اسمبلی حاضری میں جام کمال کا پہلا، مرادشاہ دوسرا، بزدار تیسرا، محمود خان کا چوتھا نمبر 

اسمبلی حاضری میں جام کمال کا پہلا، مرادشاہ دوسرا، بزدار تیسرا، محمود خان کا ...

  

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)پلڈاٹ نے تیسرے پارلیمانی سال میں صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی کے تقابلی جائزے کی رپورٹ جاری کردی ہے،رپورٹ میں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے تین پارلیمانی سالوں کی کارکردگی کے مختلف اعشاریوں کی روشنی میں تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ صوبائی اسمبلیوں نے تیسرا پارلیمانی سال مکمل کر لیا ہے، پاکستان کی 4 صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی کا ایک تقابلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کارکردگی کے کچھ اعشاریوں میں صوبائی اسمبلیوں نے ایک دوسرے سے پر سبقت لی ہے جبکہ صوبائی  اسمبلیوں کے دوسرے پارلیمانی سال کے مقابلے میں قانون سازی، کام کے اوقات اور وزرائے اعلیٰ کی حاضری میں کمی واقع ہوئی ہے۔چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں کا تقابل ظاہر کرتا ہے کہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے تیسرے پارلیمانی سال کے دوران سب سے زیادہ 61 اجلاس بلائے۔ سندھ اسمبلی کے تیسرے سال میں 57اجلاس ہوئے ہیں جو کہ دوسرے سال کی 68نشستوں کے مقابلے میں 16فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔  خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی تیسرے سال میں 55 اجلاس منعقد کرنے کے لحاظ سے صوبائی اسمبلیوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کی نشستوں میں دوسرے پارلیمانی سال سے تقریبا 6 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے تیسرے پارلیمانی سال میں کام کے دنوں کے اعتبار سے دیگر اسمبلیوں کے مقابلے میں سب سے آخر میں رہی۔ اسمبلی کا اجلاس 49 دن ہوا جو کہ دوسرے سال کے دوران منعقد ہونے والی 33 نشستوں کے مقابلے میں 48 فیصد اضافہ ہے۔ تین سالوں میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی 68 نشستوں پر اوسط نشستوں کا موازنہ پنجاب کی سابقہ صوبائی اسمبلی (2013-2018) کے تین سالوں میں ہونے والی اوسط نشستوں کے ساتھ 69  اجلاس ہوئے جو کہ مجموعی طور پر 1.45 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ سندھ اسمبلی کی موجودہ 2018-2023 کی مدت کے دوران پہلے تین سالوں میں ہونے والی اوسط 72 نشستوں کے مقابلے میں، سندھ کی سابقہ صوبائی اسمبلی کے تین سالوں میں ہونے والی اوسط نشستوں کے ساتھ، سندھ اسمبلی نے20 فیصد مزید اجلاس منعقد کیے ہیں۔خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے پہلے تین سالوں میں اوسط سے کم، 56 یا موجودہ مدت کے دوران 7 فیصد کم نشستوں کے لیے اجلاسوں کا انعقاد کیا ہے جب کہ خیبرپختونخوااسمبلی کی صوبائی اسمبلی کے پہلے تین سالوں میں 60 کی اوسط نشستیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے پہلے تین سالوں میں اوسطا  44  اجلاس منعقد ہوئے جو گذشتہ اسمبلی کے  اجلاسوں کے مقابلے میں  10 فیصد کم اجلاسوں کی نشادندہی کرتی ہے۔ تیسرے سال کے دوران 147.02 گھنٹوں کے ساتھ اوقات کار کے لحاظ سے دیگر صوبائی اسمبلیوں کے مقابلے میں خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی سرفہرست رہی۔  کام کے اوقات میں اسمبلی کے دوسرے سال کے دوران 113.32 گھنٹے کام کے اوقات کے مقابلے میں تقریبا  30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سندھ کی صوبائی اسمبلی کا اجلاس دوسرے سال کے دوران 168.15 گھنٹے جاری رہا جبکہ تیسرے پارلیمانی سال کے دوران  126.14 گھٹنے اجلاس چلا،جوتقریبا 25 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں تیسرے پارلیمانی سال کے دوران 124  گھنٹے اجلاس جاری رہا جو کہ سرے پارلیمانی سال کے مقابلے میں تقریبا  11 فیصد  اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔پنجاب اسمبلی دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 140.32 گھنٹوں کے مقابلے اپنے تیسرے پارلیمانی سال میں 102.44 گھنٹے کے لیے بلایا گیا ہے، جس میں دو سالوں کے درمیان کام کے اوقات میں 27 فیصد کمی وقائع ہو ئی ہے۔  تیسرے سال کے دوران، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان  بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی اجلاسوں میں سب سے زیادہ فیصد (29 فیصد) شریک ہوئے، دوسرے نمبر پر سید مراد علی شاہ  وزیراعلیٰ سندھ جنہوں نے 21 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔ تیسرے نمبر پر سردار عثمان احمد خان بزدار  وزیراعلیٰ پنجاب ہیں جو صرف پنجاب اسمبلی کی 8 فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ چوتھے اور آخری پوزیشن محمود خان  وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی صرف 5 فیصد  نشستوں میں شرکت کی۔عام طور پر، ہر گزرتے پارلیمانی سال کے ساتھ، ہرصوبائی اسمبلی نے اسمبلی کے اجلاسوں میں وزرائے اعلیٰ کی حاضری میں کمی دیکھی گئی ہے، صرف وزیراعلیٰ پنجاب کو چھوڑ کر جن کی تیسرے سال کے دوران حاضری دوسرے سال کے مقابلے میں ایک فیصد  اضافہ ہوا ہے۔تیسرے سال کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان کی 29 فیصد حاضری میں دوسرے سال کے دوران 33 فیصد حاضری کے مقابلے میں 4 فیصد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔ سید مراد علی شاہ  وزیراعلیٰ سندھ کی دوسرے سال کے مقابلے میں 10 فیصد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے دوسرے کے مطابلے میں 31 فیصد اجلاسوں میں شرکت  کے مقابلے میں  تیسرے سال  میں جب وہ صرف 21 فیصد اجلاسوں  میں شرکت کر سکے۔ سردار عثمان احمد خان بزدار،وزیراعلیٰ پنجاب کی 8 فیصد حاضری تیسرے سال میں ایک فیصد بڑھ گئی جبکہ دوسرے سال7 فیصد تھی۔ اسمبلیوں میں شرکت کیلئے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، ملک سکندر خان تقابلی تجزیے میں سرفہرست رہے کیونکہ انہوں نے تیسرے پارلیمانی سال کے دوران بلوچستان اسمبلی کے 73 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حاضری 63 فیصد رہی۔(تاہم یہ واضح رہے کہ سید فردوس شمیم نقوی نے 08 جنوری 2021 کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور 26 جنوری 2021 کو حلیم عادل شیخ نے ان کی جگہ لی، یہ دونوں کی مشترکہ حاضری ہے۔)  خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اکرم خان درانی نے اسمبلی کے 31 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔ پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف محمد حمزہ شہباز شریف نے تیسرے پارلیمانی سال میں اسمبلی کے صرف 5 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔

پلڈاٹ

مزید :

صفحہ آخر -