اظہار رائے کی آزادی

 اظہار رائے کی آزادی
 اظہار رائے کی آزادی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 وقت آگیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کی ازسر نو تعریف کی جائے کیونکہ اس آئینی حق نے ریاستوں کے لئے نئی طرح کے چیلنجوں کو جنم دیا ہے۔ یہ وہ زمانہ نہیں ہے کہ جب ایوان صدر کی باہری دیوار پر لکھا گیا تھا کہ صدر فضل الٰہی کو رہا کرو اور لوگوں نے ہنس کر معاملہ ٹال دیا تھا۔ اسی طرح پہلے لوگ مخالفین کو دل میں گالیاں دیتے تھے، اب سوشل میڈیا پر لکھ دیتے ہیں، فیس بک کی وال بھی ایسے ہی کاموں کے لئے استعمال ہوتی ہے، یہی کچھ ٹوئٹر پر دیکھاجاتا ہے۔ جب اظہار رائے کی آزادی کو آئین میں شامل کیا گیا تھا تب سوشل میڈیا کا طوفان بدتمیزی برپا نہیں ہوا تھا، اس لئے ضروری ہے کہ اس معاملے پر ازسرنو غور کیا جائے اور پیمرا آرڈیننس میں ترمیم کے بعد اب اظہار رائے کی آزادی کے ضمن میں بھی ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کی تفریق سے اظہار رائے کی آزادی کو  مزین کیا جائے۔ 
اس کی ضرورت اس لئے بھی ہے کہ آج لوگوں کا اطمینان اور سکون چھن گیا ہے اور ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ معاشرہ بند گلی میں پھنس چکا ہے اور اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ حالانکہ ایسی صورت حال صرف اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے انفارمیشن کے بہاؤ میں غیر معمولی تیزی آگئی ہے اور لوگوں کے پاس لمحہ بہ لمحہ دستیاب معلومات کو کاؤنٹر چیک کرنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ جتنی دیر میں وہ دستیاب معلومات کی صحت کو جانچنے کی کوشش کرتا ہے اتنے میں اس قدر معلومات اکٹھی ہو جاتی ہیں کہ اس کے لئے سچ جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ 
مثال کے طور پر پاکستان میں عام انتخابات ہونے میں ابھی کم از کم چھ ماہ کا عرصہ ہے لیکن معروف صحافی نصرت جاوید نے حال ہی میں ایک کالم لکھا جس میں انکشاف کیاکہ یورپی یونین نے صحافیوں کے ایک وفد کو یورپ کے دورے پر بلایا اور وہاں انہیں یہ ٹاسک ملا کہ آئندہ عام انتخابات کو متنازع بنانا ہے۔ یعنی ابھی گاؤں بسا نہیں ہے اور اچکوں نے تیاری پہلے سے شروع کردی ہے۔ سوشل میڈیا بھی کچھ ایسا ہی کرتا ہے کہ ہر بات کے لئے لوگوں کو ذہنی طور پر پہلے سے تیار کرنا شروع کردیتا ہے اور جب وہ واقعہ ہوتا ہے تو لوگوں کے پاس حیران ہونے کے لئے کچھ نہیں ہوتا۔ 
پی ٹی آئی کے پیچھے کارفرما قوتوں نے اس کلیے کو خوب استعمال کیا اور عمران خان کو ایک عام انسان سے اٹھا کر پیغمبرانہ مقام پر پہنچادیا۔ سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ کی ایسی خطرناک مہم چلائی گئی کہ دس دس بارہ بارہ سال کے بچے بچیاں عمران خان کے علاوہ ہر سیاستدان سے نفرت کرنے لگے اور یوں معاشرے میں تفریق کا ایک ایسا آہنی پردہ گرادیا گیا ہے کہ ادھر کے لوگوں کو ادھر کی اور ادھر کے لوگوں کو ادھر کی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی حلقے عمران خان کے علاوہ ہر ایک سے نالاں ہوچکے ہیں اور ستم یہ ہے کہ انہوں نے فوجی تنصیبات اور جگہوں کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ایسا عمل کرنے کے باوجود ان حلقوں میں ندامت نام کو نہیں ہے اور اس کے برعکس وہ کھلے عام نہ صرف فوج کو اپنے پراپیگنڈہ مہم کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں بلکہ یہاں تک کہا گیا کہ لوگ 14اگست کی پریڈ دیکھنے کے لئے واہگہ بارڈر پر بھی نہیں جا رہے ہیں۔ یہ صورت حال خطرناک ہے کیونکہ کوئی بھی دشمن اس کا آسانی سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اور سوشل میڈیا پرجھوٹ موٹ کی آئی ڈی بنا کر عوام کو فوج کے خلاف اکسا سکتا ہے کیونکہ جس فوج کو وہ میدان جنگ میں شکست نہیں دے سکا اسے اذہان کی جنگ میں معزول کردینا چاہتا ہے۔ 
اس لئے ضروری ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کو ازسر نو تعریف کیا جائے اور ملک دشمن عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع نہ دیا جائے۔ 
اسلم لودھی، عہد ساز شخصیت
اسلم لودھی کہنہ مشق لکھاری ہیں۔ ان کی سوانح عمری ”نوید سحر“  کی آمد آمد ہے۔ وہ خوف خدا، حب رسول اور دوست داری کے قائل ہیں۔ بطور لکھاری ان کی شخصیت کی کئی جہتیں ہیں اور وہ ہر جہت میں نادرونایاب ہیں۔ انہوں نے ساری زندگی خلق خدا سے تعلق کو مقدم رکھا اور پھر خدا سے تعلق کا ہنر پا گئے۔ نت نئے اور اچھوتے موضوعات پر لکھنا کوئی ان سے سیکھے اور ان موضوعات کو نبھانا کوئی ان سے جانے!
وہ ایک جماندرو لکھاری اور دانشور ہیں۔ پاکستان کی سیاسی، صحافتی اور معاشرتی زندگی پر ان کا قلم یوں چلتا ہے جیسے کسی جھیل کی ہموار سطح پر پیٹر انجن والی کشتی دوڑتی ہو۔وہ لکھت کاری کی دنیا کے جاوید میانداد ہیں جن کی ”ٹک ٹک“ بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے جتنا شارجہ میں لگایا جانے والا چھکا!
وہ بینک آف پنجاب میں تھے تو ان سے تعارف ہوا، آج اس بات کو بیس برس کا عرصہ لد گیا مگر آج بھی یہ بات کل کی بات لگتی ہے کہ شملہ پہاڑی کی بغل میں واقع بینک آف پنجاب کی عمارت میں خوش لباس و خوش گفتار اسلم لودھی صاحب سے ملاقات ہوتی تو وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے، خلوص کی چاشنی سے بھرے لہجے سے کچھ یوں مخاطب ہوتے کہ اجنبیت کا سارا بوجھ سر سے جاتا رہتا۔
اسلم لودھی صاحب نے تواتر کے ساتھ لکھا ہے اور تسلسل کے ساتھ لکھتے جا رہے ہیں۔ کتابیں ان کا تعارف نہیں بلکہ اب وہ خود کتابوں کا تعارف سمجھے جاتے ہیں۔ ان پر بہت کچھ لکھنے کہ ضرورت ہے اور ان کی کتابوں کو یونیورسٹی کے طلباء کو پڑھایا جانا چاہیئے، ان کے سلیبس کا حصہ بنایا جانا چاہیئے، اور خود اسلم لودھی صاحب کی شخصیت اور کام پر پی ایچ ڈی ہونی چاہیئے۔ دیکھتے ہیں یہ بیڑہ کون اٹھاتا ہے!
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے

مزید :

رائے -کالم -