ورلڈ کپ فائنل ٹرافی نہ دینے کا دکھ ، آئی سی سی کے صدر مصطفٰی کمال عہدے سے مستعفٰی ہو گئے

ورلڈ کپ فائنل ٹرافی نہ دینے کا دکھ ، آئی سی سی کے صدر مصطفٰی کمال عہدے سے ...

 ڈھاکہ ( نیٹ نیوز) مصطفی کمال نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) صدر کے عہدے سے استعفی دے دیا جسے آئی سی سی نے قبول کرلیا ہے ۔ آئی سی سی کے صدر ہونے کی حیثیت سے مصطفی کمال کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے ورلڈ کپ فائنل میچ کی وننگ ٹرافی فاتح ٹیم کو دینے کا حق حاصل تھا لیکن انہیں اس سے محروم کیا گیا اور ان کی جگہ یہ اعزاز آئی سی سی کے چیئرمین سری نواسن کو ملا اور انہوں نے ٹرافی کینگروز کے حوالے کی تھی جس پر کمال نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ بنگلہ دیشی ایڈمنسٹریٹر کی طرف سے جاری کردہ اعلامیئے کے مطابق آئی سی سی نے مصطفی کمال کو نظر انداز کر کے نا انصافی کی ہے اور اس کے بعد کمال کیلئے بطور آئی سی سی صدر کام جاری رکھنے کا جواز نہیں بنتا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دیا ہے۔ مصطفی کمال نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میری آئی سی سی سے دوبارہ درخواست ہے کہ وہ نواسن جیسے لوگوں کو کرکٹ امور سے دور رکھے، ایسے عناصر کی وجہ سے کرکٹ کا کھیل تباہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی خود ان چیزوں کا جائزہ لے اور دیکھے یہ لوگ کون ہیں، کیا کر رہے ہیں اور کس طرح سے آئی سی سی کے امور چلا رہے ہیں تو تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ میں نے استعفی کیوں دیا ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مشترکہ طور پر منعقدہ گیارہویں ورلڈ کپ کے سلسلے میں بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلے گئے کوارٹر فائنل میچ کے دوران متنازع فیصلے پر مصطفی کمال ایمپائرز سمیت آئی سی سی پر خوب برسے جس پر آئی سی سی حکام نے انہیں کڑی تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ اس میچ میں بھارتی اوپنر روہت شرما فل ٹاس گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے تھے اور ایمپائر علیم ڈار نے اسے نوبال قرار دے دیا تھا حالانکہ ٹی وی ریپلیز میں صاف دکھائی دے رہا تھا کہ یہ گیند کسی بھی طرح سے کمر سے اونچی نہیں تھی۔ بھارت کی فتح کے بعد مصطفی کمال نے آئی سی سی معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن آئی سی سی نے ان کے بیان کو افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا تھا آئی سی سی نے مصطفی کمال کا استعفی قبول کرلیا ہے ۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی