علامہ احسان الٰہی ظہیر کی شہادت، جماعت کی حالت زار

علامہ احسان الٰہی ظہیر کی شہادت، جماعت کی حالت زار
علامہ احسان الٰہی ظہیر کی شہادت، جماعت کی حالت زار

  

جماعتوں کی لیڈ کرنے کا بہت لوگوں کو شوق ہوتا ہے، لیکن بعض شخصیات میں یہ صلاحیتیں قدرتی طور پر پائی جاتی ہیں۔ ان کا ہر انداز ایک نیا ولولہ پیدا کرتا ہے، انفرادی جہت کی طرف لے کر جاتا ہے، نئے جذبات پیدا کرتا ہے، منفرد افکار پیش کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنے مشن کو جانتے ہیں، اسے حاصل کرنے کی تڑپ بھی رکھتے ہیں، جدوجہد کے انداز کو بھی سمجھتے ہیں اور اجتماعی مقاصد کے حصول کے لئے قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ایسی شخصیات صدیوں میں بھی پیدا نہیں ہوتیں جو اپنی ذات میں انجمن ہوں۔ ایسی ہی شخصیات میں عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ہیں۔ اگرچہ انہیں ہم سے بچھڑے 26 سال گزر چکے ہیں، لیکن ان کے قافلے کے سپاہیوں، ان کے جوش و جذبے، خلوص و محبت، ملک و ملت سے محبت عالم اسلام کی سربلندی کے لئے کوششوں اور اسلام کی سربلندی کے لئے جدوجہد، غاصب حکمرانوں سے نجات اور یہود و ہنود سے بیزاری کی جدوجہد کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ آج بھی ان کے سائے تلے جب ان کی جدوجہد کا ذکر آتا ہے تو ایک نیا جوش و خروش، ولولہ، ہمت و جرا¿ت، بہادری اور حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے۔

علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نے زمانہ طالب علمی سے لے کر اپنی زندگی کے آخری سانس تک جس جرا¿ت و بہادری سے اسلام کی سربلندی کے لئے جدوجہد کی ہے، وہ انہی کا خاصہ تھا۔ کسی بھی بڑی سے بڑی طاقت نے ان کے راستے کو روکنے کی جرا¿ت نہیں کی، کیونکہ جس جہت میں وہ شخصیت چلتی، راستے خود بخود صاف ہو جاتے تھے، رکاوٹیں راستہ چھوڑ دیتی تھیں۔ ان کا خلوص ایسا تھا کہ جب وہ چلتے تو بڑی سے بڑی شخصیات دب جاتیں، جب اپنے ضمیر کی آواز بلند کرتے تو بڑی بڑی آوازیں مدہم ہی نہیں، بلکہ خاموش ہو جاتی تھیں۔ انہوں نے پاکستان میں توانائی کی ایک نئی لہر پیدا کر دی۔ آج کے نام نہاد لیڈر مفاد پرستی کی جدوجہد میں مصروف ہیں، لیکن علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے مشن میں کوئی ذاتی مفاد نہ تھا، اس لئے کوئی ان کے مشن میں رکاوٹ پیدا نہ کر سکا۔ حکمرانوں کی طرف سے ان کو بہت سے عہدوں کا لالچ دیا گیا، لیکن جو بھی چیز ان کے مشن میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتی، ان کی پُرخلوص ہمت سے اپنی موت آپ مرجاتی۔

علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نے اپنی ملت کو ایک پہچان دی۔ جب اہلحدیثوں کا نام لینے سے بھی لوگ ڈرتے تھے، ان کی مدبرانہ اور ولولہ انگیز قیادت نے اہل حدیثوں کو ایک نیا جذبہ دیا اور تمام باطل نظریات کو سر عام للکارا اور اسلامی افکار میں آمیزش کرنے والے تمام گروہوں کو مدلل انداز میں بے نقاب کیا۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی با صلاحیت اور پُر عزم شخصیت نے مسلک اہلحدیث کو حقیقی قیادت سے نوازا اور اسلاف کی صدیوں کی جدوجہد کو جلا بخشی۔ ایک نئی ہمت دی اور صدیوں میں ہونے والے کام کو مہینوں اور دنوں میں کرنے کا راستہ بنایا اور اس راستے پر چلنا شروع کر دیا۔ ہر طبقے کے اہل حدیثوں کو منظم کیا، خواہ ان کا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبے سے کیوں نہ ہو۔ جو لوگ اس قافلہ حریت سے دور بھاگتے تھے، قافلے میں شامل ہونے لگے اور نئی تحریک کا منظم طریقے سے پُرعزم انداز میں آغاز ہوا۔ عملی جدوجہد کا باضابطہ آغاز شہر لاہور کے وسط موچی دروازہ سے 18 اپریل 1986ءکو ہوا اور انہوں نے ملک کے طول و عرض کے طوفانی دورے کئے۔ اہل حدیث افراد کے علاوہ دیگر لوگ بھی اس قافلہ حریت میں شامل ہونے لگے۔ مذہبی حلقوں کے ساتھ سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ جب حکمرانوں کی سیاہ کاریاں اور نام نہاد مذہب کے ٹھیکیداروں کے اصل چہرے سامنے آنے شروع ہوئے تو ہر طرف مخالفت ہی مخالفت شروع ہوگئی۔

امام العصر علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کسی بھی مخالفت کو کوئی اہمیت دئیے بغیر اپنی جدوجہد کو تیز سے تیز کرتے رہے۔ ابھی اس جدوجہد کو چند سال گزرے تھے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا بم دھماکہ 23 مارچ 1987ءمیں مینار پاکستان کے سائے تلے کلمہءحق بلند کرنے اور حکمرانوں کی بے غیریتوں کو للکارنے والے علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید اور ان کے قریبی ساتھی علامہ حبیب الرحمن یزدانی ،نوجوان قائد محمد خان نجیب، عبدالخالق قدوسی اور دیگر ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 30 مارچ 1987ءمیں جب علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید اور ان کے قریبی ساتھیوں کی شہادت ہوئی تو مسلک اہلحدیث میں قیادت کا فقدان پیدا ہوا بعد میں، آنے والی قیادت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مرکزی جمعیت اہل حدیث کی جدوجہد ناکامیوں کی طرف بڑھنے لگی اور جماعت صدیوں پیچھے چلی گئی۔ کسی بھی فورم میں مسلک اہلحدیث کی آواز بلند کرنے والا کوئی نہ رہا۔ انفرادی طور پر بعض افراد مسلک کا کام کرنے کی کوشش کرتے رہے، مگر تحریک بالکل نظر نہیں آئی۔

 پچیس سال گزرنے کے بعد آج امام العصر علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے صاحبزادے علامہ پروفیسر ابتسام الٰہی ظہیر نے جمعیت اہلحدیث پاکستان کے پلیٹ فارم پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا ہے، جس سے مسلک اہلحدیث کے سپوتوں میں نئی جدوجہد پیدا ہوئی ہے اور امید کی کرن پیدا ہوئی ہے اور بہت سے نالاں کارکنان اس کی حمایت کر رہے ہیں، جس سے امید کی جاتی ہے کہ آنے والے وقت میں ان کی اس مثبت اور باہمت جدوجہد کو تقویت ملے گی اور قافلہ ظہیر شہید کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فکر ظہیر شہید ذاتی نہیں، بلکہ حقیقی اسلامی جدوجہد تھی، آج بھی ان کے مشن کو آگے بڑھایا جائے اور سلفی عقائد رکھنے والے تمام گروہوں کو یکجا کر کے نا صرف جماعت کو نئی ہمت ملے گی بلکہ نفاذ اسلام کی جدوجہد بھی تیز تر ہوگی۔       ٭

مزید :

کالم -