پریس کلب میں کپلا کے صدر پروفیسر جمشید خان  اور کامرس کالجز ایسوسی ایشن کے صدر  سید امتیاز علی نے دیگر پروفیسرز  اور عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جہانزیب کالج سوات کو پرائیویٹائز کرنے کی کوشش کی جارہے  جو کسی صورت قبول نہیں جہانزیب کالج سب سے پرانا کالج ہے حکومت اس پر پیسے لگانے کے بجائے پرائیوٹائز کررہے ہے، اس وقت ہمارے صوبے کے 35 اضلاع کے اندر 310 کالجز قائم ہیں۔ ان کالجز میں 150 میں 2010 کے بعد ایک بہترین چار سالا BS پروگرام جاری ہے جو کہ اللہ کے فضل و کرم سے مُلک کے تمام صوبوں میں پہلے نمبر پر ہے۔ بقیہ 160 کالجز میں FA اور FSc کیساتھ ساتھ دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری میں تعلیم دی جاتی ہے۔(BS کے تمام کالجز میں بھی FA اور FSc   موجود ہے) ان 150 کالجز میں کلُ 40 مُختلف مضامین کے800 ڈیپارٹمنس ہیں جن سے ایک لاکھ اور تیس ہزار طلبہ مُستفید ہورہے ہیں۔ان تمام کالجز کو بہترین انداز میں چلانے کیلئے پروفیسرز و لیکچرارز کی گریڈ 17, 18, 19, 20 اور 21 کی کُل تعداد 11599 پوسٹیں منظور شدہ ہیں لیکن بدقسمتی سے ان پوسٹوں پر صرف 7058 پروفیسرز و لیکچرارز کام کر رہے ہیں جبکہ بقیہ پوسٹیں 4541 خالی پڑی ہیں اس پر تعیناتی نہیں کی جا رہی جبکہ پروفیسرز اور لیکچرزز درجنوں دیگر مشکلات کا بھی شکار ہے  جس سے وہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہے  انہوں نے کہا کہ حکومت ایک عرصے سے ان کالجز میں نجی و نیم سرکاری اداروں کے طرز پر BOG کا نظام لانا چاہتی ہے تاکہ ان کالجز کو کمائی والے ادارے Earning Institutes بنایا جا سکے جبکہ بی۔ایس۔ الاونس، پرنسپل الاونس ہارڈ ایریا الاونس، M.phil اور Ph.D الاونس میں دوسرے صوبوں جتنا اضافہ اور Ph.D, M.Phil، MBA1.5 اور MS کرنے والے پروفیسرز و لیکچرارز کیلئے ''فیکلٹی ڈیولپمنٹ سپورٹ پروگرام'' FDSP کے نام سے دس کروڑ روپے سالانہ  گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی لیکن فائینانس ڈیپارٹمنٹ نے اس کو بھی ابھی تک روکا ہوا ہے اسکے علاوہ دوسو پینسٹھ 304 جنرل کالجز کے ''ڈائیریکٹر'' ہائیرایجوکیشن اور ''ڈائیریکٹر جنرل'' کامرس کالجز کے ڈائیریکٹر کی پوسٹیں ٹیکنیکل بنیادوں پر علٰی الترتیب جنرل کالجز اور کامرس کالجز کے پروفیسرز کیلئے مختص ہیں لیکن بیوروکریسی ان دونوں پوسٹوں پر PMS آفیسرز کی تعیناتی کے غیر منصفانہ فیصلے کیلئے کوششیں کر رہی ہے۔ جو کالجز کی ٹیچنگ فیکلٹی کیلئے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔عہدیداران نے کہا کہ ایم ایس۔ ایم۔فل اور ایل۔ایل۔ایم۔ MS, M.Phil, LLM, MBA1.5 چاروں ایک ہی قسم کی ڈگریاں ہیں اور HEC نے بھی انہیں برابر قرار دیا ہے لیکن ان کے درمیان ایک مصنوعی فرق کو روا رکھا گیا ہے اور MS اور LLM کے ڈگری ہولڈر پروفیسرز و لیکچرارز اس کے الاونس سے محروم ہیں۔ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا کوئی مُناسب نظام نہیں اور ذاتی تعلقات اور سیاسی اپروچ کی بُنیاد پر  معاملات چلائے جارہے ہیں۔: سابقہ FEF فرنٹئر ایجوکیشن فاونڈیشن کی ڈھائی خواتین اساتذ جنکی مُستقلی کا سپریم کورٹ نے آرڈر دیا ہے لیکن صوبائی حکومت اس حُکم کو عملی کرنے میں تاحال ناکام ہے۔  انہوں نے کہا کہ کالج کا ہر پروفیسر اور لیکچرار سیول سرونٹ ہے اور سیول سرونٹ ایکٹ کے تمام قوانین ان پر لاگو ہوتے ہیں۔ وہ ڈیپیوٹیشن کا حق بھی رکھتا ہے اور پورے صوبے میں کسی بھی کالج میں اس کی خدمات لی جا سکتی ہیں لیکن کئی دن پہلے حکومت کی طرف سے بقیہ تمام محکموں کو چھوڑ کر کالج ٹیچنگ فیکلٹی کے صرف 21 ارکان کی ڈیپیوٹیشن سے واپس آنے اور ہر پروفیسر اور لیکچرار کو صرف اپنے ضلعے میں کام کرنے کے بیان سے کالجز ٹیچنگ فیکلٹی کی سخت دل ازاری ہوئی انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کالجز کے پروفیسرز او ر لیکچرز کے مسائل حل  کیے جائے بصورت دیگر غیر معینہ مدت کیلئے کلاسز سے بائیکاٹ جاری رہے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -