مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

  

ترکی کے مشہور سکالر استاد بدیع الزمان سعید نورسی ؒ کا کہنا ہے کہ اس وقت دُنیا کو عمومی اور مسلمانوں کو خصوصی طور پر تین بڑے مسائل کا سامنا ہے، جن میں جہالت، ناانصافی اور غربت شامل ہیں، خاص طور پر جہالت ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے ہمیں بہت سے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔ اس کا حل تعلیم اور صرف تعلیم ہے۔ دُنیا کا کوئی مذہب آپس میں نفرت، عداوت، دشمنی، کینہ، حسد اور بیر رکھنا نہیں سکھاتا، بلکہ مذہب آپس میں محبت ، پیار، امن و آشتی، بھائی چارہ، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس دیتا ہے، جہاں تک دین ِ اسلام کا تعلق ہے ، تو اسلام تو نکلا ہی ”سَلم“ سے ہے، جس کے مطلب و معنی امن و سلامتی کے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق وہ پکا مسلمان ہی نہیں ہو سکتا، جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ نہ ہوں۔

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان معاشرہ ہمیشہ پُرامن، مساوات، رواداری، اخوت، بھائی چارے، عدل و انصاف ہم آہنگی، پیار و محبت کا مرکز و محور رہا ہے۔ اسلام میں غیر مسلموں اور اقلیتوں کے حقوق پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ ان کی جان و مال، عزت و آبرو اور عبادت خانوں کی حفاظت سے حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ مسلم معاشرے میں غیر مسلم اقلیتیں محفوظ رہی ہیں اور اُن کے حقوق کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا اور انہیں بلاوجہ تنگ کرنا اسلام کی روح کے منافی ہے اور سچے مومن کو یہ قطعاً زیب نہیں دیتا کہ وہ غیر مسلموں کو دُکھ دے۔ تکلیف پہنچائے یا اُن کے جان و مال، عزت و آبرو اور عبادت خانوں کو نقصان پہنچائے۔ ایسا کرنے والے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسلام ایسے شخص یا گروہ کو مسلمان کہلوانے کا قطعاً حق نہیں دیتا۔

بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام یکساں قومی سوچ والے شہری پیدا نہیں کر رہا ۔ گورنمنٹ سکولوں، مدرسوں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کو نہ تو ایک جیسا سلیبس پڑھایا جاتا ہے نہ ہی یکساں سہولتیں میسر ہیں، نہ ہی ایک جیسی سوچ اور انداز فکر دیا جا رہا ہے، بلکہ ایک دوسرے سے مختلف انداز فکر کی ترویج کی جا رہی ہے۔ ہم ان اداروں میں ایسے پاکستانی پیدا کر رہے ہیں جو آپس میں نہ ملتے ہیں، نہ اکٹھا کھانا کھاتے ہیں اور نہ ہی ایک جیسا لباس پہنتے ہیں۔ آپ ذرا ان تین قسم کے تعلیمی اداروں میں جائیں، سلیبس، نظام تعلیم، اساتذہ اور سہولتوں کا جائزہ لیں۔ آپ پر واضح ہو جائے گا کہ ہمارے ملک میں مستقبل کے لئے کس طرح کے شہری پیدا کئے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے مواقع کا جائزہ لیں۔ ان اداروں سے پڑھے ہوئے کتنے طلبہ و طالبات یونیورسٹی تک پہنچے ہیں۔ آپ کو اپنے ملک کی خرابی کے بنیادی مسائل کا اندازہ ہو جائے گا۔ اگر ہم ان مسائل کو حل نہیں کریں گے تو ہم مستقبل میں بھی ایسے ہی بے شمار مسائل کا سامنا کریں گے، جو ہماری اندرونی سلامتی، امن و امان، دہشت گردی، غربت، بدحالی، ناانصافی اور جہالت کا باعث بنتے رہیں گے۔

دوسری طرف بچوں کی ایک کثیر تعداد سکولوں کا رُخ ہی نہیں کرتی۔ ایسے اَن پڑھ نوجوانوں سے آپ کس طرح حب الوطنی، معزز شہری اور قومی ترقی میں مثبت کردار کی خواہش رکھ سکتے ہیں۔ اپنے شہریوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا حکومت کا اولین فرض ہے، لیکن اگر اس فرض سے حکومت غفلت برتے گی اور گھر اور خاندان کا سربراہ اس سے غفلت کرے گا، تو ہمیں اپنی گلیوں اور سڑکوں میں چور، ڈاکو، مظاہرین، قاتل، افیمی، نشئی اور امن و امان کو خراب کرنے والے لوگ ہی ملیں گے۔ میرے خیال میں ہمارے لئے سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو زیورِ تعلیم سے کما حقہ آراستہ نہیں کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں آئے روز مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہم آئے روز تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں۔ آپس میں فرقوں، گروہوں اور جماعتوں میں بٹتے جا رہے ہیں۔

ضرورت اِس بات کی ہے کہ معاشرے میں ہم آہنگی، روا داری، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ اس کے لئے تعلیمی اداروں، میڈیا اور سماجی و فلاحی تنظیموں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو آپس میں مکالمے اور امن کے لئے متحرک ہونا ہو گا۔ حکومت کو فرقہ بندی، گروہی فسادات اور تنازعات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کے لئے ضروری اقدامات کرنے ہوں گے اور سب سے بڑھ کر ہمیں اپنی نوجوان نسل کو مثبت اخلاقی و دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم پرمبنی یکساں نصاب کے تحت بھرپور تعلیمی مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔ ہمیں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنا ہو گی، ہمیں اپنے معاشرے کو پُرامن اور ہم آہنگ بنانے کے لئے انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ ہم ایک پُرامن اور خوشحال ملک کے شہری کہلواسکیں وگرنہ ہم آپس میں لڑتے رہیں گے۔ دشمن سازشیں کرتا رہے گا اور ہم کمزور سے کمزور تر ہوتے جائیں گے۔     ٭

مزید :

کالم -