اناڑی حکمرانوں کی ترجیح گڈگورننس کے بجائے سیاسی انتقام ہے: حمزہ شہباز 

اناڑی حکمرانوں کی ترجیح گڈگورننس کے بجائے سیاسی انتقام ہے: حمزہ شہباز 

  

لاہور(این این آئی) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ اناڑی حکمرانوں نے ایک مرتبہ پھر پنجاب کی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر کے اپنی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے،پنجاب حکومت نے بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے ہیں۔،وفاق سے بیٹھ کر پنجاب میں کٹھ پتلی حکومت چلانے کا تجربہ بری طرح سے ناکام ہو چکا ہے،پنجاب اور وفاق کے سلیکٹڈ حکمرا ن پنجاب کے عوام کے مجرم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک مرتبہ پھر ڈپٹی کمشنر لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ، سیکرٹری بہبود آبادی، لیبر سیکرٹری اور سیکرٹری پرائمری ہیلتھ سمیت متعدد تبدیلیاں کی گئیں،گزشتہ تین برسوں میں پنجاب میں چار سیکرٹریزداخلہ، چھ آئی جیزپولیس، پانچ پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم تبدیل کئے جا چکے ہیں۔اسی عرصے میں آٹھ سیکرٹریزآبپاشی، تین انفارمیشن سیکرٹریز، گیارہ سیکرٹریز ہائر ایجوکیشن،چھ سیکرٹریزسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر تبدیل کر کے ترقی کرتے پنجاب کو ریورس گیئر لگایا گیا۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی صوبے کی بیوروکریسی کے اہم ترین عہدیدار چیف سیکرٹری کو پنجاب میں چار مرتبہ تبدیل کیا گیا، صوبے میں بدانتظامی کا طوفان برپا ہے،اناڑی حکمرانوں کی ترجیح گڈ گورننس کے بجائے سیاسی انتقام ہے،کیا ان تبدیلیوں سے تین برسوں میں گورننس کے بحران پر قابو پا لیا گیا؟۔ حمزہ شہباز نے کہاکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے انتظامی معاملات سے تاریخی کھلواڑ کیا جا رہا ہے،انہیں گورننس کی الف ب کا نہیں پتا،سڑکوں پر تاجر،ڈاکٹرز اور میٹرو بس سروس کے ڈرائیورز سراپا احتجاج ہیں لیکن حکومتی ایوانوں میں کسی کے کان پرجوں نہیں رینگی،بدانتظام اور نا اہل حکومت نے الٹا ڈاکٹرز پر بہیمانہ تشدد کیا اور احتجاج کا جائز حق استعمال کرنیوالوں پر کیمیکل سپرے کیا گیا۔

 حمزہ شہباز

مزید :

صفحہ آخر -