طالبان سے پہلے جب افغانستان میں بادشاہت تھی تو بادشاہ نے کیسے قوانین لاگو کر رکھے تھے؟

طالبان سے پہلے جب افغانستان میں بادشاہت تھی تو بادشاہ نے کیسے قوانین لاگو کر ...
طالبان سے پہلے جب افغانستان میں بادشاہت تھی تو بادشاہ نے کیسے قوانین لاگو کر رکھے تھے؟

  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان دہائیوں سے عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہے اور حالیہ ہفتوں میں طالبان کے ایک بار پھر قبضے کے ہنگام عالمی سطح پر اس ملک کا چرچا ہے، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ طالبان کے ظہور سے کچھ پہلے جب افغانستان میں بادشاہت ہوا کرتی تھی تو وہاں کے کیا حالات تھے اور بادشاہ نے کیسے قوانین لاگو کر رکھے تھے؟ ان سوالات کے جواب جان کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے تھے۔

 میل آن لائن کے مطابق افغانستان کے آخری بادشاہ کا نام ظاہر شاہ تھا جس کی بادشاہت کا خاتمہ 1973ءمیں کیا گیا اور اس بیٹا احمد شاہ آج بھی جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے۔ 1973ءمیں شہزادہ احمد شاہ کی عمر 39سال تھی جب اس کے باپ کی بادشاہت کا خاتمہ کیا گیا۔

ظاہر شاہ سے قبل شاہ امان اللہ نے افغانستان کو جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کئی طرح کی روایتی بندشیں اٹھانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ شاہ امان اللہ نے خواتین کے لیے لاگو سخت ڈریس کوڈ کا خاتمہ کر دیا تھا اور انہیں ان کی مرضی کا لباس پہننے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ ظاہر شاہ نے امان اللہ کی ان پالیسیوں کو جاری رکھا اور لڑکیوں کے لیے سکول تعمیر کرائے۔ انہوں نے پارلیمنٹ قائم کی، شفاف انتخابات کا انعقاد شروع کیا اور خواتین کو ووٹ کا حق بھی دیا۔ افغانستان کے اس آخری بادشاہ نے خواتین کے حقوق کے لیے کئی تاریخی اقدامات اٹھائے۔

ظاہر شاہ کی اہلیہ ملکہ ثریا بھی خواتین کے حقوق کی کارکن تھیں۔ انہوں نے نقاب کے خلاف ایک مہم چلائی تھی اور ایک مجمعے میں اپنا عبائیہ تار تار کر ڈالا تھا۔ ملکہ ثریا نے اپنا ایک میگزین بھی جاری کیا تھا۔ احمد شاہ کی عمر اس وقت 86سال ہے اور وہ ورجینیا میں رہائش پذیر ہے۔ احمد شاہ ایک شاعربھی ہے۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد 2002ءمیں ظاہر شاہ افغانستان واپس چلا آیا تھااور ایک امکان پیدا ہو گیا تھا کہ افغانستان کے شاہی خاندان کی ایک بار پھر اپنے ملک پر حکومت قائم ہو جائے گی۔ تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ 

ظاہر شاہ کی کابل میں 2007ءمیں موت واقع ہو گئی۔ ظاہر شاہ کی حکومت میں افغانستان لیگ آف نیشنز کا رکن بھی بنا تھا جو بعد ازاں اقوام متحدہ کے قالب میں ڈھل گئی۔ اس وقت امریکہ نے افغانستان کو تسلیم بھی کر رکھا تھا۔افغانستان کے جرمنی، اٹلی، جاپان اور دیگر ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، اس کے باوجود افغانستان ان چند ممالک میں سے ایک تھا جو دوسرے جنگ عظیم میں غیرجانبدار رہے تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -